چھت گرنے میں چند سیکنڈ لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام برسوں سے اندر ہی اندر گر رہا تھا۔ ملبے سے چودہ معصوم بچوں کی لاشیں نکالی گئیں لیکن اس ملبے کے نیچے صرف اینٹیں سریا اور سیمنٹ نہیں تھا وہاں قانون کی کمزوری انتظامی غفلت اداروں کی بے حسی اور ہماری اجتماعی خاموشی بھی دبی ہوئی تھی۔ چودہ بچے مرے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف چودہ بچے مرے ہیں یا ہمارے اندر جواب دہی کا احساس بھی ایک بار پھر دفن ہو گیا ہے؟ذہن میں بار بار ایک ہی سوال گونجتا ہے۔ آخر اس ملک میں ہر سانحے کے بعد صرف ملبہ کیوں اٹھایا جاتا ہے نظام کیوں نہیں؟
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی حادثے ہوتے ہیں لیکن وہاں ہر حادثہ آئندہ حادثے کو روکنے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ برطانیہ میں گرینفیل ٹاور کا سانحہ ہوا تو عمارتی قوانین بدل دیے گئے حفاظتی معیارات سخت کیے گئے اور برسوں تک تحقیقات جاری رہیں۔ جنوبی کوریا میں سیول فیری حادثے نے پورے حکومتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ذمہ داروں کو قانون کے سامنے جواب دینا پڑا اداروں کی تنظیم نو ہوئی اور مستقبل کیلئےنئے حفاظتی نظام وضع کیے گئے۔ جاپان میں کسی ایک حادثے سے بھی سبق سیکھا جاتا ہے تاکہ آئندہ ایک جان بھی ضائع نہ ہو۔
ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔ یہاں ہر حادثہ اگلے حادثے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔جیسے ہی حکومت سے سوال پوچھا جائے فوراً لاتعداد ترجمانوں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں کہ کیا یہ حادثہ خود حاکمِ وقت نے کیا تھا؟ ارے بھائی نہیں کسی نے یہ نہیں کہا۔ مگر اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں جواب دہی کا نام بھی ہے۔ اگر ایک سڑک بنے تو حکومت کریڈٹ لیتی ہے اگر ایک پل بنے تو افتتاح حکومت کرتی ہے اگر کوئی منصوبہ کامیاب ہو تو اشتہار حکومت دیتی ہے۔ پھر جب نگرانی کا نظام ناکام ہو جائے قوانین پر عمل نہ ہو معصوم بچے ملبے تلے دب جائیں تو سوال بھی حکومت سے ہی ہوگا۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے اور یہی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ یہ ایک نجی اکیڈمی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نجی ادارے قانون سے آزاد ہوتے ہیں؟ کیا ان کی عمارتوں کا معائنہ کسی کی ذمہ داری نہیں؟ کیا یہ دیکھنا کسی ادارے کا فرض نہیں کہ جہاں درجنوں بچے روزانہ بیٹھتے ہیں وہ عمارت محفوظ بھی ہے یا نہیں؟ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا؟ اگر عمل نہیں ہوا تو ذمہ دار کون ہے؟ لاہور کوئی دور دراز کا گاؤں نہیں۔ یہاں ایک چھوٹا سا بورڈ لگانے کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ایک اینٹ رکھنے پر بھی مختلف ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک ایسی عمارت جہاں روزانہ بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے متعلقہ اداروں کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ اگر اتنے بڑے انتظامی ڈھانچے کے باوجود یہ سانحہ پیش آ گیا تو سوال کسی ایک شخص سے نہیں پورے نظام سے بنتا ہے۔اس سانحے نے ایک اور تلخ حقیقت بھی بے نقاب کی ہے۔ ہم سانحات کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں۔ پہلے ایک حادثہ پورے معاشرے کو جھنجھوڑ دیتا تھا، اب چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے غفلت کرنے والے بھی پُرسکون رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام کا غصہ زیادہ دیر نہیں رہتا۔ چند دن بعد نئی خبر آ جائے گی، نیا تنازعہ شروع ہو جائے گا اور پرانی قبروں پر خاموشی اتر آئے گی۔
ریاست کی پہلی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھی اطمینان کے ساتھ نہ بھیج سکیں تو پھر ریاست کی کامیابیوں کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ ریاست صرف سڑکیں پل اور عمارتیں بنانے سے مضبوط نہیں ہوتی ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک عام شہری کو یقین ہو کہ اس کے بچے محفوظ ہیں۔ضرورت صرف افسوس کے اظہار کی نہیں ایسے احتساب کی ہے جو مثال بن جائے۔ اگر کسی افسر نے غفلت برتی ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔ اگر کسی ادارے نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ اگر کسی قانون میں خامی ہے تو اسے پارلیمان میں درست کیا جانا چاہیے۔ اگر نگرانی کا نظام کمزور ہے تو اسے مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ یہ پہلا سانحہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی چکوال، سرگودھا، ساہیوال، بھاٹی گیٹ، کھلے مین ہولز میں گرتے بچے، خستہ عمارتوں کے انہدام اور ایسے کئی افسوسناک واقعات اس ملک کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہر بار افسوس کا اظہار ہوا، ہر بار تحقیقات کا وعدہ کیا گیا، لیکن اگر ان سانحات کے باوجود نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں آئیں تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ہم کب سیکھیں گے؟
شاید اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں حادثے کم اور بھول جانے کی عادت زیادہ خطرناک ہے۔ ہم ہر سانحے پر روتے ہیں مگر اس نظام کو بدلنے کے لیے اتنا شور نہیں مچاتے جس نے یہ سانحے پیدا کیے۔ ہم ہر بار متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں مگر اسکے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی اگلے سانحے کی بنیاد بن جاتی ہے۔معصوم جانوں کے اوپر گرنے والہ ملبہ صرف اینٹوں کا نہیں تھا ریاست کی ذمہ داری بھی اس کے نیچے دبی ہوئی تھی۔چودہ بچے واپس نہیں آئینگے۔ انکے والدین کی گودیں دوبارہ آباد نہیں ہوں گی۔ لیکن اگر اس سانحے کے بعد بھی قانون مضبوط نہ ہوا نگرانی مؤثر نہ ہوئی جواب دہی یقینی نہ بنائی گئی اور غفلت کرنے والوں کا احتساب نہ ہوا تو پھر اگلا سانحہ صرف وقت کا منتظر ہے۔ اس دن بھی ٹی وی کی اسکرینوں پر افسوس ہوگا بیانات ہوں گے وعدے ہونگے مگر ایک سوال پھر بھی زندہ رہے گا۔آخر کب تک؟