بہ طور ریاست پاکستان کے بارے دنیا کا تصور کچھ تبدیل ہوا ہے۔ ہم نے پچھلے سال مئی میں بھارت کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا تھا، اور اب ثالث و سہولت کار کے کردار میں تحمل اور "بردباری" کی مثال پیش کی ہے۔ طاقت اور بردباری کا یکجا ہونا بھی ایک نادر امتزاج ہے۔ طاقتور تو ہم روزِ اول سے بننا چاہتے تھے، اس کا ٹوٹا پھوٹا اظہار بھی کرتے رہے، لیکن اب دنیا نے بھی تسلیم کر لیا ہے، رہی بات "بردباری "کی تو یہ ہماری ایک نودریافتہ صفت ہے۔
اقوامِ عالم نے بھی ہمیں کبھی "بردبار" ریاست نہیں سمجھا، سرد جنگ کے زمانے میں ہم کھل کر مغربی کیمپ کا حصہ رہے، مغربی فوجی معاہدوں کا حصہ رہے، بھارت سے جنگوں میں مصروف رہے، خطے میں مغرب کی جنگیں لڑتے رہے، پھر خود دہشت گردی کا شکار ہو گئے، یعنی داخلی اور خارجی مسائل کوبردباری سے حل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اگر ایک ریاست خود کو سکیورٹی سٹیٹ کے طور پر دیکھتی ہو تو اسکے پاس بردباری کی زیادہ گنجائش نہیں بچتی۔ بہرحال، اب کیوں کہ ہم دفاعی طور پر اپنی طاقت منوا چکے ہیں، اس لیے یہ گنجائش نکل آئی ہے۔ (کمزور ریاستیں، وہ بھی اس خطے میں، خاک بردباری کا مظاہرہ کریں گی) خطے کے حالات نے ہمیں ایک نادر موقع فراہم کیا اور ہم نے دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا۔ ہر قدم بردباری سے اٹھایا، ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولا۔ جیسے گاؤں کے مولوی صاحب، دانے چودھریوں سے لیتے ہیں، پھر ان کے جھگڑوں میں پنچایت میں بھی بٹھا لیے جاتے ہیں، کچھ اسی طرح اس وقت پاکستان نے ایک معتبرعبا اوڑھی ہوئی ہے۔ بلا شبہ، یہ توقیر ایک فاقہ کش ریاست کیلئے کرشمےسے کم نہیں۔
ہر ملک کی ایک ’’پرسنیلٹی‘‘ ہوتی ہے۔ درست یا غلط، ایک امیج ہوتا ہے۔ تصور یہ ہے کہ امریکا طاقتور، مداخلت پسند اور اپنے معاشی مفادات کیلئے اقوام کے بازو مروڑنے والا ملک ہے، چین ابھر چکا ہے جو موجودہ ورلڈ آرڈر کوچیلنج کر رہا ہے، معاشی و عسکری دیو بن رہا ہے، اور تزویراتی بردباری کا مظہر ہے، روس سخت جان، کرخت، اپنے خطے میں بے دھڑک طاقت کا استعمال کرنے والا ملک ہے، اسی طرح ہر ملک کی ایک پرسنیلٹی ہے، سوئٹزرلینڈ پُر امن اور غیر جانب دار ہے، جاپان منظم، پر امن، شائستہ اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ ہے، اور جرمنی اولو العزم، جنگ مخالف، اور معیاری مصنوعات کا استعارہ ہے۔ (لڑکپن میں ہمارے ایک دوست تھے، جب وہ مدحِ نوبہارِ نازمیں مبالغہ کی حد تک جانا چاہتے تھے تو فرمایا کرتے تھے "جرمن مال ہے") اسی طرح پاکستان کی بھی اقوامِ عالم میں ایک پرسنیلٹی رہی ہے، جسکی تفصیل میں جانے سے دل دکھتا ہے۔ کیا ثالثی کے کارنامے سے ہماری جون بدل گئی ہے؟ افتخار عارف صاحب فرماتے ہیں۔
زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی
سوال صرف یہ ہے کہ جنگ بندی میں ہمارے کردار نے جو بنیاد فراہم کی ہے کیا ہم اس پر ایک مستحکم عمارت کھڑی کر سکتے ہیں؟ ہم نے جس بردباری کا مظاہرہ دوسروں کے جھگڑے سلجھانے میں کیا ہے، ویسی ہی بردباری ہمیں اپنے جھگڑے سلجھانے میں بھی دکھانا ہو گی۔ یہ ایک لمبا سفر ہے جو ثابت قدمی کا متقاضی ہے۔ ملک کی معاشی حالت بہتر بنائے بغیر یہ سفر ممکن نہیں ہو گا، عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنائے بغیر یہ راستہ نہیں کٹ پائیگا۔ جب کسی قوم کو ایسا موقع میسر آتا ہے تو وہ صرف اُسی صورت میں اس سے دیرپا فائدہ اٹھا سکتی ہے اگر اُس نے اسکی تیاری کر رکھی ہے ورنہ جلد ہی جھاگ بیٹھ جاتی ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ ہم نے تیاری تو خوب کر رکھی ہے مگر صرف ایک ہی شعبے میں، یعنی دفاع۔ اور اسی شعبے میں ہمیں مواقع ملنے کی توقع ہے۔ حالیہ جنگ کے بعد خلیج کا خطہ نئی سکیورٹی ڈھانچے کی تلاش میں ہے، یعنی "جاب ویکنسی" نکل رہی ہے، اور پاکستان اس پوزیشن کیلئے"ایلجی بل" ہے۔ بڑا کردار ادا کرنے میں بس ایک مسئلہ ہوتا ہے، حاسد بڑھتے ہیں، دشمن بڑھتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں اسرائیل کُھل کر ہمارے خلاف صف آرا ہو سکتا ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ ہمارے لیے جو راستے آگے ابھرنے کی توقع ہے وہ بھی میدانِ حرب سے ہو کر گزریں گے۔ یعنی، اگر پاکستان کامیابی سے اگلی منازل طے کرے تو عالم اقوام میں اسکا امیج ایک طاقتور اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
میکاولی نے کہا تھا حکمران اور ریاستیں تعظیم اور خوف دونوں کے خواہاں ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ"خوف" کا چناؤ کرتے ہیں۔ آج بھی "کامیاب" ریاستیں طاقت، قانون و اصول اور قابلیت کے آمیختے سے وجود میں آتی ہیں۔ اسرائیل کی سفاک ریاست کی مثال دیکھیں، جسکے پاس طاقت بھی ہے اور قابلیت بھی، لیکن قانون اور اصول نہیں ہیں، سو وہ خوف کی علامت ہے، احترام کی نہیں۔ قصہ مختصر، سیاسیاتِ عالم نے پاکستان کو ایک بنیاد فراہم کی ہے، ہم اب اس پر جو بھی مینار تعمیر کریں گے وہ اقوامِ عالم کو دور سے نظر آ جائے گا، اسی کو ریاست کا امیج کہتے ہیں۔ طاقت ہماری دسترس میں ہے، قابلیت اور قانون کی پاسداری کی خُو پیدا کرنا ہو گی۔ داخلی معاملات بھی بُردباری سے حل کرنا ہوں گے، آخر، ہماری بُردباری صرف غیروں کیلئے مخصوص تو نہیں ہے۔ یہ ایک نئے آغاز کا نادر موقع ہے، یہ ضائع نہیں ہونا چاہئے۔