قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025ء کی منظوری دے دی۔
کمیٹی نے اسکریپ اور ویسٹ امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کی اور فیصلہ کیا ہے کہ ڈیوٹی 20 فیصد برقرار رہے گی۔
سیکریٹری وزارت تجارت کے مطابق کچھ ویسٹ انڈسٹریز منگواتی ہیں، جس سے فیول بنتا ہے، پاکستان میں ویسٹ سے فیول بنانے کی مشینری نہیں ہے۔
دوران اجلاس ممبر کمیٹی نفیسہ شاہ نے استفسار کیا کہ پاکستان ویسٹ سے بھرا پڑا ہے، اس سے فیول کیوں نہیں بناتے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ اور اسکریپ کی امپورٹ کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جبکہ ممبر کمیٹی ارشد ووہرا نے کہا کہ کراچی سے روزانہ 25 ہزار ٹن ویسٹ جمع ہوتا ہے۔
سیکریٹری تجارت نے کہا کہ زیادہ تر ویسٹ فرنس میں استعمال ہوتا ہے، جو انڈسٹریز منگواتی ہیں۔
نفیسہ شاہ نے یہ بھی کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی میں لوکل ویسٹ کی ری سائیکلنگ شامل کریں۔
دوران اجلاس سیکریٹری تجارت نے بریفنگ میں بتایا کہ پیپر پر کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کر رہے ہیں۔
ایف بی آر حکام نے بریفنگ میں کہا کہ نئے فائبر کی طرح ری سائیکل فائبر پر بھی 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، اب ری سائیکل فائبر کا بھی ایچ ایس کوڈ بنا دیا گیا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق پانی کے ریزروائر ٹینکس پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں، ایلومینیم پر کسٹم ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر رہے ہیں۔