• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کے بجٹ کا کل آمدنی کا حجم کتنا ہے؟ وزیرِاعلی نے پوسٹ بجٹ کانفرنس میں بتا دیا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ بجٹ کا کل آمدنی کا حجم 3525 ارب روپے ہے۔

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل جو بجٹ پیش کیا گیا، وہ پی پی پی کا 18 واں مسلسل بجٹ تھا، ہمیشہ کوشش کی کہ بجٹ میں لوگوں کو سہولتیں دیں، وفاق کو ایسے اقدامات کرنے پڑے جو پہلے زیرِ غور نہیں تھے۔

اُنہوں نے بتایا کہ کہ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے کو ریوائز کرنے کا کہا گیا، پیپلز پارٹی نے اس فارمولے کو مسترد کر دیا، کیونکہ یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جب وفاق نے صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو صورتِ حال سے آگاہ کیا، ایسا ممکن نہیں تھا کہ صوبے و سیاسی جماعتیں ملک کی خاطر تعاون نہ کریں، اس لیے طے ہوا کہ جو بھی کام کرنا ہے، آئین کے تحت کرنا ہے، اس لیے آرٹیکل 164 کے مطابق صوبوں نے وفاق کو گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا، آئین کا یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا، ملکی دفاع اور یکجہتی کی خاطر سب صوبوں نے تعاون کیا، گرانٹ دینے کی صوبوں نے یقیناً ایک قیمت ادا کی ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کا ہدف 15.26ٹرلین ہے لیکن وہ ہدف پورا نہیں کر پاتے، 13 ہزار 350 ارب صوبوں کو حصہ ملے گا، ہر سال ایف بی آر ہدف کم پورا کرتا ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ بورڈ آف ریوینیو کی صورتِ حال ایف بی آر سے بہتر ہے، سندھ بورڈ آف ریوینیو نے 23 فیصد ہدف حاصل کیا ہے، ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 15.264ٹرلین ہے، 13.35 ٹرلین کی وصولیوں پر صوبوں کو حصہ ضرور ملے گا، اس سے اوپر کی وصولیاں صوبوں کو ملیں گی اور وہ صوبے وفاق کو دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال ہمیں لگتا ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کر لے گا، نینشل اسٹریٹجک انیشی ایٹو کے فنڈز پورے کرنے ہیں، اس لیے وفاق ایف بی آر پر پریشر ڈالے گا، ہمیں وفاق سے 2 ہزار 263 ارب روپے ملیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم نے تنخواہوں اور پینشن میں7 فیصد اضافہ کیا ہے،  آئندہ مالی سال میں کم سے کم آمدن 43 ہزار روپے ہو گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ کو وفاقی محصولات میں مئی تک 441 ارب روپے کا خسارہ ہے، صوبائی وصولیوں میں 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، بجٹ میں کل 300 ارب روپے کے قریب خسارہ ہے، پچھلے سال ہم نے 1 ہزار ارب روپے کا ریکارڈ پی ایس ڈی پی بنایا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ وفاق سے کہا ہے کہ پیسے پورے دیں گے تو ہی ہم گرانٹ دیں گے، صوبائی محصولات کا 456 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا ہے، ایکسائز کا ٹارگٹ کم کیا ہے، کل محصولات 3.083 کھرب روپے ہیں اور ہمارے بجٹ کا کل آمدنی کا حجم 3525 ارب روپے ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید