• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کا مودی پر طنز، مسکراتے ہوئے قاتل قرار دے دیا

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ’فرشتہ‘ اور ’قاتل‘ قرار دے کر سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔

تجارتی معاہدے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ مودی دنیا کے سخت ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ بہت خوبصورت اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن حقیقت میں وہ بہت سخت ہیں، قاتل اور بے رحم ہیں۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

متعدد صارفین نے 2002ء کے گجرات فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے مودی پر تنقید کی ہے اور یاد دلایا ہے کہ ماضی میں انہیں فسادات میں کردار کے الزامات کے باعث امریکا کا ویزا دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

ایک صارف نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے مودی کو ’قاتل‘ قرار دیا جبکہ مودی کے پاس مسکرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

کئی سوشل میڈیا صارفین نے مودی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات نے بھارت کے عام شہریوں اور اقلیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، بعض ناقدین نے طنزیہ انداز میں انہیں ’موت کا فرشتہ‘ بھی قرار دیا ہے۔

کچھ صارفین نے ٹرمپ اور مودی کے تعلقات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان نہ حقیقی احترام نظر آتا ہے اور نہ ہی اعتماد، جبکہ بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے مودی کی تعریف دراصل مستقبل میں بھارت پر تنقید یا دباؤ ڈالنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

 ایک صارف نے لکھا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر مذاق بنتا جا رہا ہے اور اس کی قیادت واشنگٹن سے اپنے لیے احترام حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

کچھ صارفین نے مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ دراصل مودی کا مذاق اڑا رہے تھے اور ان کا پورا بیان طنزیہ انداز لیے ہوئے تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید