ایران اور پاکستان کی بھی دوستی تھی لیکن اتنی پکی نہیں تھی جتنی کہ اس کی انڈیا کے ساتھ تھی۔ انڈیا ، ایران کا اسٹرٹیجک پارٹنر تھا اور چاہ بہار کی بندرگاہ بھی بنا رہا تھا۔ انڈیا ماضی میں افغانستان کے اندر مداخلت کیلئے بھی ایران کا روٹ استعمال کررہا تھا اور وہاں پر کلبھوشن یادیو جیسے انڈیا کے ایجنٹ بھی پاکستان کے خلاف سرگرم عمل تھے۔تاہم جب اسرائیل نے جون میں ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے کھل کر ایران کا ساتھ دیا جبکہ انڈیا نے پہلو تہی کی جسکی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی قیادت شکریے کیلئے پاکستان تشریف لائی۔ اب کی بار جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا تو پاکستان نے کھل کر مذمت کی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مغفرت کیلئے پاکستانی پارلیمنٹ میں فاتحہ خوانی ہوئی لیکن انڈیا اسرائیل کی وجہ سے مذمت کرسکا اور نہ آیت اللہ کی وفات پر تعزیت کے دو لفظ بول سکا۔ پھر پاکستان اگر ثالثی جیسے مشکل کام میں کود پڑا تو بنیادی وجہ ایران تھا کیونکہ پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ اسکے پڑوس میں اسرائیل کے زیر اثر حکومت قائم ہو لیکن اسکے باوجود کئی مواقع پر ایران نے پاکستان کو امتحان میں ڈالا۔ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کے بعد جب دوسرے دور کیلئےاسٹیج سجایا گیا۔ اسلام آباد کو دو روز سے بند کردیا گیا تھا اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس روانگی کیلئے تیار تھے تو ایرانی وفد نے آنے سے معذرت کرلی حالانکہ پہلے سیشن کیلئے جب ایرانی وفد کو لایا جارہا تھا تو نہ صرف ایئرفورس کے جہازوں نے باقر قالیباف اور عباس عراقچی کے جہاز کو گھیرے میں لیا ہوا تھا بلکہ دو درجن سے زیادہ پاکستان ائرفورس کے جہاز حفاظت کیلئے فضا میں تھے۔ دوسری طرف اس سے قبل رسک لے کر پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ایران جاکر دو دن وہاں گزار چکے تھے لیکن اس کے باوجود ایرانی وفد نہ آیا۔ اسلام آباد ایم او یو کے بعد 19جون کو سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں مذاکرات کے پہلے سیشن کا پاکستان کی میزبانی میں فیصلہ ہوا تھا ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیراعظم میاں شہباز شریف اپنے اپنے ملکوں سے روانگی کیلئے تیار تھے کہ ایرانی وفد نے پھر لبنان میں جنگ بند نہ ہوجانے کا کہہ کر جانے سے انکار کر دیا اور ایک بار پھر پاکستان کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ حالانکہ لبنان کی جنگ اسرائیل نے ایک روز کیلئے بھی بند نہیں کی تھی اور مذاکرات کا ایک ہدف یہ تھا کہ اسلام آباد ایم او یو کے مطابق لبنان میں بھی جنگ بند کروائی جاسکے ۔ پھر جب اکیس جون کو تینوں ملکوں کے وفود برگن اسٹاک پہنچے تو میزبان کی حیثیت سے وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیر اعظم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ حسب روایت سب شرکا میڈیا کے سامنے مختصر گفتگو کریں اور ایک گروپ فوٹو بنوائیں ۔وہاں ایک بار پھر ایرانی وفد نے فوٹو کیلئے آنے سے انکار کرکے اپنے میزبانوں کو شرمندہ کیا۔ باقی تینوں (امریکی نائب صدر،قطری وزیر اعظم اور پاکستانی وزیراعظم) نے گفتگو کی اور امریکی نائب صدر نے تو پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے حق میں تعریفوں کے پل باندھ دیئے لیکن ایرانی وفد منت ترلوں کے باوجود نہ آیا۔
سوال یہ ہے کہ جب کیمروں کے پیچھے بیٹھنا تھا تو پھر کیمروں کے سامنے تصویر بنانے سے کونسی قیامت آجائیگی کیونکہ ہر کسی کو پتہ تھا کہ ابھی آپ اور امریکی وفد آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کریں گے ۔ایرانی وفد نے اس پر بھی قناعت نہ کی اور مذاکرات کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی ایک بیہودہ ٹویٹ آئی تو اسے جواز بنا کر انہوں نے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا۔ اب ہر کوئی جانتا ہے کہ ٹرمپ کے ٹویٹس کی کیا وقعت ہوتی ہے اور اس محفل میں کوئی بھی یہ صلاحیت نہیں رکھتا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ٹویٹ ڈیلیٹ کرواتا ۔ ہاں ایرانیوں کا جواب حق بنتا تھا اور نہ صرف باقر قالیباف صاحب نے جواب دیا بلکہ دیگر ایرانی عہدیداران نے بھی کرارا جواب دے ڈالا تھا۔بہ ہر حال ایک بار پھر پاکستانی وفد منت ترلہ کرکے ایرانی وفد کو مذاکرات میں لے آیا جن کا اختتام ایرانی تیل کی فروخت پر سے پابندی اٹھ جانے اور انکے کچھ منجمد اثاثوں کو غیرمنجمد کرنے سے ہوا اور یہ خوشخبری ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سب سے پہلے قوم کو سنائی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد ایم او یو میں امریکہ کو کچھ خاص نہیں ملا اور ایران کی واضح جیت ہوئی ہے جس کا اب خود ایرانی بھی اعتراف کررہے ہیں۔ یہ حقیقت اسرائیلی سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے اس ایم او یو پر شدید احتجاج کیا اور ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اسرائیل جانتا ہے کہ اس ایم او یو سے صرف ایران کو فائدہ ہوا ہے اس لئے وہ لبنان جنگ اور دیگر ذریعوں سے مذاکرات کے سلسلے کو ختم کروانا چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایران کیوں درمیان میں روڑے اٹکا رہا تھا؟ پاکستان کے صبر کا پھل میٹھا تھا لیکن وہ پھل ایران کیلئے تھا نہ کہ پاکستان کیلئے ۔ اس ایم او یو اور برگن اسٹاک مذاکرات کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مابین فاصلے پیدا ہوئے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو خیر کچھ بھی کہہ لیتے ہیں لیکن نہ صرف وہ تسلسل سےاسرائیل کی کلاس لے رہے ہیں بلکہ جے ڈی وینس جیسے سنجیدہ آدمی نے بھی اسرائیل کو کھری کھری سنائیں۔ دوسری طرف اسرائیلی تجزیہ نگار غصے میں آکر یہ تک کہہ رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ڈونلڈ حسین ٹرمپ رکھا جائے۔مجھے امید ہے کہ اب ایرانی دوستوں کو احساس ہو چکا ہوگا کہ پاکستان، ان کی بھلائی کیلئے انکی منت کررہا تھا اور یہ تاثر غلط تھا کہ پاکستان امریکی ایجنڈے پر کام کررہا ہے ۔ کسی کو اختلاف ہو تو مجھے بتایا جائے کہ اسلام آباد ایم او یو یا برگن اسٹاک مذاکرات میں امریکہ کو کیا ملا؟ اور کیا ایران کو اس سے بہتر ڈیل مل سکتی تھی؟