• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایلون مسک کی دولت ایک ہزار ارب ڈالر سے بڑھ گئی ہے ۔وہ مریخ اور چاند سمیت ہمسایہ اجرامِ فلکی مسخر کرنا چاہتا ہے۔ وہ تمام کاروباری لوگوں کا رول ماڈل ہے ۔ پاکستان میں جو شخص کاروباری لوگوں کا رول ماڈل ہے ،ریاست اس وقت اس پہ نامہربان ہے ۔ اس نے پاکستان سے اپنی سرمایہ کاری سمیٹی اور محفوظ و مامون دبئی کا رخ کیا۔ تقدیر نے ایسا پلٹا کھایا کہ ایران امریکہ کشمکش میں دبئی بھی میدانِ جنگ بن گیا ۔ سب کچھ ڈوب گیا۔

یہ ہے انجام تمام تر انسانی تگ و دو کا۔ پرویز مشرف کا انجام سب کو یاد ہوگا۔ ملکی سیاست میں قہر و جلال کی علامت غلام مصطفیٰ کھر کی قابلِ رحم تصاویر آج کل سوشل میڈیا پہ وائرل ہیں جو شاید فالج سے دوچار ہیں۔ آخر کار انسان کو تھکا دیا جاتا ہے ۔ اقبالؔ نے کہا تھا :

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل

یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مراد؟

 دور تک انسان دیکھ ہی نہیں سکتا۔ آج اس ملک کی اشرافیہ چینی اور بجلی کارخانوں کی مالک ہے ۔ پچیس کروڑ انسان ان کیلئے صرف ایک منڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ڈونلڈٹرمپ عالمی حالات سے فائدہ اٹھا کر دولت اکٹھی کر رہا ہے ۔ہر شخص دیوانہ وار دولت اکٹھی کر رہا ہے ۔ اسرائیل اسی طرح مغربی کنارے اور غزہ پہ قبضہ کر رہاہے ، جیسے یورپینز نے امریکہ پر کیا تھا۔ ان تمام انسانوں کی عمر بڑھتی جا رہی ہے ، چہروں پہ جھریاں پڑ رہی ہیں ، کمرجھک رہی ہے ، بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے لیکن ہوس کم نہیں ہو رہی۔

’’کثرت کی خواہش نے تمہیں مار ڈالا ۔ حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں ۔ہاں تم جلد جان لو گے ۔پھر یقیناً تم جلد جان لو گے۔"

یقیناً اگر تم یقین کے ساتھ علم رکھتے (تو مال اکٹھا کرنے کا یہ دیوانگی آمیز طرزِ عمل اختیار نہ کرتے )

آخر انسان کتنا سرمایہ اکٹھا کر لے تو وہ مطمئن ہو سکتاہے ؟ رسالت مآب ؐ ؐ نے کہا تھا : آدمی کے پاس اگر ایک سونے کی وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی آرزو کریگا اور قبر کی مٹی کے سوا کوئی شے اس کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔

ایک مرتبہ پیپلزپارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم کا اکائونٹ آڈٹ میں آگیا۔ پتہ چلا ، کسی انجان شخص نے ان کے اکائونٹ میں کئی کروڑ روپے جمع کرادیے تھے ۔فرمایا: میں نہیں جانتا کہ وہ شخص کون تھا اور کیوں اس نے یہ رقم جمع کرا ئی ۔ سب اس صورتحال سے نہایت محظوظ ہوئے ۔ کچھ عرصے بعد لندن سے تصاویر موصول ہوئیں تو کینسر میں مبتلا لیڈر پہچانا نہیں جا رہا تھا۔

