انفرادی اغراض کیلئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال لیکن اجتماعی معاشرتی فوائد پر اغماص انسانوں کا عمومی شیوہ رہا ہے۔ اجتماعی مفادات اور معاشرتی بھلائی کی منصوبہ بندی میں انسان عدم توجہ، قدرتی وسائل کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔ ذاتی اور اجتماعی رویوں کا یہ تضاد ہی تو ہے کہ جنگلات کٹ کر کمرشل منفعت کیلئے ہائوسنگ سوسائٹیوں کی نذر ہو رہے ہیں اور دریا کے پانیوں کی گزرگاہیں مسدود ہو رہی ہیں۔ لوہی بھیر جیسے قدرتی جنگلات کٹ گئے۔ حکومتی استثنائوں نے وہاں ٹائون بنا دیئے اور سوان کے آزاد رَو پانیوں کو بحری تعمیرات نے ایسا غائب کیا کہ پوٹھوہار کی قدیم وادی سے اس کے دریا کی پہچان ہی چھین لی گئی۔ اسے نالوں اور نالیوں میں تقسیم کر کے دریا کو منظر سے ہی غائب کر دیا تاکہ نئی نسلیں اپنے آباء کی قدرتی نشانیوں کی کھوج میں کہیں اس عظیم دریا کی دریافت اور بحالی کا مطالبہ نہ کر دیں۔ دنیا کے قدیم ترین انسانی تمدن یعنی پوٹھوہار کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ اسکے دریائوں، وادیوں کو عارضی تجارتی تصرف کی دستبرد سے محفوظ کیا جائے اور اسکے قدرتی وسائل کے تنوع کو برقرار رکھا جائے۔ لاکھوں سال پرانے دریائے سوان اور اسکی وادیوں کے تحفظ کیلئے دریا کے پانیوں کو آبیاری اور ذخیرہ بندی کیلئے محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ اب بھی اس دریا کی وادی میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہر سال 12 سے 14 ملین ایکڑ پانی کو عارضی طور پر ذخیرہ کر سکے۔ عظیم خطہ پوٹھوہار میں 6عدد دریائی طاس موجود ہیں۔ جن میں سوان بیسن سب سے بڑا ہے۔ یہ دریائی طاس پوٹھوہار خطہ کے اَسّی فیصد پانی کو سمیٹ سکتا ہے۔ پتریاٹا اور مری سے نمودار ہو کر دریائے سندھ کی Tributary بنتا ہے اور کالاباغ ڈیم کے مجوزہ مقام پر دریائے سندھ میں داخل ہو جاتا ہے۔ ڈھوک پٹھان کے مجوزہ مقام پر سوان ڈیم کی تعمیر ملک کیلئے ریکارڈ فوائد اور برکات کا باعث ہوگی۔ 1955ء میں ورلڈ بینک کے ماہرین نے تفصیلی سروے کے بعد اس ڈیم کو ملکی معیشت کیلئے بھرپور مفید بتایا ہے۔ اس کی تعمیر سے نہ صرف سطح مرتفع پوٹھوہار کا آوارہ منش پانی جمع ہو کر مخلوق کیلئے آسودگی کا باعث بنے گا، بلکہ ایک نہر جو 100کلومیٹر دور تربیلا ڈیم کے بالائی پانیوں سے استفادہ کر کےاسے دریائے سوان تک منتقل کر سکتی ہے اور یوں ہم صاف پانیوں سے ترستے شہروں اسلام آباد، راولپنڈی کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔ مجوزہ سوان ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 30ملین ایکڑ فٹ ہو گی، جو کہ تربیلا اور بھاشا کی مجموعی استعداد سے 6گنا زیادہ ہے۔ ذخیرہ شدہ پانی کو بوقت ضرورت آزاد کرتے وقت اس سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ 2022ء کے خوفناک سیلاب جسکی تباہ کاریوں سے مجموعی طور پر ملک پاکستان کو 16بلین ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ ایسی صورتِ حال کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے بچنا مقصود ہے تو سوان جیسے ڈیموں کی تعمیر شروع کی جائے۔ یہ اضافی برساتی پانی جو محض تین ماہ میں سمندر کی نذر ہو جاتا ہے، اپنی گزرگاہوں یعنی پوٹھوہار، تھل، چولستان اور سندھ میں بے آب و گیاہ علاقوں کو زرعی انقلاب کیلئے تیار کر سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر سے صرف مالیات میں سالانہ 90بلین ڈالر کا فائدہ حاصل ہو گا۔ بلاشبہ موجودہ زیرتعمیر داسو، بھاشا اور مہمند ڈیموں کی وجہ سے ملکی پانیوں کی اسٹوریج گنجائش 30دن سے بڑھ کر 55دن ہو جائیگی، لیکن محض سوان ڈیم کا آبی ذخیرہ اس کیفیت کو 80روز بڑھا سکتا ہے جو عالمی معیار کے قریب ترین ہے۔ دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سمندر کے کڑوے پانی کا دخول اور سیم و تھور کی صورتِ حال سے بچائو کیلئے دریائے سندھ میں سارا سال بہائو نہایت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے سندھ میں شامل ہونے والا برساتی دھارا محض تین ماہ تک اس خطرہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ مگر بالائی علاقوں میں سوان جیسے بھرپور ذخائر کی تعمیر سے پانی کے بہائو کو ہم سارا سال قائم رکھ سکتے ہیں، سمندر کے پانیوں کو دائمی طور پر ساحلوں سے پرے دھکیل سکتے ہیں۔ سیلابی پانیوں کی مناسب اسٹوریج کا اہتمام ہو جائے تو صوبہ سندھ کی زرعی اور سمندری ضروریات کے پیش نظر رکھ کر ہم سارا سال دریائے سوان کے ذخیرہ شدہ پانی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ سال بھر کھارے اور کڑوے پانی کو ساحلی زمینوں سے دور رکھنے کیلئے دریائے سندھ کو اندازاً ڈیڑھ کروڑ ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہے، جو صرف سوان ڈیم کا مجوزہ ذخیرہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ یوں صوبہ سندھ کے اعتراضات کا خاتمہ ہو گا، جو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں بلاشبہ سوان ڈیم کا پانی سندھ کی زیریں زمینوں کو بحیرۂ عرب کے کڑوے پانیوں سے بچائیگا۔ لیکن سوان بالائی گزرگاہوں کوبڑے رہائشی ٹائون جیسے تجارتی منصوبوں کی دست برد سے کون بچائے گا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ دیر آید درست آید۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں دائر کردہ رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پرائیویٹ رہائشی سوسائٹیوں کے ہاتھوں ماحولیاتی اور دریائی بربادیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس رِٹ کی ابتدائی سماعت میں ہی عدالت عالیہ نے فریقین کو دریائی رکاوٹوں کا سبب بننے والی تعمیرات سے منع کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایسے عناصر کیخلاف قانونی کارروائی کا انتباہ جاری ہوا ہے۔ عدالت عالیہ نے ماحولیاتی ماہرین کی تعیناتی کی ہے جو دریائی گزرگاہ پر تجاوزات کی نشاندہی کریں گے جسکی روشنی میں ماحولیاتی تباہ کاریوں کے حل پر عمل درآمد کروایا جائیگا۔ اُمید واثق ہے کہ عدالت عالیہ دریائے سوان کے پانیوں کی آزادانہ روانی، وادی کی ماحولیاتی بقا اور کالاباغ کےمقام تک دریائے سوان کی طاس زمینوں کو قبضہ گروپوں کی دست برد سے محفوظ کرنے کیلئے قابل تقلید تفصیلی فیصلہ جاری کرئیگی۔