• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ڈیل یا مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ہمارے یہاں یہ سمجھا جارہا تھا کہ شاید اب مڈل ایسٹ میں امن و سلامتی کے حوالے سے حالات بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے، لیکن جلد یا بدیر سب پر یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ یہ سب محض خام خیالی تھی۔ پہلی وجہ اسکی یہ ہے کہ ٹرمپ ایک ایسا انوکھا امریکی پریزیڈنٹ ہے جس کے متعلق کوئی بھی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی اور نہ ہی کوئی اس پر اعتماد کر سکتا ہے۔ مخالف تو مخالف حمایتی بھی اسے رنگ باز خیال کرتے ہیں۔ جو لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ یہ جے ڈی وینس وہی شخص ہے جس نے ایک وقت ٹرمپ اور اسکی اپروچ کو ہٹلر سے تشبیہ دی تھی۔ ٹرمپ ایک ہی سانس میں ایرانی رجیم کی وکالت کرتے کہتا ہے کہ اسے تباہی پھیلانے والے میزائل رکھنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر امن پسند عرب ممالک کو، دوسری سانس میں ہانکتا ہے کہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، ایرانی تہذیب کو برباد کردیں گے۔ کبھی تین سو ارب ڈالر دلوانے کی بات کرتا ہے اور کبھی ہانکتا ہے کہ ایک سینٹ بھی نہیں دیں گے۔ دوسری طرف ایرانی پاسداران ہی نہیں ایرانی صدر اور مجلس کے اسپیکر تک ٹرمپ کی ان گیدڑ بھبکیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے، اسی طرح امن بات چیت کے ساتھ حملے بھی چل رہے ہیں۔ تیسری جانب گلف میں امریکا کے تمام روایتی حلیف ممالک میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکا خود اپنا تحفظ کرنے میں ناکام ہوا ہے،وہ ہمارا تحفظ کیا کرئیگا؟ اپنی حماقتوں سے ٹرمپ نے اپنی مضبوط ترین اسرائیلی لابی کو بھی بڑی حد تک بدگمان کرلیا ہے، اسی لیے اب اس نے اسرائیل کو دھمکانے کے بعد پینترا بدلا ہے اور حزب اللہ کو دھمکانا شروع کردیا ہے۔ چوتھی جانب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو خصوصی طور پر عرب ممالک بھیجا گیا ہے تاکہ اپنے عرب اتحادیوں کے نئے شبہات و سوالات پر انہیں مطمئن کیا جاسکے اور یہ یقین دہانی کروائی جاسکے کہ ایران کے ساتھ اضطرار یا مجبوری میں ہم نے جو بھی معاملات کیے ہیں، اس سب کے باوجود ہم آپ کی سیکورٹی اور مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور آئندہ کیلئے بہتر پیش بندی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ کچھ مقامات پر کمانڈ سینٹرز زیر زمین منتقل کیے جارہے ہیں، موجودہ جنگ بندی ایک عارضی وقفہ ہے نہ کہ تنازع کا مستقبل حل، خلیجی ممالک نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ حالیہ جنگ میں نقصان بھی ہمارا ہی ہوا ہے اور الٹے ہم ہی ایران میں اربوں ڈالروں کی انویسٹمنٹ کریں، آخر کیوں؟ مارکو روبیو نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیجی تعاون کونسل GCC کے اجلاس میں شریک تمام خلیجی عرب ممالک کی نہ صرف یہ کہ شکایات سنیں بلکہ انہیں مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی۔ سعودی عرب کی طرف سے آبنائے ہرمز، لبنان اور غزہ کے ایشوز بھی اٹھائے گئے۔ سب سے بڑھ کر سلطنتِ عمان کے تحفظات دور کیے گئے۔ پچھلے دنوں ٹرمپ نے عمان کے حوالے سے شدید زبان استعمال کی تھی۔ سٹریٹ آف ہرمز میں ایران کے بالمقابل دوسری جانب جغرافیائی طور پر عمان ہے۔ دونوں کے بیچ ایک مقام پر چوڑائی محض 33 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے اس اجلاس میں مارکو روبیو نے کہا کہ سٹریٹ آف ہرمز کسی ریاست کی ملکیت نہیں اور نہ ہی کوئی ریاست یہاں ٹیکس یا فیس عائد کرنے کی مجاز ہے۔ اگر ایران نے ایسی کوشش کی تو یہ عالمی آبی راستوں میں وبا کی طرح پھیل جائیگی۔ اس سے پوری دنیا ایک نوع کے انتشار اور افراتفری میں ڈوب جائیگی۔ ہم امن معاہدہ ضرور چاہتے ہیں لیکن کسی ایسی قیمت پر نہیں جو ناقابل قبول اور ناقابل عمل ہو۔ پانچویں جانب اپنے عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے حزب اللہ اور حوثیوں کے خلاف ڈپلومیسی تیز کر دی گئی ہے۔ امریکی نگرانی میں اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ہونے والا حالیہ فریم ورک معاہدہ بھی اس کی کڑی ہے، جس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیلیوں پر حملہ کرے گی تو اسرائیل کو بھی جوابی کارروائی کا حق حاصل ہوگا۔ جامع معاہدے کیلئے ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔ اس معاہدے میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ حزب اللہ کو بہرصورت غیر مسلح کیا جائیگا۔ اس سلسلے میں امریکا لبنانی فورسز کی مدد بھی کرئیگا۔ یوں لبنانی حکومت حزب اللہ کا خاتمہ کرنے کی پابند ہوگی۔ مزید یہ کہ جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا، اسرائیلی فورسز ساؤتھ لبنان میں موجود رہیں گی۔یہ معاہدہ واشنگٹن میں ہونے والے فریم ورک کا تسلسل ہے۔ اس کے ساتھ شامی صدر احمد الشرع کو بھی ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ حزب اللہ کو کچلنے میں معاونت کریں۔چھٹی جانب نئے عراقی پرائم منسٹر علی زیدی نے تمام مسلح ملیشیاؤں کو آخری الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ عراقی افواج کی ماتحتی میں آ جائیں یا پھر 30ستمبر تک اپنے ہتھیار حکومت کو جمع کرواتے ہوئے پوری طرح غیر مسلح ہو جائیں۔نئے عراقی پرائم منسٹر چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ درویش کا ماننا ہے کہ مڈل ایسٹ کی موجودہ صورتِ حال تا دیر برقرار نہیں رہ پائے گی۔ اسرائیل کسی بھی طرح جارحیت سے باز آتا دکھائی نہیں دیتا چنانچہ یہ قضیہ بھی ابھی ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

تازہ ترین