میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کا متوازن اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے، کراچی کے تمام اضلاع میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہیں، انفرا اسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر و بحالی جاری رہے گی، جبکہ ایسی سڑکیں جو کے ایم سی کے ماتحت نہیں ہیں انہیں بھی بنایا جائے گا۔
سٹی کونسل اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے ساڑھے گیارہ ہزار ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کر دی گئی، ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن کارڈ متعارف کروانے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی ترجیحات میں کراچی کی خدمت شامل ہے، پیپلز پارٹی کو بلدیاتی سطح پر پہلی مرتبہ خدمت کا موقع ملا ہے۔
میئر کراچی نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں شہری مسائل کے حل، انفرااسٹرکچر کی بحالی، ملازمین کی فلاح اور ماحول دوست منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کی تعمیر و ترقی، انفرااسٹرکچر کی بحالی، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، ایسے علاقوں میں بھی ترقیاتی کام کیے گئے اور آئندہ بھی کیے جائیں گے جو کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں 31 لاکھ 92 ہزار اسکوائر فٹ پیچ ورک مکمل کیا گیا، ایک کروڑ 23 لاکھ 31 ہزار اسکوائر فٹ پیور بلاکس لگائے گئے، 99 ہزار 450 اسکوائر فٹ فٹ پاتھ تعمیر و بحال کیے گئے۔ نرسری فلائی اوور، جناح برج اور شہید ملت روڈ کی تعمیر و بحالی مکمل کر لی گئی، عظیم پورہ فلائی اوور صرف 93 روز میں مکمل کیا گیا، اسٹون سرکل کی بھی تزئین و آرائش کی گئی۔
تاریخی ورثے اور شہری خوبصورتی سے متعلق بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ، ڈینسو ہال اور دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی مکمل کی گئی، شہر کے تاریخی ورثے اور انفرااسٹرکچر کی بہتری سے شہری مستفید ہو رہے ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ مختلف پارکس، کھیل کے میدانوں اور اربن فاریسٹ منصوبوں پر کام جاری ہے، تقریباً پونے پانچ ایکڑ رقبے پر پارکس کی بحالی مکمل کی گئی، لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کو 30 سال بعد عوام کے لیے بحال کیا گیا، ضلع غربی میں نئے اسپورٹس کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا گیا، شاہراہ بھٹو پر ایک لاکھ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جن میں سے تقریباً 10 ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں، شہید بےنظیر بھٹو پارک میں 5 ہزار مینگروز لگانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے تمام اثاثوں کی جی آئی ایس میپنگ اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کی جائے گی، کے ایم سی ہیڈ آفس میں 150 کلوواٹ سولر سسٹم نصب کیا گیا، مختلف محکموں کے لیے نئی ہیوی گاڑیاں اور 20 الیکٹرک بائیکس فراہم کی گئیں، نئی گاڑیاں پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدی گئیں، ڈیوٹی گاڑیوں کے لیے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں 25 سال بعد تنخواہیں ہر ماہ بروقت ادا کی جا رہی ہیں، اب ملازمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے پہلے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی کو ترجیح دی گئی ہے، کوشش کی جائے گی کہ نئے مالی سال میں بقایاجات ادا کیے جائیں، حکومت سندھ سے اضافی فنڈز کی درخواست کی جائے گی، فائر بریگیڈ ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل دیا گیا، لائف گارڈز کو کئی برس بعد ترقی دی گئی، دہری تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں اور ہاؤس آفیسرز کے بقایاجات ادا کر دیے گئے، حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔
میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال، کے آئی ایچ ڈی اور اسپنسر آئی اسپتال میں جدید طبی سہولیات فراہم کی گئیں، میوہ شاہ انسینیریشن پلانٹ بحال کر دیا گیا، جہاں طبی اور صنعتی فضلہ تلف کیا جائے گا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی ملک کا پہلا شہر بن گیا جہاں میونسپل بانڈز جاری کیے گئے، کے ایم سی کی 32 چارجڈ پارکنگ سائٹس پر پارکنگ فیس ختم کر دی گئی، کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک اور دیگر تفریحی مقامات کی بہتری پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں رینجرز کے کیمپ میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی۔