• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا سے سرمایہ دار نکل رہے ہیں: جنید الطاف

فوٹو: سرحد چیمبر آف کامرس
فوٹو: سرحد چیمبر آف کامرس

سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر جنید الطاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا سے سرمایہ دار نکل رہے ہیں، یہاں کنٹینرز کو 4 سے 5 ماہ میں تو صرف کلیئرنس ملتی ہے۔ پنجاب میں قرضے دیے جاتے ہیں لیکن یہاں نہیں دیے جاتے، کہا جاتا ہے کہ یہاں دہشتگردی ہے۔

 تحریک انصاف کی قیادت اور سرحد چیمبرآف کامرس کے رہنماؤں نے پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں صدر سرحد چیمبر جنید الطاف، اسد قیصر اور شوکت یوسفزئی موجود تھے۔

اس موقع پر جنید الطاف نے کہا کہ نوجوانوں کو یہاں کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا۔ نوجوان بیرون ملک جا رہے ہیں، چیف سیکریٹری نے ہمیں بلایا کہ سستی گیس مل رہی ہے سرمایہ داروں کو یہاں بلائیں، ہم نے چیف سیکریٹری سے معذرت کی کہ یہاں مسائل ہیں۔

جنید الطاف نے کہا کہ سہیل آفریدی کے دفتر سے بزنس کمیونٹی کو دور رکھا جا رہا ہے، گزشتہ 12 سال سے کسی وزیر اعلیٰ نے سرحد چیمبر کو پوچھا تک نہیں، موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے امید تھی کہ نوجوان ہیں لیکن انہوں نے بھی نہیں پوچھا۔

صدر سرحد چیمبر آف کامرس نے کہا کہ 9 ماہ سے پاک افغان بارڈر بند ہے، بارڈر بندش سے 20 لاکھ لوگوں کا روزگار رکا ہوا ہے، ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، ہمارا مال رکا ہوا ہے، بارڈر بندش سے کروڑوں روپے کی دوائی ایکسپائر ہو رہی ہے۔

جنید الطاف نے کہا کہ بیرون ملک شہریوں کو این او سی نہیں دی جا رہی یہاں آنے کے لیے، بورڈ آف انویسٹمنٹ برائے نام ہے، اسکا سربراہ پشاور میں ہی نہیں ہوتا، خیبر پختونخوا انڈسٹری دوبارا کھڑی کرنے کے لیے وزیر اعظم سے بھی درخواست کی جبکہ گورنر وفاق کے نمائندے ہیں، ہر مسئلے میں گورنر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید