• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ عرصے سے ہمارے ہاں تصوف ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرگیا ہے اور یہ تصوف نہیں کچھ اور ہے جبکہ سچے صوفی ہر زمانے میں اور ہر دور میں موجود رہے ہیں اور اس وقت بھی لاکھوں کی تعداد میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان میں سے جن صوفیائے کرام سے میرا قلبی تعلق ہے میں ان کی پوری زندگیاں سامنے رکھ کر ان کا معتقد ہوا ہوں۔ ان میں ایک صوفی غلام رسول بھی ہیں ۔وہ ایک دفتر میں سپرنٹنڈنٹ ہیں ۔ اپنی تنخواہ میں ہی گزارا کرتے ہیں۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں تین بیاہی گئی ہیں۔ ایک ابھی یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے، صوفی غلام رسول جس دفتر میں سپرنٹنڈنٹ ہیں وہاں دس بیس ہزار روپے یومیہ”دہاڑی“ کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر صوفی صاحب اپنی محدود تنخواہ میں گزارہ کرتے ہیں ۔، ان کا آبائی گھر ڈیڑھ مرلے کا ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ انہیں مالی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو لیکن میں نے ان کی زبان سے کبھی ایک لفظ بھی اس حوالے سے نہیں سنا،ہر وقت اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ملازمت کے دوران ان کیساتھ بہت زیادتیاں بھی ہوئیں ، ان کی حق تلفی کرتے ہوئے ان سے جونیئر لوگوں کو وہ پوسٹنگ دی گئی جو اپنی”نیک کمائی“ میں سے ا پنے باس کی ”غربت“ بھی دور کرسکتے تھے۔میں جب کبھی صوفی صاحب سے ملنے ان کے ہاں جاتا ہوں وہ مجھے اتنے مطمئن اور اتنے خوش نظر آتے ہیں جیسے دنیا بھر کی کامیابیاں اور کامرانیاں ان کے قدموں میں ڈھیر ہوچکی ہیں۔ میں جتنی دیر ان کے پاس بیٹھتا ہوں ان کی زبان سے کسی کی غیبت سننے کو نہیں ملتی، ان کی شخصیت میں نہ غصہ ہے ،نہ کینہ پروری ہے، نہ انتقام ہے، نہ زمانے کی بے قدری کا گلہ ہے، نہ کسی پر بہتان لگاتے ہیں نہ علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ انہیں اپنے تقوے کا کوئی زعم ہے۔

نماز کا وقت ہوتا ہے تو صرف اتنا کہتے ہیں”میں ابھی حاضر ہوا“ اور پھر واپس آ کر دوبارہ اسی طرح محو کلام ہو جاتے ہیں ، مجھے ان کی باتوں میں گلوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ان کے چہرے پہ ہر وقت ایک خوبصورت مسکراہٹ کھلی رہتی ہے اور دیکھنے والا ان کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے۔ میں جب کبھی پریشان ہوتا ہوں، ان کی طرف جاتا ہوں اور دعا کے لئے کہتا ہوں ،وہ فرماتے ہیں”میں تو ایک گنہگار انسان ہوں، مجھے تو خود آپ کی دعائیں درکار ہیں“ میں اسکے جواب میں ہنستے ہوئے کہتا ہوں’’اور پھر تو آپ میرے لئے ضرور دعا کریں کیونکہ میں نے سنا ہے گنہگاروں کی دعائیں جلد قبول ہوتی ہیں“ وہ بہت کم قہقہہ لگاتے ہیں مگر میری اس طرح کی بات پر وہ ایک ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ”اللّٰہ کرم کرے گا!“ اور اللّٰہ مجھ پر واقعی کرم کرتا ہے۔

