پاکستانی سینئر اداکارہ اسماء عباس نے ایک خاص عمر کے بعد شوہروں کے اپنی بیویوں کے ساتھ سرد مہری اور بے رخی اختیار کر لینے کے رجحان پر اپنے خیالات پیش کر دیے۔
اسماء عباس اپنے وی لاگز میں اکثر سماجی مسائل اور انسانی رویّوں پر کھل کر بات کرتی ہیں۔
حالیہ وی لاگ میں انہوں نے 60 برس کے بعد شوہروں کے بدلتے ہوئے رویے پر کھل کر بات کی اور کہا ہے کہ شوہر 60 سال کے بعد کھل کر بات نہیں کرتے، اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتے، اپنی بیویوں کو نظر انداز کرتے ہیں جبکہ عورتیں اس عمر میں بھی باشعور ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ شوہر بات نہیں کرتے، میری مراد یہ نہیں کہ وہ بولتے نہیں، بلکہ وہ اپنی بیویوں سے جذباتی طور پر رابطہ قائم نہیں رکھتے، وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ یہ لباس تم پر اچھا لگ رہا ہے یا آج تم بہت خوب صورت لگ رہی ہو، وہ ایسی کوئی بات نہیں کرتے جس سے عورت کو محسوس ہو کہ میاں بیوی کے درمیان محبت اب بھی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا 40 یا 50 سال کی عمر کے بعد سنجیدہ ہو جانا اور ہر وقت صرف مسائل کا ہی ذکر کرنا ضروری ہے؟ اس طرح مرد بہت بور ہو جاتے ہیں، میرے خیال میں تقریباً 85 فیصد مرد ایسے ہی ہوتے ہیں۔
اسماء عباس کے مطابق بہت سے مرد دوسروں کے بچوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنے بچوں کی ہمیشہ تعریف کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ہر بچہ اچھا نہیں ہوتا، دنیا میں ایسے بھی بچے ہیں جو اپنے والدین کو قتل کر دیتے ہیں یا انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں، مگر مرد اپنی اولاد کی محبت میں اندھے ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مشہور کہاوت ہے کہ مردوں کو دوسروں کی بیویاں اور اپنی اولاد پسند ہوتی ہے، پہلے معاشرے میں بوڑھی خواتین کو مثال بنا کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن اب ان کی جگہ بوڑھے مردوں نے لے لی ہے، وہ ہر وقت غیر ضروری باتیں کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں۔
اسماء عباس کا کہنا ہے کہ مردوں کی دلچسپی اپنی بیویوں کے بجائے سیاست، مہنگائی اور دیگر معاملات میں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ خواتین عمر گزرنے کے باوجود اپنے شوہروں کو پہلے جیسی ہی توجہ دیتی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب خواتین تیار ہو کر باہر جاتی ہیں تو لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں، مگر ان کے اپنے شوہر اکثر ایک تعریفی جملہ کہنا بھی ضروری نہیں سمجھتے، اسی لیے عورتیں سہیلیاں بناتی ہیں، ان کے ساتھ گھومتی پھرتی، زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہیں، میں مردوں سے شکایت نہیں کر رہی بلکہ یہ باتیں اس لیے کر رہی ہوں شاید کوئی مرد میری بات سن کر بدل جائے۔