• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کالعدم ایکشن کمیٹی انتشار پھیلانے کے درپے ہے: سیاسی رہنما آزاد جموں و کشمیر

—یو ٹیوب ویڈیو گریب
—یو ٹیوب ویڈیو گریب

 آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ کشمیر میں احتجاج کا غلط رویہ اپنایا گیا، کالعدم ایکشن کمیٹی انتشار پھیلانے کے درپے ہے، کشمیری عوام کا اس انتشاری گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔

مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق کا پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ حالات تصادم کی طرف جانے سے روک لیے گئے ہیں، انتشار کے نتیجے میں 3 سے 4 ارب روپے کا نقصان ہوا اور 17 لوگ اپنی جانوں سے گئے، جرائم کا ارتکاب کرنے والے قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکیں گے، پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے کشمیر کے لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی، کشمیری عوام نے انتشاری گروہ کو مسترد کر دیا ہے، پاک فوج اپنے نظم ونسق کی وجہ سے ایک منظم فوج ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں احتجاج کا غلط رویہ اپنایا گیا، حتیٰ کہ حکومت کی جانب سے ان کو بہت رعایت دی گئی، اس دوران انفارمیشن کے مطابق 17 لوگ جان سے گئے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ یہ ایف آئی آر واپس لی جائیں، انہوں نے احتجاج میں تشدد کا راستہ اپنایا، جبکہ ہم نے ہمیشہ پُرامن جدو جہد کی ہے۔

سردار عتیق کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز دنیا کی بہترین افواج ہے، ہماری فوج میں توڑ پھوڑ کی کوشش کی گئی مگر یہ کامیاب نہیں ہوئے، صدر ٹرمپ بھی کئی بار ہمارے آرمی چیف کی تعریف کر چکے ہیں، ہمارا فوج سے تعلق آج کی بات نہیں ہے، یہ بہت پرانا رشتہ ہے، ملٹری لیڈر شپ کا کشمیری عوام پر اعتماد ہے، تیسری عالمی جنگ بلاشبہ پاکستان نے ٹالی ہے، آج ساری دنیا امن کے لیے پاکستان کی معترف بن چکی ہے۔

شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی انتشار پھیلانے کے درپے ہے، ہمارے درمیان سیاسی اختلافات ضرور ہیں لیکن پاکستان کی سلامتی ترجیح ہے، انتشار پسند کارندوں نے اسپتالوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے23 ارب روپے کی شکل میں رقم ادا کی جس سے سستی ترین بجلی اور آٹا فراہم کیا گیا، اب بات حقوق سے بڑھ کر آئین پر چلی گئی ہے، بات جب تشدد تک جا پہنچی تو مشکلات بڑھ گئیں۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ پاکستان ہمارے لیے متبرک ریاست ہے، سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن پاکستان پہ کوئی دو رائے نہیں ہے، کشمیر کے 99 فیصد عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں، آج ایک صاحب اٹھے اور احتجاج کا منفی رویہ اپنایا، خواجہ مہران نے اپنی تقریر میں عوام کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی، سردار امان نے بھی پاکستان کی ریاست اور افواج کے خلاف بات کی، کشمیری عوام اور پاکستان کے درمیان نظریے کا مضبوط رشتہ ہے۔

نبیلہ ایوب خان نے کہا کہ چند گنے چنے لوگ پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، کشمیری عوام کا اس انتشاری گروہ سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کی بدولت ہی کشمیری عوام کھلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں، عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف بیانیہ قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے پاکستان کو اپنی منزل کا پیغام دیا، افواجِ پاکستان ہماری دفاعی سرحدوں کی محافظ ہیں، ہماری افواج خود گولی کھا کر ہمیں تحفظ دیتی ہیں، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن نافرمانی کرنے والوں کے لیے قدم بھی اٹھاتی ہے، یہ کوئی تحریک نہیں ہے چند لوگوں کا پاکستان مخالف ایجنڈا ہے۔

نبیلہ ایوب خان کا کہنا ہے کہ  یہ ہماری افواج کو عوام کو پاکستان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں، ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے، آزاد کشمیر میں شرحِ تعلیم وفاق سے بھی زیادہ ہے، ہمیں سستا آٹا اور سستی بجلی مل رہی ہے، ہم کہتے ہیں کہ یہ مذاکرات کے لیے آئیں ان کے جائز مطالبات مانے جا سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید