• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا پاکستان کتنا حسین ہے۔ کیسے کیسے پیرہن ۔کیسے کیسے رنگ۔ کیسی کیسی خوشبوئیں۔ ایک ہی روز میں پانچوں بلکہ اس سے بھی زیادہ موسم اس کی وادیوں میں اتر آتے ہیں ۔

ایک زمانہ تھا جب آتش جوان تھا۔ ہم انتخابی مہم کی رپورٹنگ کیلئےپاکستان کے چاروں صوبوں میں گشت کر لیتے تھے۔ لیکن اسے دیکھنا نہیں کہہ سکتے... ٹک دیکھ لیا دل شاد کیا اور چل نکلے۔ نظارے کی خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ ہم اسے دیکھتے رہیں اور وہ ہمیں دیکھتا رہے۔ برسوں پہلے ہم گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فلسفہ کی طرف سے پشاور کانگریس میں شرکت کیلئے ٹرین سے جا رہے تھے۔ وہ بھی کیا دن تھے جب فلسفہ ہر کالج میں پڑھایا بھی جاتا تھا اور ہر سال اس کی بین الاقوامی کانگریس بھی ہوتی تھی۔ جہلم کے قریب سے ٹرین گزر رہی تھی تو پہاڑ مجھ سے ہم کلام ہونے لگے۔

کہتی ہے تمہیں کچھ تو پہاڑوں کی خموشی

کچھ دیر رکو کان لگاؤ تو سنو بھی

آج کل ہمارے بڑے بیٹے قاسم محمود کینیڈا سے آئے ہوئے ہیں۔ وہ جب بھی آتے ہیں تو ہماری ٹی وی اسکرین پر یوٹیوب جلوہ گر ہو جاتی ہے اور اس پر ہم پاک سرزمین دیکھتے ہیں وی لاگرز کہیں یا جہاں گرد یا فری لانسر کہ وہ خشک پہاڑوں میں اکیلے موٹر بائیک پر رواں دواں ہوتے ہیں اور ہمیں بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ہم عمومی انداز میں کہتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیانےسماج تباہ کردیا۔ ٹک ٹاک بیہودگی ہے۔ نئی نسل بےراہ رو ہو رہی ہےمگر سوشل میڈیا کا یہ استعمال تو لائق صد تحسین ہے۔عام دنوںمیں تو ہم ٹی وی چینلوں پر اپنے وزیراعظم، وفاقی وزراء اور وزرائے اعلیٰ کے جلوے ہی دیکھتے ہیں یا پھر تجزیہ کاروں کے تبصرے تکرار۔ ہمیں خیال ہی نہیں رہتا کہ اپنے عظیم وطن کو اپنے وی لاگرز کی آنکھوں سے دیکھیں۔جوسوشل میڈیا کو وطن پرستی کا وسیلہ بنا رہے ہیں۔ سمندر پار رہنے والے پاکستانی تو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رہتے ہوئےبھی اپنےشہروں،گاؤں،ریگ زاروں، برف پوش پہاڑوں، اپنی دھن میں بہتے دریاؤں، گنگناتی نہروں، سپنے دیکھتی اور دکھاتی جھیلوں کی لگن میں یوٹیوب پر اکثر جاتے رہتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ کون سا ہم وطن وی لاگر سندھ کے ڈیم، پنجاب کے دریا، بلوچستان میں ہواؤں کی تراشی ہوئی چٹانیں اور کے پی کے میں پریوں سے بھری وادیاں دکھا رہا ہے۔ کون روحانی فضیلتیں بانٹتے مزاروں پر لے جا رہا ہے۔ سر راہ لٹکتی خوبانی، سیب،آڑو۔اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔

آج کل ہم قاسم محمود کے طفیل صبح دوپہر شام اپنے وطن کی بلندیاں وادیوں کے لب و رخساردیکھ رہے ہیں۔ آفریں ہے ان نوجوانوں، بزرگوں پر جو دور دراز علاقوں سے زیادہ تر تنہا نکلتے ہیں۔ اپنی موٹر بائیک پر ضرورت کا تمام سامان رکھتے ہیں ۔زادِ راہ بھی اور ہمیں گھر بیٹھے ان دلکش دلربا وادیوں میں لے جاتے ہیں جو خیالوں میں ہی بستی ہیں ۔جہاں پریاں اترتی ہیں۔ جہاں عشق کی داستانیں جنم لیتی ہیں جہاں سمندروں سے ڈونگے دل دریا ہیں۔ جہاں کشتیاں آپ کو پانی کی گنگناہٹ سناتی ہیں۔ جہاں فطرت اپنے اصل روپ میں آپ کو دعوت نظارہ دیتی ہے جہاں گلیشیر خود آپ کے قریب آتے ہیں۔آپ کی تشنگی بجھاتے ہیں۔

