عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بھولنے کی بیماری ’ڈیمنشیا‘ یا الزائمر صرف بوڑھے لوگوں کو ہوتا ہے، لیکن اگر یہ مرض 65 سال کی عمر سے پہلے لاحق ہو جائے تو اسے ’ارلی آنسیٹ ڈیمنشیا‘ کہا جاتا ہے۔
فن لینڈ کے ماہرینِ اعصاب کے مطابق اس موذی مرض کی علامات مریض کے برین ٹیسٹ یا ڈاکٹروں کی تشخیص سے 15 سال پہلے ہی اس کے کام کی جگہ پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
نیورولوجسٹ ڈاکٹر اینو سولیے کی سربراہی میں محققین نے ڈیمنشیا کے 793 مریضوں اور 7 ہزار صحت مند افراد کی زندگیوں اور ان کی آمدنی کا 12 سال تک موازنہ کیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ ڈیمنشیا کا شکار افراد اپنی ذہنی صلاحیت برقرار نہ رہنے کے باعث کام میں کم پروڈکٹو ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ تشخیص سے 15 سال پہلے ہی اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں سالانہ اوسطاً 13 ہزار 800 ڈالرز کم کما رہے تھے۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یادداشت کمزور ہونے کی وجہ سے ایسے مریض دفتری ملاقاتیں بھول جاتے ہیں، پرانے کام کرنے کا طریقہ یاد نہیں رکھ پاتے اور گفتگو پر توجہ نہیں دے پاتے۔ نتیجتاً وہ وقت سے پہلے بےروزگار ہو جاتے ہیں یا ملازمت چھوڑ دیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اگر مریض کو ’فرنٹوٹیمپورل ڈیمنشیا‘ ہو تو اس کی کارکردگی اور آمدنی 11 سے 15 سال پہلے گر جاتی ہے جبکہ ’الزائمر‘ کے مریضوں میں یہ تبدیلی تشخیص سے 6 سال پہلے نمایاں ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کام کے دوران ایسی غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جائیں تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے فوری چیک اپ کروانا چاہیے کیونکہ ادویات کے ذریعے اس مرض کے پھیلاؤ کو سست کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