• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماجرا … 

اگست 2021ء میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان سے واپس جا رہا ہے ۔ اسکے ساتھ ہی پاکستان میں جشن برپاہوگیا۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا: 

شہر در شہر گھر جلائے گئے

یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے

اک طرف جھوم کر بہار آئی

اک طرف آشیاں جلائے گئے

طالبان کی فتح پر جو لوگ جشنِ طرب منا رہے تھے، آج ان پہ کہرام برپا ہے ۔ اس وقت میں نے یہ لکھا تھا کہ یہ کوئی فتح نہیں ۔ ملا عمر اور اسامہ بن لادن نے افغان قوم اور امت مسلمہ کوتباہ کر کے رکھ دیا۔ افغانستان پر امریکی حملے میں القاعدہ اور افغان طالبان برابر کے قصوروار تھے ۔ یہ ساری جنگ غیر ضروری تھی ۔ اس پر کسی مہربان نے طنز کیا کہ ملا عمر کو چاہئے تھا کہ بندوق اٹھانے کی بجائے پروفیسر احمد رفیق اختر کی طرح سگریٹ پیتے ہوئے دانشورانہ فلسفے بھگارتارہتا توشاید افغان قوم کا کچھ بن جاتا۔افغانستان سے امریکی واپسی پر میں نے لکھا:یہ ایک عجیب فتح ہے ، جس میں ایک امریکن فوجی کو قتل کرنے کیلئے خودکش حملے میں درجنوں بے گناہ مسلمان قتل کر دیے جاتے ۔ آج امریکی شہروں میں جنگ کا کوئی نشان نظر نہیں آتااور افغانستان خون سے لتھڑا ہوا ہے۔ یہ کیسی فتح ہے ؟

کیا افغان جنگی طیاروں اور ٹینکوں نے امریکی فوج کو پسپا کر دیا؟ اس وقت میرے والد کے ایک ایڈیٹر دوست ناخوش ہوئے ؛حالانکہ پاکستان میں طالبان کی حکومت انہیں ہرگز گوارا نہ ہوتی کہ وہ تصوف کے قائل ہیں ۔ طالبان کی فتح پر خواجہ آصف نے ٹویٹ کی: طاقتیںتمہاری ، خدا ہمارا !آج وہی خواجہ آصف طالبان حکومت کے خلاف جذبات کو لیڈ کر رہے ہیں ۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

آج ایک اخبار میں چھپا ہے کہ طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا۔باغی کمانڈر جمعہ خان فاتح صوبہ بدخشاں میں جنگ کیلئے تیار ہے ۔ افغان رجیم کی مذاکرات اور نئے عہدے کی پیشکشوں کے باوجود جمعہ خان نے حکومتی ڈھانچے میں واپسی کو مسترد کر دیا ہے۔نیشنل ریزسٹنس فرنٹ،افغان فریڈم فرنٹ، افغان گرین ٹرینڈ اورجمعہ خان فاتح کی تحریک سمیت طالبان حکومت کے خلاف کئی فرنٹ کھل چکے ہیں ۔ صورتِ حال یہ ہے کہ افغان لڑکیوں کا تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہوچکا۔ ابھی چند روز قبل بچوں کو آن لائن پڑھانے کے جر م میں ایک استانی کو سرِ عام کوڑے مارے گئے ۔

پاکستان مخالف اور بھارت نواز جذبات اپنے عروج پہ ہیں ۔ یہ ہیں وہ ہمارے مسلمان مجاہد بھائی، ابھی پانچ سال قبل امریکہ کو شکست دینے پر ہم جن کی حمایت میں جشن منا رہے تھے ۔ آج ریاستِ پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ طالبان نہیں ، یہ خارجی ہیں ۔ میں تو پہلے سے انہیں علم اور عقل سے محروم درندے ہی سمجھتا تھا ۔ سوال مگر یہ ہے کہ ریاست ایک بیانیہ ہمارے سامنے رکھتی ہے اور ہم سب اس پہ ایمان لے آتے ہیں ۔ چند برس کے بعد ریاست ایک بالکل متضاد بیانیہ نشر کرتی ہے اور ہم دوبارہ ایمان لے آتے ہیں ۔ جو اختلاف کرے ، وہ طعنوں کی زد میں ہوتا ہے ۔ حیرتوں کی حیرت یہ کہ جو افغان جنگجودن رات قرآن پڑھتے ہیں ، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مسلمان ملک تو کجا، اگر کسی غیر مسلم سے بھی معاہدہ ہو تو وہاں گوریلا جنگ برآمد نہیں کی جا سکتی ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ابھی کل تک جو لوگ ہماری نظر میں اخلاقی عظمت کے مینار ہوا کرتے تھے، وہ آج پاکستان کیخلاف سازشوں  میں کیوں مشغول ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ افغان " مجاہدین " میں ہم جنس پرستی کا رجحان دنیا میں شاید سب سے زیادہ بلند ہے ۔اگرچہ عبادت میں کوتاہی نہیں ۔

امریکہ سے اگر کسی نے واقعی جنگ لڑی اور جیتی تو وہ ایران ہے ۔ اس نے تھپڑ مار مار کے اسرائیل کا چہرہ بھی سرخ کر دیا ۔ باقی امت چوڑیاں پہنے امریکی کیمپ میں بیٹھی رہی ۔ایران نے اس جنگ کے ہر موڑ پہ حکمت سے کام لیا ۔ مذاکرات میں بھی آخری درجے کی ذہانت اور شجاعت سے کام لیا ۔

یا د رہے کہ سزا یا قصاص درندوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کیلئے ہوتےہیں ۔ تبدیلی کوڑوں اور ڈنڈوں سے نہیں ، تعلیم سے آتی ہے ۔یہ بات کسی کو کون سمجھائے ۔گوکہ بہت سے مذہب پسند طالبان سے بدرجہا بہتر ہیں لیکن آپ دیکھیں گے کہ دنیا بھر میں جس گروہ نے بھی نفاذِ اسلام کی کوشش کی، اس نے آغاز اسلامی سزائوں کے نفاذ سے کیا ۔ دوسری طرف قرآن کھول کر دیکھیں تو یہ زمین و آسمان کی تخلیق پہ غور کرنے ، عقل والوں کی ستائش سے بھرا پڑا ہے ۔ صلح حدیبیہ دیکھیں یا فتح مکہ ، ہر جگہ آپ کو آخری درجے کی حکمت ، عام معافی کا اعلان اور عفوودرگزر نظر آئے گا ۔ویسے آپس کی بات یہ ہے کہ اس وقت اسرائیل اور ہمارے خارجی کرم فرمائوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ۔طالبان کی طرح اسرائیلی بھی اپنے تئیں مذہب پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں ۔ اس وقت پوری عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہموار ہو چکی اور یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ خارجی ہوں یا اسرائیلی ایک ہی تجربہ بار بار دہرایا جا رہاہے ۔پھر نتائج کیسے بدلیں ؟

تازہ ترین