واقعہ کو811 برس بیت گئے۔ آٹھ صدیاں مختصر عرصہ نہیں۔ مگر جو معاملہ جون1215کی15تاریخ کے دن شروع ہوکربظاہر اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا وہ شاید ابھی مرحلہ سفر میں ہی ہے۔ نت نئے پہلو تاحال بھیس بدل بدل کر مختلف مقامات پر سامنے آرہے ہیں۔دریائے ٹیمزاس روز پرسکون تھا۔ مگر اس کےکنارے شاہی محلات کے اندر منظم اور رسمی اندازمیں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ریاست کے اہم معاملات زیر غور آئے۔ یہ ملاقات اس اعتبار سے مختلف کہی جاسکتی ہے کہ اس میں ماحول کچھ بدلا بدلا محسوس ہوتا تھا۔
انگلستان کا بادشاہ جان وہاں موجود تھا۔ تاج اس کے سر پر تھا مگر اقتدار ہاتھ سے پھسل رہاتھا۔کنگ جان کی حکومت کئی برسوں سے دباؤ میں تھی۔ جنگیں، مالی بحران،بڑھتے ٹیکس اور انصاف کے نظام پر بادشاہ کی اجارہ داری۔ یہ سب عوامل یکجا ہوکر ایسا ماحول بنا چکے تھے جس میں رعایا اور اشرافیہ دونوں محسوس کرنے لگے تھے کہ طاقت کا بہاؤ ایک ہی سمت میں ہے۔ 15۔ جون کو یہ دباؤ نقطہ عروج پر پہنچ گیا۔ جاگیرداروں(بیرنس) نے کھل کر بادشاہ پر دباؤ ڈالا۔ مطالبہ سادہ نہیں تھا اور واضح بھی تھا کہ اب فیصلے ایک شخص کی مرضی سے نہیں ہوں گے۔یہ وہ لمحہ تھا جب بادشاہت پہلی بار اپنی ہی قلم رو میں ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ بظاہر یہ ایک اندرونی سیاسی جھگڑا تھا۔ ایک بادشاہ اور اس کے امراء کے درمیان محصولاتی اورانتظامی اختلاف ایسا مقامی تنازع تھاجو اکثر ملکوں اور سلطنتوں میں ہوتا رہتا ہے۔ مگر تاریخ بہت سی چیزوں کو الگ الگ اندازمیں محسوس کرتی ہے۔ کچھ چیزیں وقتی طور پر دب جاتی ہیں اور برسوں، صدیوں بلکہ ہزاروں برس بعد عجیب عجیب انداز میں نمایاں ہوتی ہیں کچھ چیزیں بظاہر مقامی ہونے کے باوجود ایسے طاقتور تصورات کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ جو نہ صرف پوری دنیا کو اپنے احاطے میں لے لیتے ہیں بلکہ مختلف مقامات پر مختلف انداز میںدہراؤکی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ جملہ مذکورہ ، واقعہ کی پہچان بن گیا کہ’’ جھگڑا تو مقامی تھا، مگر بات آگے نکل گئی‘‘۔ کیونکہ اسی دباؤ کے اندر سے ایک نیا سیاسی خیال جنم لے رہا تھا۔ یہ خیال کہ طاقت کو محدود کیا جاسکتاہےاور حکمران بھی قانون سے بالا نہیں ہوسکتا۔ یہ سوچ اس وقت مکمل شکل میں موجود نہیں تھی مگر اس کے بیج اسی میدان میں بوئے جارہے تھے۔ اسی سیاسی کشمکش سے وہ دستاویز وجود میں آئی جسے تاریخ نے غیر معمولی اہمیت دی اور جسے منشور اعظم Magna Cartaکہا گیا۔اسے ایسےچارٹر کے طور پر دیکھا گیا۔ جس نے پہلی بار بادشاہ اور قانون کے درمیان لکیر کھینچنے کی کوشش کی۔
