امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے سالمونیلا کے خدشے کے باعث معروف برانڈز کے ہزاروں آلو کے چپس کے پیکٹس واپس منگوا لیے۔
ایف ڈی اے نے یکم جولائی کو اس رضاکارانہ واپسی کو کلاس ون (Class I) قرار دیا ہے، جو ادارے کی جانب سے جاری کیا جانے والا سب سے سنگین انتباہ ہے، اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ متاثرہ مصنوعات کا استعمال صحت کے لیے سنگین نتائج یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ چپس مئی میں واپس منگوائے گئے تھے، جب کمپنی کو معلوم ہوا کہ ایک سپلائر کی جانب سے فراہم کیے گئے خشک دودھ کے پاؤڈر سے تیار کردہ مسالہ ممکنہ طور پر سالمونیلا سے آلودہ ہو سکتا ہے۔

تائیوان کے ایک ماہر صحت نے کہا ہے کہ زیادہ انڈے کھانا یا انھیں کم پکاکر کھانے سے ان کی غذائی افادیت کم ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ انڈے روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں لیکن روزانہ کتنے انڈے کھانے چاہئیں، یہ ایک اہم سوال ہے۔

کمپنی کے مطابق مسالے کے نمونوں کے ٹیسٹ منفی آئے تھے، تاہم احتیاطاً یہ اقدام کیا گیا۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اب تک ان مصنوعات کے استعمال سے کسی بیماری کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور دیگر مصنوعات اس سے متاثر نہیں ہیں۔
متاثرہ مصنوعات امریکا کی مختلف ریاستوں، بشمول ٹیکساس، میں فروخت کی گئی تھیں، ایف ڈی اے اور کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس متاثرہ چپس موجود ہوں تو انہیں استعمال نہ کریں بلکہ واپس کر دیں یا تلف کر دیں۔
سالمونیلا ایک بیکٹیریا ہے جو خوراک سے پھیلنے والی بیماری سالمونیلوسس کا باعث بنتا ہے، اس کی عام علامات میں اسہال، بخار، پیٹ میں درد، متلی اور قے شامل ہیں، جو آلودہ خوراک کھانے کے 6 گھنٹے سے 6 دن کے اندر ظاہر ہو سکتی ہیں۔
زیادہ تر افراد 4 سے 7 دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، تاہم کم عمر بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں میں یہ انفیکشن سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ بعض نایاب کیسز میں یہ خون میں پھیل کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
