صدیوں پر محیط ایک طویل انسانی جدوجہد کے سلسلے کانام ہے۔ قدیم یونان میں سقراط جیسےمفکروں نے سوال اٹھائے۔ عقل ودلیل اور انسانی فکر کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا، مگر اس زمانے میں بھی اقتدار چند ہاتھوں میں محدود تھا۔ انسان نے رفتہ رفتہ یہ شعور حاصل کیا کہ حکمران مطلق العنان نہیں بلکہ قانون کے پابند ہونے چاہئیںاور رعایا محض تابع فرمان مخلوق نہیں بلکہ حقوق رکھنے والے شہری ہیں۔ اسی شعور سے صدیوں کی کشمکش، قربانیوں اور فکری ارتقا کے بعد بادشاہت سے آئینی حکومت اور پھر جدید جمہوریت تک کے نشاناتِ سفر نمایاں ہوئے۔یہ سیدھی لکیر کا نہیں ہزاروں پیچ وخم اور نشیب وفراز کا سفر ہے۔ سقراط کے زہر کا پیالہ پینے سے لیکر میگنا کارٹا، انگلستان کی پارلیمانی جدوجہد، امریکی وفرانسیسی انقلابات اور جدید آئینی ریاستوں کے قیام تک انسان مسلسل اس کوشش میں رہا ہے کہ طاقت کو قانون کا پابند بنایا جائے اور حکومت کو عوام کی مرضی سے وابستہ کیا جائے۔ جمہوریت کے اس ارتقائی سفر کی سب سے نمایاں مثال ہمیں برطانیہ میں نظر آتی ہے جسے’’ جمہوریت کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے اگرچہ آزادی، قانون کی حکمرانی اور عوامی نمائندگی کے تصورات زمانہ قدیم کے مختلف ادوار اور سماجوں میں بھی موجود رہے مگر انہیں منظم ادارہ جاتی اور مسلسل ارتقائی شکل دینے کا تجربہ برطانیہ میں واضح تر نظر آیا۔ مغربی جمہوریت کے حوالے سے شاہ جون اور جاگیرداروں (بیرنز) کے درمیان ہونے والے 15جون 2015ء کے جس معاہدے کا حوالہ اکثر سامنے آتا ہے وہ ان مذکورہ فریقوں کے باہمی مفادات کیلئے تھا۔ مگر اس کا نتیجہ اس نئے تصور کی صورت میں نمایاں ہوا کہ حکمراں لامحدود اختیارات کے مالک نہیں ہوسکتے۔ انہیں قانون (یا معاہدوں) کی پابندی کرنا ہوگی۔ بعد کے ادوار میں آنیوالے عدالتی فیصلوں اور قانونی مفکروں کی آرا نے اس معاہدے کے نت نئے پہلو اور معانی آشکار کئے۔ یوں اس معاہدے کو انسانی حقوق کے معاملے میں غیر معمولی حوالے یا منشور اعظم کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ تاہم بادشاہت یا مطلق حکمرانی سے جمہوریت تک سفر کی روداد قوانین اور اداروں تک محدود نہیں۔ بادشاہوں، پارلیمان عوام اور طاقت کے درمیان ایک طویل کشمکش میں پھیلی نظر آتی ہے جس نےبرطانیہ کو کبھی خانہ جنگی تک پہنچایا، کبھی مطلق العنان بادشاہت اور آمریت جیسے تجربوں سے گزارا اور کبھی آئینی سمجھوتوں کے ذریعے نیا راستہ دیا۔17ویں صدی میں یہ کشمکش اپنے انتہائی نقطے پر پہنچ گئی۔بادشاہ چارلس اول اور پارلیمان کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ ملک خانہ جنگی کی کیفیت سے دوچار ہوگیا۔ شاہی فوج اور پارلیمانی قوتیں آمنے سامنے آگئیں۔ برسوں کی لڑائی کے بعد پارلیمان کی افواج غالب آئیں اور بادشاہ کو گرفتار کرلیا گیا۔چارلس اول پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پارلیمان کو نظر انداز کیا، اپنی طاقت کو قانون سے بالاتر سمجھا اور ملک کو خانہ جنگی تک پہنچایا۔ ایک غیر معمولی عدالتی کارروائی کے بعد1649ء میں انہیں سزائے موت دیدی گئی۔ یہ واقعہ پوری تاریخ میں ایک غیر معمولی موڑ تھا کیونکہ پہلی بار یہ اصول سامنے آیا کہ حکمران بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ اس واقعہ کے بعد انگلستان میں بادشاہت کو ختم کردیا گیا اور ملک کو دولت مشترکہ قرار دیا گیا۔یہ نیاسیاسی تجربہ تھا جس میں جلد ہی عملی طاقت فوجی قیادت کے ہاتھ میں چلی گئی۔ اولیورکرامویل اس دور کی مرکزی شخصیت بن کر ابھرے، جنہوں نے ’’لارڈ پروٹیکٹر‘‘ کے عنوان سے ریاستی اختیارات سنبھالے۔ ان کے دور میں نظم ونسق تو قائم رہا مگر سیاسی طاقت ایک فرد اور فوجی نظام کے گرد مرکوز ہوگئی۔ سال1658میں کرامویل کی موت کے بعد نظام کمزور پڑگیا۔ ملک ایک بار پھر سیاسی بحران میں داخل ہوگیا۔ اسی برس یہ احساس بڑھا کہ انتشار سے بچنےکیلئے غیر مستحکم تجربات کی بجائے ایک مستحکم سیاسی نظام ضروری ہے۔ اس پس منظر میں1660ء میں بادشاہت بحال کی گئی اور جلاوطن شاہی خاندان واپس بلالیا گیا۔ چارلس دوم تخت پر بیٹھے۔مگر اب بادشاہت پہلے جیسی مطلق العنان نہیں تھی۔ پارلیمان مضبوط ہوچکی تھی اور طاقت کا توازن بدل چکا تھا۔یہ نیا توازن بھی مکمل طور پر مستحکم نہ ہوسکا۔ جیمز دوم کے دور میں دوبارہ سیاسی بحران پیدا ہوا ور یہ خدشہ بڑھا کہ بادشاہت کو پھر مطلق اختیار میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اسی صورتحال نے1688ء کے’’ شاندار انقلاب‘‘ کی راہ ہموار کی۔ اس انقلاب میں جیمز دوم اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ولیم سوم اور ان کی اہلیہ ملکہ میری دوم کو مشترکہ حکمران بنایا گیا۔ یہ تبدیلی ایک آئینی معاہدے کے تحت ہوئی جس میں بادشاہی اختیارات کو واضح طور پر محدود کیا گیا اور پارلیمان کی بالادستی تسلیم کی گئی ۔حقوق کے منشور(بل آف رائٹس )نے اس نئے نظام کو قانونی شکل دی ۔ یہ اصول واضح کیا گیا کہ حکمرانی کا سرچشمہ صرف بادشاہ نہیں بلکہ قانون اور پارلیمان بھی ہیں۔ اس کے بعد برطانیہ کا سیاسی نظام تدریجی تسلسل سے ارتقا کا سفر طے کرتارہا۔ ووٹ کا حق بتدریج وسیع ہوا۔صنعتی انقلاب نے معاشرتی ڈھانچہ بدل دیا۔ عوامی نمائندگی کا تصور مضبوط تر ہوتا رہا۔ طاقت بادشاہت کے ہاتھ سے نکل کر وزیر اعظم،کابینہ اور پارلیمان کے پاس منتقل ہوگئی۔انیسویں اور بیسویں صدی میں یہ نظام مزید مضبوط ہوا۔ صنعتی انقلاب نے معیشت ہی نہیں بدلی، سیاسی شعور کو گہرائی بھی دی۔ مزدور طبقہ، متوسط طبقہ اور شہری آبادی سیاسی عمل میں زیادہ موثر ہوتی گئی۔ جمہوری حق رائے دہی وسیع ہوتا گیا اور جدید پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد مکمل طور پر استوار ہوگئی۔آج برطانیہ ایسے نظام کی مثال ہے جہاں بادشاہ موجود ہے مگر حکمرانی منتخب نمائندوں کے ذریعے چلتی ہے۔ یہی وہ سفر ہے جو سقراط کے سوال سے شروع ہوا اور جدید آئینی ریاست تک جاپہنچا۔برطانوی جمہوری دور کا یہ پہلو خاص طور پر قابل غور ہے کہ بادشاہوں نے اپنے اختیارات بچانے کی کوشش کی، اشرافیہ نے اثرورسوخ برقرار رکھنے کی جدوجہد کی جبکہ عوام اور پارلیمان رفتہ رفتہ اپنے حقوق منوانے میں کامیاب ہوتے گئے۔ کشمکش نے اس نظام کو ایسا لچکدار بنادیا کہ وہ ٹوٹنے کی بجائے ہر بحران کے بعد نئی شکل میں سامنے آتارہا۔