چین کی سڑکوں پر انسان نما روبوٹس بھیک مانگتے نظر آرہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اے آئی انقلاب سے کوئی بھی محفوظ نہیں، چین کے کئی شہروں میں جدید انسان نما روبوٹس سڑکوں پر بھیک مانگتے ہوئے دیکھے گئے۔ ان کے پاس ایسے اشارے موجود ہیں جن پر جملے درج ہیں، مثلاً براہِ کرم میرا بجلی کا بل ادا کر دیں۔
لوگ کافی عرصے سے مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس کی جانب سے اپنی ملازمتیں چھن جانے کی بات کر رہے تھے، لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بھکاری بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہ ربوٹس اب حقیقی انسان بھکاریوں کے مختص علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔
ہانگ کانگ کے ایک میڈیا ادارے کے مطابق چین کے صدر مقام بیجنگ، چینگڈو اور فوزو جیسے شہروں کی سڑکوں پر متعدد ہیومنائیڈ روبوٹس بھیک مانگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک نیا رجحان ہے۔
جن لوگوں نے یہ روبوٹ وہاں بٹھائے تھے، انہوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ وہ درست انداز میں نظر آئیں۔ کچھ روبوٹس گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سر جھکے ہوئے تھے، جبکہ کچھ اپنے انسانی ہینڈلرز کے سامنے جھکے بیٹھے تھے۔ ان کے پاس ایسے پیغامات درج تھے جیسے، میرے پاس فون چارج کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور براہِ کرم میرا بجلی کا بل ادا کر دیں۔ ساتھ ہی آن لائن ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈز بھی موجود تھے۔
بھیک مانگنے والے روبوٹس کی یہ تصاویر اس ہفتے چین میں تیزی سے وائرل ہوئی ہیں، جس کے بعد اس پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس انھیں انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہونے کا کہا تو بعض نے اس رجحان کی حقیقت اور تصاویر کی اصلیت پر شک کا اظہار کیا۔
انسانوں جیسے روبوٹس جن میں یونی ٹری جی ون اور ایچ ٹو ماڈلز شامل ہیں نہایت ہی ایڈوانس اور مہنگے ہیں، اس لیے انہیں سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا مالی لحاظ سے احمقانہ لگتا ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص محض توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہو تو یہ الگ بات ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عجیب و غریب مناظر دراصل فنی تنصیبات ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو انسانوں اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کے درمیان بڑھتے ہوئے اور بعض اوقات مضحکہ خیز ہوتے تعلق پر غور کرنے کی ترغیب دینا ہے۔