• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی کامیاب ثالثی کا ماحصل یہ ہے کہ ہمیں اپنے وقار اپنی بقا کیلئے 10ہزار میل دور واشنگٹن جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی مطلوبہ ہرعادت،ہر کیفیت، ہر رجحان ہمیں اسلام آباد سے صرف 1664میل دور تہران میں مل سکتا ہے جہاں ہم ہوائی جہاز سے ٹرین سے اپنی کار سے پہنچ سکتے ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو دونوں کے ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں نے 47 سال سے دنیا سے بہت دور ایران کو جون 2026 ءمیں دنیا پر غالب کر دیا ۔اب ایران ایک ایشیائی سیاسی اور عسکری قیادت کے طور پر ابھر کر سامنےآیا ہے۔تاریخ نے یہ سبق دیا کہ شخصی حکمرانی کتنی دولت ہو ،طاقت ہو ،بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ اپنے آئینی اداروں ،قانونی حدبندیوں سے بالاتر ہو کر کیے گئے فیصلے حکمرانوں کو لے ڈوبتے ہیں۔ امریکہ میں شخصی قیادت مسلسل آگ اگلتی رہی ۔ادھر ایران جو 47سال سے اقتصادی گردابوں میں پھنسا ہوا تھا۔ جہاں ایک ڈالر 15لاکھ ریال کا ہو چکا تھا۔ جس پر اقوام متحدہ امریکہ یورپی یونین نے پابندیاںعائد کی ہوئی تھیں۔ جہاں برادر مسلم ممالک بھی ایران کی کوئی مدد نہیں کر رہے تھے ۔وہاں فیصلے اجتماعی قیادت کر رہی تھی۔ اصولوں سے انحراف نہیں کیا جا رہا تھا۔ رہبر معظم علی خامنہ ای اور انکے 50 کے قریب اعلیٰ ایرانی قائدین بھی شہید کیے جا چکے تھے ۔اس لیے وہاں سرنڈر کی نوبت نہیں آئی سب سے پہلا سبق تو دنیا کو اس جنگ سے یہ ملتا ہے کہ اگر ایران نے یہ استقامت نہ دکھائی ہوتی تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بھی بہت قریب سے یہ سب کچھ دیکھ لیا ہے ۔قطر کی شاہی حکومت نے بھی بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ یہ بھی طے ہو گیا کہ دنیا میں صرف ایک قطب نہیں چل سکتا۔ کسی ایک ریاست کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی اپنے اداروں سے بالا بالا حکم چلانے والے حکمران بالآخر کیمرے کے سامنے بڑبڑاتے رہ جاتے ہیں۔ اب بھی اجالا داغ داغ ہے ۔18جون کو طلوع ہونے والی سحر وہ سحر نہیں ہے، جس کا انتظار سب کو ہے اور نہ ہی یہ وہ روز مکافات ہے جس کی دنیا منتظر ہے ۔نو کروڑ 32 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایران اب سب کمزور اور غریب ملکوں کی آنکھ کا تارا بن چکاہے ۔ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ...یقیناًخدائے بزرگ و برتر عاجزوں کا ساتھ دیتا ہے متکبروں کا نہیں ۔مالک بحر و بر حق پرستوں کی معاونت کرتا ہے غاصبوں کی نہیں ۔اب 18 جون سے 17جولائی تک کے 60دن میں ایک ایک لمحہ پوری دنیا کی معیشت کیلئے بہت اہم ہے۔ امید ہی نہیں یقین ہے کہ ایران اس آزمائش سے بھی سرخرو ہو کر نکلے گا۔28فروری سے 18 جون کے 111 دنوں میں اکیلے ایران نے امریکہ کی دھمکیوں اسرائیل کی بربریت اور دنیا کی لا تعلقی کا بہت تدبر اور حکمت سے مقابلہ کیا۔ عالمی رائے عامہ پر آشکار ہوا کہ ایران پر یہ جارحیت فلسطین کے بے گناہوں کی مالی فوجی سیاسی سفارتی اور طبی مددکے باعث مسلط کی گئی۔ ایٹمی ہتھیاروں کے سلسلے میں تو عالمی ایٹمی ایجنسی پہلے کئی بار کلیئرنس دے چکی تھی۔ بہت سے مسلم ممالک بھی اور ثالثی کرنیوالے پاکستان میں بھی اکثر یہ کہا جاتا تھا کہ ایران کو شام ، لبنان ،عراق میں اپنی ذیلی تنظیموں کی سرپرستی نہیں کرنی چاہیے۔ کچھ ممالک مسلک کے حوالے سے ایرانی قیادت کو پسند نہیں کرتے تھے ۔یورپ میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایرانی حکمرانوں کی مذمت کی جاتی تھی کہ وہاںآزادی اظہار پر پھانسیاں دی جاتی ہیں۔ اب دنیا نے دیکھ لیا کہ ایران اپنے سیاسی اقتصادی موقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔ ایرانی انقلابی پرچم کو گرنے نہیں دیا گیا ۔نامور محترم ہستیاں گرتی رہیں پہلے سے جانشین طے شدہ تھےپرچم سنبھالتے رہے ۔پاکستانیوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 14 اگست 1947ءکو ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ 1965ءاور 1971کی جنگ میں جب امریکہ کئی معاہدوں میں ہمارا اتحادی ہونے کے باوجود غیر جانبدار ہوگیا تھا ایران نےہمارے جنگی جہازوں کو محفوظ پارکنگ کی اجازت دی۔ اس ہمسائے سے ہماری 909 کلومیٹر سرحد ملتی ہے۔ ہم سینٹو۔ آر سی ڈی۔ ای سی او میں ایران کے اتحادی رہے ہیں۔ ایران پاکستان آر سی ڈی ہائی وے سے ٹرین سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب اسلام آباد تہران استنبول مال گاڑی بھی ایک اہم رابطہ ہے ۔پاکستان نے عالمی پابندیوں کے ڈر سے ایران سے گیس پائپ لائن کا فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ ایران نے پاکستان کی سرحد تک پائپ لائن بچھا دی تھی۔ اب کامیاب ثالثی کے بعد ہر پاکستانی یہ توقع کر رہا ہے کہ پاکستان سب سے پہلے اس پائپ لائن کی تکمیل کر کے توانائی کے بحران سے نکلے گا۔ ایران کو قدرت نے خام تیل کے ذخائرسے نوازا ہے۔208ارب بیرل خام تیل کے ذخائر بتائے جاتے ہیں ۔دنیا کا 12 فیصد تیل ایران کو عطا کیا گیا ہے۔ تیل کے باعث ہی امریکہ 1953 سے ایران میں رجیم چینج کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ 1979 ءمیں انقلابی حکومت نے تیل کی سب کمپنیاں قومی تحویل میں لے لی تھی ۔اسی دور میں انقلابیوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے اہم انکشافات والی فائلیں عام کی تھیں اوراس وقت سے ہی ایران پابندیوں کا شکار ہے۔ پابندیوں کے دنوں میں چین ایران کا 80 فیصد تیل خریدتا رہا ہے ۔اب پاکستان کی قومی اسمبلی سینٹ اور یونیورسٹیوں کو لازماً یہ تحقیق کرنی چاہیے کہ ایران 47 سال کی عالمی پابندیوں میں کس طرح زندہ رہا ۔اس نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کے سامنے اپنے مفادات کا سودا نہیں کیا ۔اسکی ایک وجہ یہاں کی بلند شرح خواندگی بھی ہے۔ جو 98فیصد ہے۔ حکمران سب ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ زمیندار، جاگیردار،سرمایہ دارنہیں ہیں۔ اسلام آباد میں ایرانی صدر کو اعزازی میڈیکل ڈگری سے نوازا گیا ۔69 سالہ ڈاکٹر مسعود پزشکیاں دل کے سرجن ہیں۔ 63 سالہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سیاسیات میں ایم اے اور برطانوی یونیورسٹی آف کینٹ سے سیاسیات میں ہی پی ایچ ڈی ہیں۔ 64سالہ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف انسانی جغرافیہ میں ایم اے پولیٹیکل جیوگرافی میں پی ایچ ڈی۔کسی وقت Human Geography کے بارے میں تفصیل جانئے تو اس کی وسعت کا اندازہ ہوگا اسی لئے جناب باقر مذاکرات کے ماہر ہیں ۔دوسرے عہدے دار بھی اسی طرح اپنے اپنے شعبوں میں تحقیق کے ماہر ہیں۔ باقر قالیباف تربیت یافتہ پائلٹ بھی ہیں ۔جہاں ایسی پڑھی لکھی قیادت ہو وہاں سقوط نہیں فتح مندی ہی مقدر ہوتی ہے۔مجھے سابق صدر ایران جناب احمدی نژاد کے زمانے میں سات دن تہران میں گزارنے کا موقع حاصل ہوا۔ اس وقت فارسی میں ایک نظم میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ آخری شعر عرض کرتا ہوں" خود مئے بکشیدند ز خود جام بگیرند....این طوراگر زیست گزارند نہ میرند"اب عملاً بھی دیکھ لیا کہ ایران نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور باقی رہ کر بھی دکھا دیا۔

تازہ ترین