طاقت ور ترین اور ذہین ترین مخلوقات بھی نئے ماحول، نئے حالات سے ہم آہنگ نہ ہوں تو فنا ہو جاتی ہیں۔ باقی رہتے ہیں وہ جو تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں، زمانوں سے اس کرہ پر نباتات اور جانوروں کی بقا کا یہی اصول رہا ہے۔ حضرتِ انسان کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب جنگل سکڑے تو ہمارے آباء زمین زادے بن گئے، اب مسئلہ یہ ہوا کہ قد آور گھاس کے عقب سے یک دم کوئی درندہ نمودار ہوتا اور انسان کو آسانی سے شکار کر لیتا، انسان نے اس کا حل یہ نکالا کہ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا سیکھ لیا، اب اسے دور سے ہی خطرہ نظر آ جاتا تھا، اور اسے کسی پناہ گاہ تک پہنچنے کا کچھ وقت مل جاتا تھا۔ اسے کہتے ہیں نئے حالات میں بقا کا راستہ تلاش کرنا۔ قوموںاور ریاستوں کابھی یہی معاملہ ہوا کرتا ہے۔جب اپنے وقت کی سپر پاورز کی عظمت کا سورج ڈھلنا شروع کرتا ہے تو وہ کیا کرتی ہیں۔ تین راستے ہوتے ہیں، مدافعت یا انہدام اور یا نئے حالات میں راستہ تلاش کرنا۔ مدافعت اور انہدام کی ایک ’’درخشاں‘‘ مثال سلطنتِ عثمانیہ بھی ہے، سلطنت اپنی کمزور ہوتی ہوئی معاشی اور فوجی صلاحیت سے ہم آہنگ نہ ہو سکی اور آخر پہلی جنگِ عظیم کے بعد اوندھے منہ زمین پر جا گری۔ برِصغیر کے مسلمانوں نے بھی "پدرم سلطان بود" کی نفسیاتی فضا میں ایک صدی ضائع کی، ضد کی اور خمیازہ بھگتا۔ دوسری طرف برطانیہ بہ طور ریاست خود کو حالات کے مطابق بدلنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ برطانوی استعمار کمزور ہونے لگا تو برطانیہ نے سمٹنا شروع کیا، ڈی کالونائز کیا، عالمی غلبے کی خواہش کو سُلا کر امریکہ سے بہ طور جونیئر پارٹنر اتحاد کیا، تعلیم، معاشیات، ثقافت اور خارجہ پالیسی کےذریعے اپنی طاقت سے کہیں بڑھ کر اقوامِ عالم میں ایک مرتبہ برقرار رکھا۔اب ہمارا ذاتی تجربہ بھی سُن لیجیے۔ ہم نے اخباری صحافت میں قریباً ایک دہائی گزارنے کے بعد ٹی وی میں پہلی نوکری ادارے کے سربراہ کے طور پر اختیار کی، یہ نوکری ختم ہوئی تو ہم دماغی طور پر ازلی ابدی ’’سربراہ‘‘ بن چکے تھے۔ کئی اچھی بھلی نوکریوں کی دعوت ملتی رہی اور ہم انکار کرتے رہے، لہٰذا، دو برس گھر بیٹھے۔ پھر وقفے وقفے سے تین چار ٹی وی چینل کی سربراہی کی۔ اس دوران ٹی وی انڈسٹری کا ماحول بدل رہا تھا، جن کرسیوں پر ہم بیٹھتے تھے وہ سیٹھوں نے خود سنبھال لیں یا اپنی اولاد کے سپرد کر دیں۔ بہرحال، قصہ مختصر، جب ہم نے اپنے ’’سنگھاسن‘‘ سے اتر کر نئے حالات سے ہم آہنگی اختیار کی، نئے راستے ابھرنا شروع ہو گئے۔ریاستوں کا بھی مِن و عَن یہی معاملہ ہے۔ زریں ماضی کی چمک دمک سے چندھیائے ہوئے رہنا اور ’’ڈینائل‘‘ کی حالت میں رہنا حال کیلئے سمِ قاتل ہوا کرتا ہے۔ اس نفسیاتی حالت میں افراد اور قومیں اپنا بے پناہ نقصان کر لیتے ہیں۔ یہ موضوع ’’اسلام آباد معاہدہ‘‘ پڑھ کر ذہن میں آیا۔ یہ معاہدہ ایران اور ایک سابقہ اکلوتی سپر پاور کے درمیان ہوا ہے۔ اسے ہم نیو ورلڈ آرڈر کا باقاعدہ آغاز بھی قرار دے سکتے ہیں، جس میں تین بڑی طاقتیں ہیں اور درجن بھر اہم علاقائی طاقتیں ہیں، نئی دنیا میں امریکا ہر خطے میں من مانی نہیں کر سکتا، پہلے امریکا دہائیوں تک ویتنام اور افغانستان میں جنگیں جاری رکھ سکتا تھا، اب یہ حرکت ایک دو ماہ ہی جاری رہ سکتی ہے۔ امریکا اسرائیل ایران جنگ پر ایک نظر ڈالیں۔ بغیر کسی اشتعال کے امریکا نے یہ جنگ شروع کی، ایرانی سپریم لیڈر کو خاندان سمیت مارا، ہزاروں بچوں اور سویلینز کو مارا، ایرانی رِیجیم چینج کر سکا نہ ایرانی عوام کو ان کی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکال سکا، دنیا بھر کے اربوں لوگوں کو معاشی ایذا میں مبتلا کیا، امریکی عوام بھی جلد ہی اس لایعنی جنگ کے مخالف ہو گئے، امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی اس جنگ سے برات کا اظہار کیا، امریکی حکومت دنیا میں تنہا رہ گئی۔ (ماضی پرستی کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ اپنے پرائے سب دشمن اور غدار نظر آنے لگتے ہیں کیوں کہ آپ کے علاوہ تبدیلی سب کو نظر آ رہی ہوتی ہے) بہرحال، امریکا کو اس جنگ سے جو ’’حاصل‘‘ ہوا وہ ٹرمپ صاحب کی زبانی سن لیں۔ وہ ایرانی میزائل پروگرام کے بارے فرماتے ہیں کہ اگر قطر، سعودی عرب جیسے خطے کے دوسرے ممالک میزائل رکھ سکتے ہیں تو ایران کو بھی اجازت ہونی چاہئے۔ ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنے کے بارے انکا قول ہے کہ یہ ایران کے ہی پیسے ہیں آخر کسی دن تو انہیں واپس کرنے ہی تھے ورنہ ہمارا ’’ویہار‘‘ ختم ہو جاتا اور آئندہ کون ہمارے پاس ڈالر رکھواتا۔ ایران کو آزادانہ تجارت کا حق ملنے پر ٹرمپ صاحب کہتے ہیں اس سے ایران کو ایک نارمل ملک بننے میں مدد ملے گی۔ اب امریکی عوام پوچھ رہے ہیں کہ ’’دس میں کیہ پیار وچوں کھٹیا‘‘۔ امریکی محاصرہ ختم ہو گیا، اور ایران ہرمز پر ٹیکس بھی لگائے گا۔ یہ سب معاہدے کا حصہ ہے۔ خلیج میں امریکا کا دفاعی نظام بھی متزلزل ہو گیا۔ دھمکیوں کے باوجود امریکا اپنا ایک فوجی بھی ایرانی سرزمین پر نہیں اتار سکا۔ سپرپاور ایسی ہوتی ہے؟ سپر پاور ایسا معاہدہ کرتی ہے؟ہم جذباتی لوگ ہیں، ہماری زبان بھی جذباتی مزاج رکھتی ہے۔ ہم تحریر و تقریر میں اسم صفت کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ انتہائی غم و غصہ، شدید دکھ، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے، بے حد و حساب کرم، گھٹیا اور عالی شان جیسا اظہار کے پیرائے ہمارا روز مرہ ہے۔ لیکن ہم یہاں سوچ سمجھ کر، خوب تول کر، اچھی طرح ماپ کر، اسلام آباد معاہدے کو امریکا کی ’’شرم ناک‘‘ شکست قرار دیتے ہیں۔