یہ کوئی انقلابی منشور نہیں تھا نہ کوئی خونریز انقلاب ،نہ کسی قسم کا فلسفیانہ اعلان۔ایک سادہ سا سیاسی سمجھوتہ تھا مگر اس کے اندر وہ طاقت چھپی ہوئی تھی جو صدیوں بعد کے آئینی نظاموں پر اثر انداز ہوتی اور ان میں تبدیلیاں لاتی رہی۔ اس دستاویز نے کئی بنیادی اصولوں کو ابھارا۔ بغیر قانونی عمل کے کسی کو قید نہ کیا جانا، ٹیکس اور فیصلوں میں یک طرفہ اختیار نہ ہونا اور انصاف کو ذاتی مرضی سے آزاد کرنا۔ یہ سب اس دور کیلئے غیر معمولی باتیں تھیں۔ مگر یہی وہ باتیں تھیں جنہوں نے آگے چل کر ریاست اور شہری کے تعلق کو نئی تعریف دی۔ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہ ہوسکا۔ بادشاہ اور امراء کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ بعض اوقات اسے نظر انداز بھی کیا گیا لیکن تاریخ میں ایسا ہوتا ہے کہ نئے اصول فوراً مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتےبلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔
یہی صورت حال میگنا کارٹا( یعنی عظیم منشور کہلانے والے معاہدے) کے ساتھ بھی پیش آئی جو ابتدائی کمزوریوں کے باوجود دوبارہ ابھرا اور آہستہ آہستہ ایک نئی روایت کی شکل اختیار کرگیا۔
وقت گزرتا گیا اور جو چیز ایک جھگڑے کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ آہستہ آہستہ ایک فکری بنیاد بن گئی۔انگلستان میں پارلیمانی نظام نے جنم لیا۔ بادشاہت آئینی حدود میں آگئی قانونی بالادستی ایک اصول کے طور پر تسلیم کی جانے لگی۔ پھر یہی سوچ یورپ سے ہوتی ہوئی نئی دنیا تک پہنچی جہاں آئین سازی کے وقت انسانی حقوق اور حکومتی حدود کا تصور اسی پرانی دستاویز کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آج کی دنیا میں بھی جب کسی آئین میں ’’قانون کی بالادستی‘‘ ، ’’انسانی حقوق یا حکومت کی حدود‘‘ کے الفاظ لکھے جاتے ہیں توان میں کہیں نہ کہیں اس پرانی15جون کی گونج سنائی دیتی ہے۔ انگلستان میں یہی سوچ بعد میں پارلیمانی نظام کی بنیاد بنی اور جہاں جہاں یہ سوچ پہنچتی رہی آہستہ آہستہ یہ سیاسی اصول نمایاں ہوتا گیا کہ ریاست کا مطلب صرف حکمراں نہیں ہوتا بلکہ ایک نظام ہوتاہے جس میں قانون سب سے اوپر ہوتا ہے۔
اس باب میں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ میگنا کارٹا کہلانے والی دستاویز جن افراد کی منشا سے وجود میں آئی ان میںسےکسی کے اپنے ہاتھ سے کئے گئے دستخط اس پر ثبت نہیں۔ اس دور کا برطانیہ آج کے انگلینڈ سے بہت مختلف تھا۔ اس زمانے میں حکمراں طبقے کی زبان انگریزی نہیں بلکہ فرانسیسی تھی جبکہ سرکاری دستاویزات لاطینی میں تحریر کی جاتی تھیں۔ دستخط کا رواج بھی آج کی طرح عام نہیں تھا۔ قانونی دستاویزات کی توثیق عموماً مہرلگاکرکی جاتی تھی۔ بادشاہ ہوں یا بیرنس، سب کے پاس اپنی اپنی مہر ہوتی تھی جو دستاویز پر ثبت کردی جاتی تھی۔ ایک طرح سے دستاویز کی قانونی حیثیت اس پر لگائی گئی مہر سے مسلم ہوتی تھی۔
اس دور میں خواندگی محدود تھی اور بہت سے لوگ حتیٰ کہ بعض با اثر افراد بھی تحریری امورکیلئے کاتبوں اور مذہبی اہل ِعلم پر انحصار کرتے تھے۔ اس لئے میگنا کارٹا کو سمجھتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ ایسے معاشرے کی دستاویز ہے جس میں اقتدار ،زمین اور وسائل کا بڑا حصہ بادشاہ، بیرنس اور کلیسا کے ہاتھ میں تھا، جبکہ عام لوگ سیاسی فیصلوں میں بہت کم کردار رکھتے تھے۔