میں تو عش عش کر اٹھتا ہوں کہ اصل میڈیا تو یہ ہیں جو ان مشکل علاقوں میں تن تنہا پہنچے ہوئے ہیں۔ انہیں کوئی خوف ہے نہ سکیورٹی کے خدشات۔ میڈیا ہے لوگوں کے جاننے کے حق کی آبیاری ۔اپنا وطن ہے اپنی ریاست کی حدود ہیں۔ ان وادیوں پہاڑی علاقوں سرنگوں جھیل کنارے رہنے والے ریگزاروں میں انتہائی دشوار زندگی گزارنے والے ہم وطن ان نوجوانوں کا استقبال کرتے ہیں ۔پوچھتے ہیں کہاں سے ۔ اس کے بعد وہ شناختی کارڈ نہیں مانگتے ۔کسی ایک علاقے کی آئی ڈی رکھنے والوں کو گولیوں سے نہیں بھونتے۔

ایک صاحب محترم سندھ اور بلوچستان کے پانی کے ذخیرے دکھانے نکلتے ہیں۔ بہت دوستانہ انداز میں جغرافیا ئی تاریخ بتاتے ہیں راستے کچے بھی ہیں ،پکے بھی۔ خیبر پختون خوا میں گلگت بلتستان میں آزاد جموں و کشمیر میں سڑکیں پختہ ہیں۔ آرام دہ محفوظ ندی نالوں دریاؤں پر محفوظ پل ہیں اور یہ ہمارے ہم وطن وی لاگر ہمیں ان علاقوں کی صدیوں سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔ وہ ریسرچ کر کے آتے ہیں۔ پھر اس تحقیق کی عملی تصدیق ان خطرناک گزرگاہوں پر سفر کر کے کرتے ہیں ۔ہمیں خود معلوم ہوتا ہے کہ دور افتادہ علاقوں میں پاکستانی سولر استعمال کر کے پانی کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔اب تو ہر اسمارٹ فون میں کیمرہ نصب ہے مگر یہ سیاحت کے دھنی مہنگے کیمرے بھی خریدتے ہیں اور اچھے مائیک بھی اب تو ڈرون بھی رکھتے ہیں کسی کسی کا ڈرون جب والہانہ حسن فطرت دیکھتا ہے تو وہ واپس ان کے پاس نہیں آتا دریا میں ڈوب جانے کو فوقیت دیتا ہے۔ احمد مشتاق یاد آ تے ہیں۔

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے

اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

میں گزشتہ ایک دو ہفتوں میں اتنا پاکستان دیکھ چکا ہوں جو گزشتہ سات دہائیوں میں بھی مشاہدہ نہیں کر سکا تھا۔ اپنے وطن سے میرا عشق کئی گنا بڑھ گیا ہے ۔میرا یہ یقین اور پختہ ہو گیا ہے کہ میرا پاکستان زمین کا سب سے خوبصورت ٹکڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی فراوانی سے ہمیں قدرتی حسن سے مر غزاروں سے چراگاہوں سے وادیوں سے آبشاروں سے اور جھیلوں سے نوازا ہے۔

راہوں نے بڑے پیار سے پھیلائے ہیں بازو

یہ تنگ مکاں چھوڑو کسی سمت چلو بھی

کتنا بے خوف ہے پنجاب کے ایک شہر کا یہ نوجوان جو دور دور تک پھیلے سناٹے میںیا کئی کئی انچ کی برفباری میں،اکیلا ہوا کو چیرتا پتھروں بھرے رستوں پر بائیک کو دوڑاتا مجھے ہر موسم کا پاکستان دکھا رہا ہے۔ اس کے ویوز لاکھوں میں ہیں ۔ میرے ریگزار میرے کوہسار میرے آبشار اس کے کیمرے کے ذریعے اطراف و اکناف عالم میں پہنچ رہے ہیں۔وی لاگرز 10 ہزار فٹ کی بلندی پر ہمیں ان علاقوں کی جزئیات جہات کلچر رہن سہن صفائی ستھرائی سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انتہائی تاریک راتوں میں ویران وادیوں میں ایک خیمہ تان کر یہ اکیلے رات ہمارے لیے گزار رہے ہیں۔ یہ 21ویں صدی کا میڈیا ہے اور کئی پرانی صدیوں کی جرات استقامت اور عزم کا پیکر۔ یہ خوبصورت دنیا حکمرانوں، سیاسی رہنماؤں ،ایم این اے، ایم پی اے ،چیئرمینوں، کونسلروں کے بغیر چل رہی ہے۔ بہت دلبری ہے بہت سحر انگیزی۔ اپنی مدد آپ کی مکمل تصویر۔ آزاد جموں کشمیر گلگت بلتستان کی رگ رگ میں دوڑتا خون دیکھ رہا ہوں۔ پنجاب ،سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خوا کے ملنسار سادہ لوگوں کی مہمان نوازی۔ کوئی بھی ان وی لاگرز کو لوٹتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے بلکہ ایک وقت کھانے کی میزبانی کرتا ہے۔ ہاتھ مل رہے ہیں دل مل رہے ہیں آفریں ہے ان وی لاگرز پر جو ہماری کشور حسین پر جگہ جگہ موجود جنتیں ہمیں دکھا رہے ہیں۔

تازہ ترین