نہ کر بندیا میری میری

نہ ایہہ تیری نہ ایہہ میری

چار دناں دا میلہ

دنیافیر مٹی دی ڈھیری

دولت دائمی حیات نہیں بخش سکتی ۔سب سے پہلی چال جو ابلیس نے انسان کے خلاف چلی ، وہ دائمی زندگی کا لالچ تھا۔آدمؑ سے کہنے لگا: کیا میں بتائوں تمہیں ہمیشہ کا پیڑ اور وہ بادشاہی جس میں کمی نہ آئے؟ باقی تاریخ ہے ۔ادویات بنائی جا رہی ہیں ۔ تجربات ہو رہے ہیں ۔ انسان دنیا میں اپنی زندگی کو کس حد تک بڑھا سکتاہے ۔ابھی تک تو صورتحال یہی ہے کہ موت آتی ہے تو آئن سٹائن سے لے کر سٹیفن ہاکنگ تک قیمتی سے قیمتی انسان ایک بکری کی طرح مرجاتاہے ۔ دوسری طرف اسی دنیا میں بے شمار لوگ وہ ہیں ، جو خود موت کا انتظار کررہے ہیں کہ اس اذیت ناک زندگی سےچھٹکارا پائیں۔

تمام لوگ دولت اکٹھی کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں ۔ ہر ایک مضطرب۔ زرداری صاحب چاہتے ہیں بلاول وزیرِ اعظم بن جائے۔ میاں محمد نواز شریف آزردہ ہیں کہ قوم نے ان کی قدر نہ کی ۔ مریم صاحبہ اگر وزیرِ اعظم بن جائیں تو شاید میاں صاحب کے دکھوں کا کچھ مداوا ہو سکے ۔ٹرمپ کا حال سب کے سامنے ہے ۔نیتن یاہو اسلئے جنگیں جاری رکھنے کا خواہشمند ہے کہ اسکے خلاف کرپشن کیسز آگے نہ بڑھ سکیں۔

ہر انسان جتنا مال اکٹھا کرتا چلاجا رہا ہے ، اسی قدر تشنگی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک بڑے کرپشن کیس میں سندھ کی ایک سیاسی شخصیت کو گرفتار کیا گیا تو عدالت سے انہوں نے کہا : میرا وزن تیزی سے گر رہاہے ۔ مجھے میرے ماہرِ نفسیات تک رسائی دی جائے ۔تفو، ایسی دولت پر جو انسان کو سکون نہ بخش سکے۔

آخر کار اس عظیم ہستی کی زیارت مجھے نصیب ہوئی۔ سپر سٹور میں بچت پہ تلی اس بوڑھی عورت نے سیلزمین سے کہا  اتنا مہنگا گلاس؟ اتنی مہنگی پلیٹ ؟کیا تمہیں لحاظ ہے کہ ایک بیوہ تمہارے سامنے کھڑی ہے ۔ ایک چھوٹا سا پرس اس کے ہاتھ میں تھا، جسکی زپ کھلی تھی۔ سیلز مین نے اسے بتایا کہ اس کے پرس سے دس روپے کا ایک نوٹ نیچے گر گیا ہے ۔پھر وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا ۔

ایک شخص جو یہ ماجرا دیکھ رہا تھا، نجانے اسے کیا ہوا۔وہ بوڑھی عورت کے حضور جھکا اور اس نے کہا : آپ نے جو پلیٹ گلاس لینا ہے لے لیجیے ، ادائیگی ہوجائے گی۔بوڑھی عورت نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور بے اختیار مسکرائی ۔ بولی : میں توخود دینے والوں میں سے ہوں ۔ اس کا مطلب مگر یہ تو نہیں کہ دکان والے مجھے لوٹ لیں ۔ وہ شخص سکتے میں آگیا۔

میں نے بوڑھی عورت کو دیکھا ۔ایلون مسک، ڈونلڈٹرمپ، سارے مخدوم، سارے بادشاہ ، سارے بجلی اور چینی کے کارخانوں والے مجھے اس کے حضور منگتے نظر آئے۔ اللّٰہ نے اسے قناعت کی دولت عطا کی تھی۔ اس سے زیادہ دولت مند اور کون ہوسکتا تھا۔ میرا دل چاہا ، اس پہ پھول برسائوں، اس کی بیعت کر لوں ۔میرا پیرِطریقت ۔ ایک راضی روح ۔ راضیۃ مرضیۃ۔

تازہ ترین