• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا امریکا میں واقعی قیمتیں کم ہو رہی ہیں؟ ٹرمپ کے دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں تیل کی فراہمی بحال ہو چکی ہے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے، روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں کم ہو رہی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں میں کچھ باتیں درست ہیں جبکہ بعض مبالغہ آمیز یا گمراہ کن ہیں۔

ٹرمپ کا یہ دعویٰ جزوی طور پر درست ہے، امریکی اسٹاک مارکیٹ کا اہم اشاریہ  حال ہی میں ریکارڈ سطح پر پہنچا، جس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی امیدیں اور نئی سرمایہ کاری رہی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی عام امریکی شہری کی معاشی حالت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، کیونکہ تقریباً 38 فیصد امریکی شہری اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کچھ کمی ضرور دیکھی گئی ہے، امریکا میں 1 گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت 4.48 ڈالرز سے کم ہو کر تقریباً 3.99 ڈالرز تک آ گئی ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کمی محدود ہو سکتی ہے۔

 جنگ کے دوران تیل کی سپلائی، شپنگ اخراجات، انشورنس اور ترسیلی لاگت میں اضافے کے اثرات ابھی بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا میں افراطِ زر 4.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ خوراک، مشروبات، پھل، سبزیوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اجرتوں میں اضافہ قیمتوں کے مقابلے میں کم رہا ہے، جس کے باعث عام امریکیوں کی قوتِ خرید متاثر ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں ملازمتیں ریکارڈ سطح پر ہیں، تاہم سرکاری اعداد و شمار اس دعوے کی مکمل حمایت نہیں کرتے۔

مئی میں امریکی معیشت میں تقریباً 172 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ ٹرمپ کے دور میں سب سے زیادہ 214 ہزار ملازمتیں مارچ میں پیدا ہوئی تھیں۔

اس کے مقابلے میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 300 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوتی تھیں۔

مزید یہ کہ حالیہ مہینوں میں ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور مئی میں تقریباً 97 ہزار افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔

ٹرمپ کا یہ دعویٰ کافی حد تک درست سمجھا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے کے بعد تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو رہی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

تقریباً دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اور اس راستے کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بعض دعوے حقیقت پر مبنی ہیں، خاص طور پر اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے، تاہم قیمتوں میں نمایاں کمی اور روزگار کے ریکارڈ اضافے کے دعوے زمینی حقائق سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید