• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن کی تقاریر کے 5 نکات میں بانی پی ٹی آئی کا علاج، ملاقات اور شاعری شامل ہے، طارق فضل چوہدری

فوٹو:  فیس بک/ قومی اسمبلی
فوٹو:  فیس بک/ قومی اسمبلی 

وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بجٹ پر بحث میں اپوزیشن کی تقاریر 5 نکات کے گرد گھومتی رہی ہیں، ان نکات میں سب سے اہم ان کیلئے فرد واحد ہے، جن میں بانی پی ٹی آئی کا علاج، ملاقات اور شاعری شامل ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہماری حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ججز کی تقرری کا جو حق پارلیمان سے چھین لیا گیا تھا وہ واپس لیا گیا، آج وہ عدالتیں موجود نہیں ہیں جو "گڈ ٹو سی یو" کہیں، انہیں یہی ایک تکلیف ہے کہ عدلیہ میں اب گڈ ٹو سی یو والے نہیں رہے، پارلیمان صرف حکومت سے مضبوط نہیں ہوتا، آپ بھی پارلیمان کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ معرکہ حق اور ایران امریکا امن معاہدے کے بعد یہ احساس مضبوط ہوا کہ ایٹمی ملک ہونا کتنے فخر کی بات ہے۔ 3 سال میں 4 ہزار سے زائد فوجی افسران اور جوان شہید ہوئے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیاسی باتیں ہوتی رہتی ہیں، ہم غداری کے سرٹیفیکیٹ نہیں بانٹتے، کشمیر کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے 35 نکات پر عمل کیا، کابینہ کا سائز 36 سے 20 کردیا گیا یہ ان کا مطالبہ مانا گیا۔ مہاجرین کی سیٹوں پر کوئی وزیر نہیں ہوگا یہ بھی مانا گیا، دہشت گردی کی 177 ایف آئی آرز ختم کردی گئیں، ہمیں کشمیر سے محبت ہے، ہم نے کسی کو غدار نہیں کہا، کمیٹی سے 3 دن مذاکرات کے لیے بیٹھے رہے، ووٹ کے حق کیلئے مہاجرین نے قربانیاں دیں۔ ان کی 12 سیٹیں کیسے ختم کردیں، ہم آج بھی کہتے ہیں دھرنا ختم کریں مذاکرات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دو دفعہ اپوزیشن سیٹوں پر گئے مذاکرات کی دعوت دی، خوشی ہے اپوزیشن حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہے، جگہ کا تعین اپوزیشن کرے گی، بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے، امن اور ترقی کا راستہ پارلیمان سے نکلے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 21 جون بروز اتوار دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید