ایران امریکا ڈیل پر اگرچہ ایک طرف کامیابیوں اور خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف نہ صرف اسرائیل بلکہ خود امریکا میں بھی شدید نوعیت کے اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے بالآخر چلے ہی جانا ہے لیکن وہ آنیوالی امریکی حکومتوں کیلئے ایسے کانٹے بو کر جائیں گے، جنکی چبھن برسوں محسوس کی جاتی رہے گی، اسکے منفی اثرات سے چھٹکارا پانے کیلئے امریکیوں کو ڈالروں کے علاوہ خاصی محنت اور تگ ودو کرنا پڑئیگی۔ سیانے کہتے ہیں بےوقوف دوست سے دانا دشمن اچھا، کوئی بھی خوشامد پسند یااپنی تعریف کا بھوکا شخص دوستوں کیلئےجتنا خطرناک ہوتا ہے اتنا کوئی دشمن بھی نہیں ہو سکتا، امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک غیرمتوازن شخص ہے، دوست دشمن کی پہچان سے عاری،اسےاحساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ تاریخی طور پر اسرائیل اور سعودی عرب سے بڑا شاید ہی امریکا کا کوئی اتحادی ہو، دونوں کے متعلق ٹرمپ کی بدزبانی سب کے سامنے ہے۔ وہ سعودی قیادت کو کہہ چکا ہے کہ ’’ہمارے بغیر آپ ایک ہفتہ بھی نہیں نکال سکتے،اور اب اسرائیل کو بھی پوری ڈھٹائی سے کہہ دیا ہے کہ میں ایرانی نیوکلیئر پاور کو ختم نہ کرتا تو تم دو گھنٹے بھی نہ ٹھہر پاتے،جو شخص اس وقت سیریا کو چلا رہا ہے وہ وہی ہے جسے میں وہاں لیکر آیا ہوں‘‘ کیا شرم نہیں آتی اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے؟ امریکی اتحادی دیگر اقوام اور انکی قیادتوں کا کیا آپ کی نظروں میں یہی احترام ہے ؟ ان بھلے مانسوں پر بھی افسوس ہے جنہوں نے آپ کو چنا، کتنا اچھا ہو جو مڈٹرم الیکشن میں وہی آپ کی چھٹی کروا دیں۔ امن ڈیل کے حوالے سے امریکا میں جو بحث چل رہی ہے وقت کے ساتھ یہ مزید تلخ ہو گی سابق صدر اوباما،سابق صدر کلنٹن سے لے کر امریکی کانگریس کے اراکین تک اور امریکی میڈیا سے لے کر عالمی میڈیا تک، ہر جگہ آپ کی حماقتیں زیر بحث ہیں ایران کے ساتھ امریکا کی ڈیل کو گھٹنے ٹیکنے کی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی ٹیکس دہندگان کے سو ارب ڈالر ہی اس لاحاصل جنگ میں نہیں جھونکے، 14امریکی فوجی بھی تابوتوں میں بند ہو کر لاشوں کی صورت آئے ہیں اور حاصل کیا کیا ہے یہ کہ سٹریٹ آف ہرمز کھل گئی ہے جو اس لا حاصل جنگ سے پہلے بھی کھلی تھی،ہرمز کا کوئی ایشو ہی نہ تھا، تو پھرآؤٹ پٹ کیا نکلی؟ امریکیوں کے علاوہ اسرائیلی حکومت اور اپوزیشن نےایران امریکا MOUs کو نہ صرف اسرائیل اور خطے کیلئے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ہم سب کو مایوس کیا ہے، یہ ڈیل ایران کے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام ہی نہیں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ پر بھی کوئی قدغن عائد نہیں کرتی جو ہماری سکیورٹی کیلئے خطرناک صورتحال ہے، ٹرمپ نے ہماری کامیابیوں کو ضائع کر دیا ہے ،ہمیں دھوکا دیا ہے یہ ہمارے لئے اسٹریٹیجک ناکامی اور تزویراتی جھٹکا ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ نے اٹھائیس فروری کی چھیڑ خانی کا ہے کو کی تھی؟ کیا سمجھ کر کی تھی؟۔ آپ لوگوں کا حقیقی ایشو تویہی تھا کہ آپ کے حملے سے تہران میں رجیم چینج ہو جائیگی۔ ٹھیک ہے آپ لوگوں کے غلط اندازوں کے سبب وہ مقصد حاصل نہیں ہو پایا لیکن کیا اس کامطلب یہ ہے کہ اب اس رجیم کو مزید تگڑا کرنیوالے اقدامات شروع کردیےجائیں؟ معمرونحیف ولایتِ فقیہ کی جگہ، ایسی جواں سال ولایت فقیہ لے آئے ہیں جس سے شخصی طور پر عام ایرانی کو وہ شکایات نہیں ہیں جو بڑوں سے تھیں۔ان کے والد بزرگوار کو آپ نے جس طرح مارا ہے اب وہ اپنی پاپولرٹی میں خمینی سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں، انکے مرثیے اور قصیدے پڑھے جا رہے ہیں۔ جبری گھٹن اور دہائیوں کی اقتصادی پابندیوں کے کارن عام ایرانی جس حکمرانی کو اپنے اوپر مسلط آمریت خیال کر رہے تھے آپ نے الٹا اسے مظلومیت کی چادر اوڑھا کر پاپولیریٹی کے اوج پر لا بٹھایا ہے اور اب تین سو ارب ڈالرز کے ساتھ، پابندیاں ہٹاتے ہوئے اسے نئی طاقت بخش رہے ہیں۔ اس کے بعد سوچئے ایرانی عوام کے دکھ کس قدر بڑھ جائینگے؟ کیا وہ لوگ اس آمریت کے خلاف اپنی خفیف سی آواز بھی نکال پائینگے؟ آپ جس” ابراہیم اکارڈ “ کا رونا روتے عرب ممالک پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں کہ اسے جوائن کرو، سوال یہ ہے کہ جن عرب ممالک نے اسے جوائن کرتے ہوئے اسرائیل کیساتھ معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں آپ نے اتنی بڑی مہمیز پر انہیں کون سا خصوصی تحفظ فراہم کیا ہے؟ ایرانی میزائلوں کی اتنی یلغار تو شاید اسرائیل پر بھی نہیں ہوئی جتنے میزائل اور ڈرونز یونائیٹڈ عرب امارات پر پھوڑے گئے ہیں، جتنے بحرین پر چلائے گئے ہیں جب آپ اپنے ان عرب خلیجی اتحادیوں کو تحفظ دینے سے قاصر ہیں تو دیگر عرب ممالک آئندہ کس برتے پر ابراہیم اکارڈ کا حصہ بننا چاہیں گے؟ کیا یہ امریکی سفارتی ناکامی کئی دیگر بڑی ناکامیوں کا باعث نہیں بنے گی؟ جن عرب ممالک نے اپنے تحفظ کے لیے اپنی سرزمین آپ کو فوجی اڈے بنانے کیلئے پیش کر رکھی ہے اور اپنی معیشت کا خطیر حصہ وہ انویسٹمنٹ کے نام پر آپ کو ادا کرتے چلے آ رہے ہیں جب مشکل وقت میں آپ نے انہیں قطعی سیکورٹی مہیا نہیں کی تو آئندہ کیلئے امریکی ساکھ کیا رہ جائیگی؟ کیا آئندہ وہ آپ کی بجائے آپ کے کسی حریف کی طرف نہیں دیکھیں گے؟ ان حماقتوں سے اگر رجیم مضبوط ہوتی ہے تو نہ صرف آزادی پسند ایرانی عوام پرشکنجہ کسے جانے کا احتمال باقی رہے گا بلکہ شایدہمسایہ عرب ممالک بھی ایک نوع کےدبائو اور خوف میں رہیں گے۔ اسرائیل کیلئے جو چیلنجز ہیں وہ مزیدکئی گنا بڑھ جائینگے؟ کیا اس انارکی سے مغربی تہذیبی اقدار سٹیک پر نہیں آ جائیں گی؟