• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں ایسے بے شمار واقعات پیش آچکے کہ کسی شخص کے ہاتھ کوئی انتہائی قیمتی شے لگی لیکن اسے اس کی قدر و قیمت کااندازہ ہی نہ ہوسکا ؛چنانچہ اس نے اسے کباڑ میں پھینک دیا ۔ بظاہر اس دنیا میں ہر شخص کی داستان الگ ہے ۔ آپ مگر غور کریں تو انکشاف ہوگا کہ ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جا رہی ہے ۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسکے بڑے دنیا کے بارے میں نظریات اس کے دماغ میں ٹھونستے ہیں۔ ان نظریات میں صحیح ہوتے ہیں مگر غلط بھی ۔ اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے ، اسے مندر یا چرچ لیجایا جاتا ہے ۔ اسکے اوپر متبرک پانی کا چھڑکائو ہوتا ہے۔ اسے دوسری قوموں کےبارے میں بتایا جاتاہے کہ وہ قابلِ نفرت ہیں ۔

باقی زندگی وہ انہی عقائد پہ کاربند رہتاہے ۔ آج دوسرے مذاہب تو چھوڑیں ، کیا آپکو مسلمانوں  میں کوئی خدا شناس نظر آتا ہے۔دنیا بھر میں بڑے بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے انسان ، خود کو کٹر مذہبی کہلوانے والے ایک دوسرے دست وگریباں ہیں ۔

یہودی جوخود کو سب سے زیادہ مذہبی اور خدا کے سب سے زیادہ پسندیدہ انسان سمجھتے ہیں ، وہ غزہ میں کیسی درندگی کے مرتکب ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ بلھے شاہ جیسے شاعر نے اپنی شاعری میں جابجا مسجد اور مندر کو ایک ہی ترازو میں تول دیا ہے۔

جا جا وَڑدا مسجداں مندراں اندر

کدی اپنے اندر توں وَڑیا ای نئیں

شاعر دراصل کہنا یہ چاہتاہے کہ جس طرح ہندو نے خدا کے وجود پر کبھی علمی طور پر غور نہیں کیا ، اسی طرح مسلمان نے بھی نہیں کیا ۔ دونوں نے انہی نظریات کو اپنایا، جو بچپن میں اسکے کان میں ڈال دیے گئے ۔وہ یہ بھی کہتاہے :  

سر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی

لینا کیہ سِر ٹوپی دھر کے؟

تسبیح پھِری پر دِل نہ پھِریا

لینا کیہ تسبیح ہتھ پَھڑ کے

آپ سو مسلمانوں سے یہ سوال کریں کہ ہندو جس بھگوان پہ ایمان لاتے ہیں ، دلیل کی بنیاد پر بتائیں کہ وہ کیسے غلط ہے اور مسلمانوں کا خدا کیسے سچا ہے ۔ سو میںسے دو بھی آپ کو جواب نہ دے پائیں گے۔

مغربی سائنسدانوں سمیت جو شخص مذہب مخالف ہے ، وہ کسی قیمت پر اپنی آزادیوں کو ان دیکھے خدا کے مقابل قربان نہیں کرنا چاہتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں ، جن کے دلوںپر مذہبی لوگوں کے ہاتھوں ایسے زخم لگے کہ ساری زندگی کیلئے وہ مذہب سے متنفر ہو چکے ۔مغربی سائنسدانوں کی ایک عظیم اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ خدا کے وجود کا اقرار انہیں یا ملائوں میں شامل کر کے معاشرے میں انکی عزت گھٹا دیگا ۔ ان لوگوں میں ، جنہوں نے گیلیلیو گیلیلی سمیت آزاد سائنسی تحقیق کرنیوالے بڑے دماغوں کو جبر کی موت سلا دیا تھا ۔

خود مسلمانوں میں طالبان، بوکو حرام اور القاعدہ جیسے متشدد گروہ تو رہے ۔ایرانیوں نے امریکہ اور اسرائیل کو ہرا دیا لیکن کسی فیشن ایبل خاتون کو دیکھتے ہی انہیں دورہ پڑ جاتا ہے ۔ جیسے یہ اکیلی لڑکی انکے انقلاب کو موت کی نیند سلا دے گی ۔ ایک مبلغ دوبرس قبل ملائیشیا سے پاکستان تشریف لائے تو ایسی ایسی پھلجھڑیاں چھوڑیں کہ لوگ دنگ رہ گئے ۔خواجہ سرا کو " چھکا " کہتے رہے ۔روشنیوں سے بھرپور ایک ہال میں ، جہاں ہر طرف کیمرے نصب تھے اور لوگوں کا ہجوم تھا، انہوں نے بچیوں کے ایک گروپ کو اس بنیاد پہ میڈل پکڑانے سے انکار کر دیا کہ وہ بالغ ہو چکیں ۔

اگر آپ غور کریں تو اس دنیا میں ہر انسان کی ایک ہی کہانی ہے ۔ جو نظریات اسے بچپن میں بتا دیے جاتے ہیں ، وہ درست ہیں ، باقیوں کے غلط۔ انسانوں کی اکثریت کے ہاتھ زندگی میں اگرکچھ کامیابی، مال و دولت یا کوئی بڑا عہدہ آجائے تووہ نیم پاگل سا ہو جاتا ہے ۔اسکے اردگرد خوشامدیوں کا جمگھٹا لگ جاتاہےتاآنکہ وہ ناکامی اور زوال کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ دشمن سے زیادہ خطرناک یہ خوشامدی ہوتے ہیں۔

یہ جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں 

یہ جو زہر خند سلام تھے مجھے کھا گئے

دنیا میںہر انسان کو ایک انتہائی قیمتی دماغ سے نوازا گیا ۔اس دماغ کی مدد سے وہ زمین و آسمان اور خود اپنی تخلیق پہ غور کر سکتاتھا، جس کا بار بار قرآن میں حکم ہے ۔ وہ انسان مگر پوری زندگی محض بھیڑ چال چلتارہتاہے ۔

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی

وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے

اس دنیا میں ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں ، جب نادان لوگوں نے انتہائی قیمتی چیز کو معمولی سمجھ کر گھر کے ایک کونے میں پھینکے رکھا۔ ان کی موت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ تو انتہائی قیمتی شے تھی ۔ اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز زندگی ہے ۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ ہمیںکائنات کے دوسرے مظاہر کی سمجھ آجاتی ہے لیکن زندگی اور زندہ چیزیں دنیا کا سب سے زیادہ حیران کن مظہر ہیں ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ کچھ عناصر مل کر زندہ ہو گئے ۔

زندہ چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی چیز انسانی دماغ ہے ۔ کائنات کی تاریخ میں کسی قیمتی ترین شے کی اتنی بے حرمتی نہیں ہوئی ہوگی ، جتنی انسانی دماغ کی ۔یہ دماغ آپ کو کروڑوں میل دور دوسرے سیاروں پہ اتار سکتاہے لیکن وہی انسان ایک مرلہ زمین پہ قتل ہو جاتا ہے۔ انسانوں کی ایک عظیم اکثریت میں یہ عظیم دماغ لالچ کے سامنے سرنگوں ہوکر دوسروں کا حق کھانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔

حیرتوں کی حیرت یہ ہے کہ ٹرمپ ، نیتن یاہو ،مودی اور پیوٹن جیسے لوگوں کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ لمحہ بہ لمحہ وہ موت سے قریب ہو تے جا رہے ہیں ۔ مردے اور جنازے کو دیکھ کر انسان کہتاہے ’’بے چارہ‘‘ اور دوبارہ دوسروں کا حق کھانے میں مصروف ہو جاتا ہے، جیسے خود اسے کبھی نہیں مرنا ۔ ہائے افسوس ، ہائے افسوس۔

تازہ ترین