بھنگڑے
گلی میں ڈھول بجنے کی آواز گونج رہی تھی۔
میں گھر سے نکلا تو دیکھا، رش لگا ہوا ہے۔
کچھ لوگ ناچ رہے تھے۔
بچے تالیاں پیٹ رہے تھے۔
مجھے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ
یہ سب کچھ ڈوڈو کے گھر پر ہورہا تھا۔
یہ کیا تماشا ہے، میں نے اس سے پوچھا۔
بینک نے میرا لون منظور کرلیا ہے،
ڈوڈو نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
لیکن اس پر بھنگڑے ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟
میں حیران رہ گیا۔
ڈوڈو نے کہا، میں حکومت کا پیروکار ہوں۔
حکومت بھی آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے پر بھنگڑے ڈالتی ہے۔