مگر دوسری طرف جن ”صوفیائے کرام“ کو میں شو رومز میں سجا دیکھتا ہوں، وہ کمر کمر تک دنیا میں دھنسے ہوئے ہیں ان کے دل نفرتوں سے بھرے پڑے ہیں ، ان کے رویے ان کی انا کے اسیر ہیں، ان کے جسموں میں کینہ پروری اور انتقام کے کیڑے پڑ چکے ہیں، ان کے بدبودار خیالات کی سڑاند سے ساری فضا مکدر ہو جاتی ہے لیکن ان کی زبانوں پر نغمہ سرمدی ہے۔ میں جانتا ہوں یہ سب لوگ اپنی گناہ آلود زندگیوں سے بیزار ہو کر سچ کی تلاش میں گھروں سے نکلے تھے لیکن ان کی بدقسمتی کہ ان کے مرشد ان کے دلوں کی صفائی نہ کرسکے، انہوں نے دل کی صفائی کے لئے ذکر اذکار بتائے، انہوں نے ذکر شروع کردیا، ممکن ہے نمازیں بھی ادا کرنا شروع کردی ہوں، وظیفے بھی کئے ہوں، کچھ چلے بھی کاٹے ہوں اور اس کے بعد وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور خود کو تصوف کے اعلیٰ مقام پر فائز سمجھ لیا۔ اب یہ ”اللّٰہ کے نیک بندے“ تیل میں بھگویا ہوا بارہ نمبر چھتر ہاتھوں میں لئے صبح صبح گھر سے نکلتے ہیں اور ”گنہگاروں“ کی چھترول شروع کردیتے ہیں۔ ان کے مرشد ان کی نمازیں ،ان کے روزے، ان کی تسبیحیں دیکھ کر مطمئن ہیں کہ ان کا ظاہر ہی نہیں ان کا باطن بھی پاک ہوگیا ہے لیکن انہیں علم نہیں کہ زہد کے غرور سے ان کا باطن مزید غلیظ ہوچکا ہے۔

دراصل روحانی دنیا، رومانی دنیا سے بہت مختلف چیز ہے۔ یہ خواب و خیال کی نہیں، حقیقت کی دنیا ہے، یہاں ظاہری اعمال نہیں ،چھپے ہوئے اعمال پرکھے جاتے ہیں۔ جو اس راہ کے سہل پسند مسافر ہیں وہ چند قدم چلنے کے بعد سمجھنے لگتے ہیں کہ انہوں نے منزل پالی ہے اور پھر وہ باقی سب کو حقارت اور نفرت کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں، انہیں تصوف ہضم نہیں ہوتا اور یوں وہ ہر وقت کھٹے ڈکاروں سے فضا کو مکدر بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اس دور میں جو صوفی دانشور گزرے ہیں ان میں سے واصف علی واصف سے میری نیازمندی رہی ہے۔ وہ بالکل عام لوگوں کی طرح نظر آتے تھے، نہایت خوبصورت گفتگو کرتے تھے، ان کی صحبت میں انسان کو قرار ملتا تھا، زندہ صوفیوں میں سید سرفراز شاہ میرے مربی ہیں وہ صاحب کشف ہیں، نہایت خوش مزاح اور اعلیٰ درجے کے میزبان ۔ ان کی محفل میں بیٹھیں تو ایک سرشاری کی کیفیت محسوس ہوتی ہے، پروفیسررفیق اختر کے عقیدت مندوں سے اس بے تکلفی کی معذرت لیکن میرا یہ ایم اے او کالج کے زمانے کا دوست ہے جہاں ہم پڑھاتے تھے ، اس کی درویشی کی بنا پر اسے ”جوگی“ کہا جاتا تھا ۔بلاشبہ ایک اعلیٰ درجے کا نیک پارسا اور عالم شخص ہے ، میں نے تو ان سب کے دل صاف دیکھے، کینہ، نفرت، انتقام، ہوس دنیا، دربار داری، مجھے تو یہ ”صفات“ ان میں کہیں نظر نہیں آئیں۔ جن لوگوں کا میں نے کالم کے درمیانی حصے میں ذکر کیا ہے یہ”صوفی، نہیں ہیں بلکہ صوفیوں کے بول و براز بھی نہیں مگر روپ انہوں نے صوفیوں ہی کا دھارا ہوا ہے۔ ان کے مرشد ان کے ظاہر کو بہتر بنانے میں لگے رہے اور ان کے باطن کی صفائی بھول گئے،ممکن ہے ان کے اندر کی گندگی نکالنے کے لئے جتنے بلڈوزر ،کرینیں اور دوسری مشینیں درکار تھیں ان کا بندوبست نہ ہوسکا ہو، سو انہوں نے انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیا۔ بس اب آپ بھی ان کی حکایتیں سنا کریں، ان کے علم و فضل کے قصے ان کی اپنی زبانی سنتے رہیں، البتہ جب وہ اپنی درویشی اور بے نیازی کا احوال بیان کرنے لگیں تو اقبال کا یہ شعر یاد کریں ایک آہ بھریں اور خاموش ہوجائیں۔

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری

تازہ ترین