• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خسارے کا بجٹ، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائیگی: شفیع جان

مزمل اسلم (دائیں) ، شفیع جان (بائیں) - فوٹو: فائل
مزمل اسلم (دائیں) ، شفیع جان (بائیں) - فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی، بجٹ میں گرانٹ ان ایڈ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے۔

پشاور میں مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفر کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ وفاق سے زیادہ لوگوں کو خیبر پختونخوا کے بجٹ کا انتظار تھا،صوبے کا بجٹ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے 3 مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا ارادہ تھا، جس میں قانونی پیچیدگیاں آرہی تھیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، وفاق کو کوئی گرانٹ نہیں دی جائے گی، گرانٹ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات سے مشروط ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جب تک ملاقات نہیں ہوتی ہم کٹوتی نہیں کرنے دیں گے۔

شفیع جان نے کہا کہ 7 ماہ سے بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی ملاقات نہیں ہوئی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔

اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے وفاق سے کہا کہ ہمیں بانی سے مشورے کا موقع دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ چاروں صوبے پیسے دیں گے جبکہ ایسا نہیں، پی ایس ڈی پی کا ازسر نو جائزہ اور دیگر چیزیں ایجنڈے میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل متعلقہ فورم نہیں، لیگل فورم صرف این ایف سی ہے، 5 ہزار 260 ارب روپے ایف بی آر جمع کرے گا تو وہ صوبوں میں بانٹا جائے گا، وفاق صوبوں کے پیسے نہیں کاٹ سکتا، وفاقی بجٹ سے صوبائی بجٹ اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 6 ماہ میں این ایف سی ہوگا، وہ ہمارے پیسوں پر کٹ نہیں لگا سکتے، اس کیلئے ترمیم کرنی ہوگی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے باعث عام آدمی متاثر ہوتا ہے، عام آدمی کی پوزیشن کو نارمل کرنے کےلیے صوبائی بجٹ ہوتا ہے، ضم اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب کا خسارہ ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ میرا چوتھا بجٹ ہے، اس بجٹ کے بعد کوئی احتجاج نہیں ہوا، ہم نے بجٹ سے پہلے سب سے مشاورت کی، تاثر دیا جا رہا ہے کہ سرپلس کے بجٹ کو خسارے کے بجٹ میں تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 180 ارب میں سے وفاق نے صرف 95 ارب دیے، بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے، تعلیم، صحت اور پولیس کو سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا۔

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ پچھلے سال بھی ہم نے ٹیکس نہیں لگایا تھا اس سال بھی کم کیا ہے، ہم نے چیزیں آسان کی ہیں، ڈیجیٹل پیمنٹ میں کے پی سب سے پیچھے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہماری تنخواہوں کا حصہ 58 فیصد ہے، صحت کارڈ کے لیے 125 ارب روپے دیے ہیں، اس بار پولیس پروکیورمنٹ کے لیے ساڑھے 14 ارب رکھے ہیں، بی آر ٹی کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک جانے والے ذہین بچوں کو سود سے پاک قرضہ دیا جائے گا، ان ذہین بچوں کےلیے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورے پشاور کےلیے پبلک فری وائی فائے دیا جائے گا، فری وائی فائے کےلیے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق ہم نے کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے کی ہے، نجی شعبے بھی اس پر عمل کریں گے۔

قومی خبریں سے مزید