ایک نسل کےپاس 25سال ہوتے ہیں۔ ان سالوں میں اس کا کام ختم ہوجاتا ہے اور پھر اگلی نسل کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ ان دنوں ایک بار پھر چرچا ہورہا ہے کہ جنریشن زی اور الفا کو سوالوں کے جواب چاہئیں۔ نئی نسل سوال کررہی ہے اور جواب مانگ رہی ہے۔ اس کے ذہن میں بہت سی گتھیاں ہیں جنہیں سلجھانا ضروری ہے۔ یادرکھیں کسی بھی قوم کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دارا جیسے شاہوں کے سر انہی نوجوانوں کی ٹھوکروں میں آئے، جبکہ مایوس، پژمردہ اور راہ بھٹکے ہوئے نوجوان کسی بھی قوم کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ قوت، حوصلے، امنگیں، جوش، عزائم اور ولولےان سب کے مجموعہ کو جوانی کہتے ہیں۔ دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلاب آئے ہیں، وہ انہی نوجوانوں کے زورِ بازو کا نتیجہ تھے۔ انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں انقلاب اور تبدیلی کے ہراول دستے نوجوان ہی رہے ہیں۔ چودہ سو سال قبل جزیرہ عرب میں برپا ہونے والا عظیم انقلاب تاریخِ انسانی کا سب سے حیرت انگیز واقعہ ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ایک جادو کی چھڑی گھما دی گئی ہو اور بکھرے ہوئے عربوں میں ایسا انقلاب برپا ہو گیا جس نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ اس عظیم انقلاب میں رسولِ عربی ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے اور چٹان کی طرح اس پر جم جانے والوں میں نوجوانوں کی اکثریت شامل تھی۔حضرت مصعب بن عمیرؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت عثمان غنیؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت علی بن ابی طالبؓیہ سب نوجوان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن انسان سے جو ابتدائی سوالات پوچھے جائیں گے، ان میں ایک سوال یہ بھی ہوگا کہ اس نے اپنی جوانی کہاں خرچ کی؟آج امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ دین سے دوری ہے۔ نوجوان قرآنِ مجید سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر لوگ محض تلاوت تک محدود ہیں، اور اکثر وہ بھی نہیں کرتے، حالانکہ قرآن کتابِ انقلاب ہے۔ یہ دنیا کے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، انسان کو انفس و آفاق کی سیر کراتا ہے اور دنیا کو بدلنے کے طریقے سکھاتا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت نے دین کے بجائے دنیا کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ انکے نزدیک سب سے اہم چیز کیریئر ہے، اور دولت ان کا مذہب بن چکی ہے۔ پیٹ اور معدہ انسان کی جدوجہد کا محور بن چکا ہے۔ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ نوجوان دین سے دور اور معاشی الجھنوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ناروے کے ایک ہوٹل میں ہم نے’’ کرس‘‘ نامی نوجوان سے پوچھا: ’’تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے؟‘‘وہ حیران ہو گیا اور بولا: ’’مجھ سے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں کیا۔ کیا زندگی کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے؟‘‘اگر ہم آج کے نوجوانوں سے یہی سوال کریں تو اکثر کا جواب بھی ایسا ہی ہوگا، حالانکہ قرآنِ مجید بار بار واضح کرتا ہے کہ انسان کو زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ایک مقام پر فرمایا گیا: ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔‘‘ اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے کہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ تم میں سے بہترین عمل کرنے والا کون ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کامیابی کو تزکیہ نفس کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو پاک کر لیتا ہے، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دنیا سرسبز اور شیریں ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں خلافت عطا کی ہے تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔نوجوانوں کا دوسرا بڑا مسئلہ احساسِ محرومی اور نفسیاتی دباؤ ہے۔ ڈپریشن، انزائٹی اور بے صبری جیسے امراض نوجوانوں کے اعصاب کو شل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل سے نکالے، انہیں امید دلائے، اللّٰہ پر توکل، توبہ، استغفار اور دعا کا راستہ سکھائے۔نوجوانوں کے زوال کا تیسرا بڑا سبب بری صحبت ہے۔ بری صحبت انسان کو حلال و حرام کی تمیز بھلا دیتی ہے۔ منشیات کا استعمال چوری، ڈکیتی، قتل و غارت اور دیگر جرائم کو جنم دیتا ہے۔ والدین کا کام صرف بچوں کو کھانا کھلانا اور صحت کا خیال رکھنا نہیں، بلکہ ان کی تربیت کرنا بھی ہے، کیونکہ قیامت کے دن اس بارے میں سوال کیا جائے گا۔ بری صحبت کے نتیجے میں بے رحمی اور بے راہ روی عام ہو رہی ہے۔ نوجوان، جو بڑے کارنامے انجام دے سکتے تھے، وہ فضول مشاغل میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ والدین سے دوری اور سوشل میڈیا کے فرضی انفلوئنسرز کی اندھی تقلید نے نئی نسل کی زندگیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔تعلیم بھی اب ایک کاروبار بن چکی ہے۔ غیر معیاری تعلیمی نظام، جدید تحقیق کی کمی، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل وسائل تک محدود رسائی نے نوجوانوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے معیاری اساتذہ، لائبریریاں اور جدید سہولیات ناگزیر ہوتی ہیں، جو ہمارے ہاں ناپید ہیں۔ اسی غیر معیاری تعلیم کا نتیجہ شدید بے روزگاری ہے۔ پاکستان میں ہزاروں کیمبرج کے طلبہ کے لیے مواقع موجود ہیں، جبکہ قومی نظامِ تعلیم سے فارغ التحصیل کروڑوں نوجوان جاب مارکیٹ میں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔سوشل میڈیا بھی نوجوانوں کی تباہی کا بڑا سبب بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا ایڈکشن، حد سے زیادہ آن لائن رہنا اور غیر سنجیدہ مواد میں الجھ جانا نوجوانوں کے قیمتی لمحات ضائع کر رہا ہے۔ جو نوجوان تحقیق اور ٹیکنالوجی میں انقلاب لا سکتے تھے، وہ محض تفریح اور نمائش تک محدود ہو گئے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
نوجوانوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں، نئی اسکلز سیکھیں اور غیر ضروری بحثوں میں وقت ضائع نہ کریں۔ مایوسی سے نکلنے کا واحد راستہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا، اس سے مانگنا، اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے حالات بدلنے کی کوشش کرنا ہے۔