• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے پھنسے جہاز کے مالک محمد حسین شمخانی کون ہیں؟

دائیں تصویر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک معروف شخصیت محمد حسین شمخانی جبکہ بائیں جانب ان کا آبنائے ہرمز میں پھنسا جہاز اریستا—تصاویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
دائیں تصویر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک معروف شخصیت محمد حسین شمخانی جبکہ بائیں جانب ان کا آبنائے ہرمز میں پھنسا جہاز اریستا—تصاویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے پھنسا ہوا ایک تیل بردار جہاز ایک بار پھر خبروں میں آ گیا ہے، بحری نگرانی کے ادارے کا کہنا ہے کہ ایرانی میڈیا کے برعکس یہ جہاز حالیہ دنوں میں نہیں بلکہ مارچ سے اسی مقام پر موجود ہے۔

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اریستا نامی یہ جہاز بظاہر کوموروس کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے تاہم اسے ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک معروف شخصیت محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق محمد حسین شمخانی امریکا اسرائیل کے ایران پر کیے گئے پہلے حملے میں شہید ہونے والے علی شمخانی کے بیٹے ہیں جو ایران کی اعلیٰ قیادت کے اہم سیکیورٹی مشیر تھے، جبکہ امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ محمد حسین شمخانی پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

امریکا اور یورپی یونین کا الزام ہے کہ محمد حسین شمخانی کا نیٹ ورک فرنٹ کمپنیوں، جعلی شپنگ دستاویزات اور سمندر میں جہازوں کے درمیان تیل کی منتقلی کے ذریعے ایرانی اور روسی تیل کی اصل شناخت چھپا کر فروخت کرتا ہے جبکہ مالی لین دین کو بھی مختلف کمپنیوں کے ذریعے خفیہ رکھا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس نیٹ ورک سے ایران اور روس کو اربوں ڈالرز کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔

یورپی یونین کا بھی کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک روسی تیل کو مختلف پیٹرولیم مصنوعات میں ملا کر نئی شناخت کے ساتھ برآمد کرتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق محمد حسین شمخانی نے تاحال ان الزامات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکا نے ان پر پہلی بار پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ بعد ازاں مزید پابندیاں بھی لگائی گئیں۔

برطانیہ نے بھی ان کے اثاثے منجمد کرنے، سفری پابندی اور کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید