• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت (MOU) کو 2015ء میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے جوہری معاہدے (JCPOA) سے بہتر قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے کہ آیا نیا معاہدہ واقعی اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو گا یا نہیں۔

فرانس میں الیکٹرانک طور پر دستخط کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کے تحت ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے اور نہ بنانے کا عہد کیا ہے، جبکہ اس کے بدلے میں امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، 300 ارب ڈالرز کے تعمیرِ نو فنڈ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

نئے معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی شرائط طے نہیں کی گئیں بلکہ اس معاملے کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی دور کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس کے برعکس 2015ء کے JCPOA میں ایران کو 15 سال تک صرف 3.67 فیصد تک یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے کافی تھی لیکن جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے بہت کم تھی۔

ماہرین کے مطابق موجودہ یادداشت میں یہ واضح نہیں کہ ایران کو یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ہو گی یا نہیں اور اگر ہو گی تو کس حد تک۔

نئے معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالرز کے اقتصادی اور تعمیرِ نو منصوبے پر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اوباما کے معاہدے میں پابندیوں میں نرمی ایران کی جوہری شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی، جبکہ موجودہ معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کا شیڈول حتمی مذاکرات کے بعد طے کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 300 ارب ڈالرز کا مجوزہ فنڈ ایران کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے اور اسے بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔

معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کو دوبارہ دستیاب بنانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں اوباما کے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے ایران کو مالی فوائد دینے کو بڑی غلطی قرار دیا تھا، لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ یہ رقم ایران ہی کی ملکیت ہے اور کسی وقت اسے واپس کرنا پڑے گا۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے زیادہ تر منجمد اثاثے امریکا کے پاس نہیں بلکہ چین اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہیں، اس لیے ان کی واپسی مکمل طور پر واشنگٹن کے اختیار میں نہیں۔

نئے معاہدے کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

جنگ کے دوران ایران نے اس راستے کو بند کر دیا تھا جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا، معاہدے کے تحت امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا جبکہ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مذاکرات کریں گے۔

ماہرین کے مطابق اس معاملے نے ایران کو مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور پوزیشن فراہم کی ہے۔

جیسے اوباما دور کے معاہدے میں لبنان، غزہ یا یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کا ذکر نہیں تھا، اسی طرح نئے معاہدے میں بھی حزب اللّٰہ، حماس اور حوثیوں سے متعلق کوئی واضح شرط شامل نہیں کی گئی۔

البتہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا ذکر موجود ہے، تاہم اسرائیل یا حزب اللّٰہ کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت محض ایک ابتدائی فریم ورک ہے اور اس میں کئی اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں، یہ معاہدہ فی الحال اوباما دور کے JCPOA سے زیادہ جامع یا مؤثر دکھائی نہیں دیتا، البتہ اگر آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات میں تفصیلی شرائط طے ہو جاتی ہیں تو صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید