• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد سے دہشتگرد تنظیموں اور گروہوں کا گڑھ بنا ہوا ہے اور افغانستان میں موجود طالبان کی عبوری حکومت ان تنظیموں اور گروہوں کو ہر قسم کی امداد و اعانت مہیا کر کے انہیںہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان میں تخریبی کارروائیا ں کرنے میں تعاون دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کا کردار افغانستان سے بھی زیادہ گھناؤنا ہے کیونکہ ان تنظیموں اور گروہوں کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ بھارت سے مل رہی ہے جس کا اعتراف بھارت کے کئی اہم عہدیدار مختلف مواقع پر کر چکے ہیں۔ یہ تنظیمیں اور گروہ پاکستان کے 2 صوبوں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جن پر قابو پانے کیلئے پاکستان کی سیکورٹی فورسز مسلسل سرگرمِ عمل ہیں۔ ان دہشتگرد تنظیموں میں سے ایک جماعت الاحرار سے وابستہ تخریب کاروں نے پاکستان رینجرز سندھ کے ایک کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جسے سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں3دہشتگرد مارے گئے جبکہ رینجرز کے3جوان شہید ہو گئے۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق، دہشتگردوں نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکا کرنے کے بعد سیکورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ کارروائی کے دوران ایک افغان دہشتگرد زخمی بھی ہوا جسے حراست میں لے لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان شہدا کے خون کا بدلہ لینے کیلئے حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بھرپور جوابی کارروائیاں کرے گا۔ اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنٹر میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)سے منسلک 3 اہداف کو نشانہ بنایا جس سے 25دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔دوسری جانب، افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان فوج کے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ترجمان پاک فوج نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ادھر، کراچی میں سندھ رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث گرفتار زخمی افغان دہشتگرد عثمان علی نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے آیا تھا اور اس کے ساتھ3اور کارندے بھی تھے جن کے نام عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق تھے۔ گرفتار دہشتگرد نے مزید بتایا کہ وہ لوگ7 روز قبل پاکستان آئے اور عبدالہادی کے پاس ٹھہرے جو باجوڑ کا رہائشی تھا۔ انہیں زیر تعمیر عمارت میں رکھا گیا۔ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ عبدالہادی وزیرستان سے لایا تھا۔ افغان دہشتگرد کا کہنا تھا کہ وہ جماعت الاحرار سے وابستہ ہے اور افغانستان میں ان کے کمانڈر کا نام احرار مولوی ہے۔ کراچی سے گرفتار ہونے والے دہشتگرد کے اعترافی بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ افغانستان ایسی دہشتگرد تنظیموں اور گروہوں کا گڑھ بنا ہوا ہے جو پاکستان میں تخریب کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان بار ہا افغان طالبان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر چکا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے دہشتگردوں کی وارداتیں دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کا باعث بن رہی ہیں لیکن افغان طالبان نے ہر بار حقائق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جسکے جواب میں پاکستان نے رواں سال فروری میں بھی کابل سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ اب دہشتگردوں اور ان کے پشت پناہوں کو مزید کوئی رعایت نہیں دی جائیگی۔پاکستان ہمیشہ افغانستان کا خیر خواہ رہا ہے اور اسکی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ پاکستان نے ساڑھے 4 دہائیوں تک افغان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دیئے رکھی لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی طرف سے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستان اب افغانستان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر چکا ہے اور موجودہ حالات میں اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب کاہنہ میں ٹیوشن پڑھنے کے دوران گھر کی چھت گرنے سے2 درجن کے قریب بچے ملبے تلے دب گئے ۔ ان میں سے14بچے جاں بحق ہو گئے جن میں ایک ہی خاندان کے3 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ایک ٹیچر اور5کمسن طلبہ اور طالبات اس سانحہ میں زخمی ہوئے۔ چھت گرنے سے ہونے والے دھماکے کی آواز سن کر اہل علاقہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچےاور ملبہ ہٹا کر نیچے دبے ہوئے بچوں کو نکالا اور مقامی ہسپتال میں پہنچایا۔ یہ ٹیوشن سینٹر کا ہنہ کے دیہی علاقے بستی عید گاہ میں ایک گھر کے اندر قائم تھا جہاں روزانہ35کے قریب بچے پڑھنے آتے تھے۔ اس گھر کی چھت ٹی آرگارڈر کی بنی ہوئی تھی اور وقوعہ کے وقت چھت کی مرمت کا کام جاری تھا کہ اچانک چھت نیچے آ گری۔ وقوعہ کے بعد پولیس اور امدادی ادارے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا ہنہ کے ایم ایس کے مطابق19بچے بچیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے14بچے بچیاں فوت ہو چکے تھے ۔ باقی5 بچے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وقوعہ کے بعد پولیس نے مالک مکان سمیت5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس سانحہ کی خبر ملتے ہی ملک بھر میں سوگ کی کیفیت پیدا ہو گئی اور اس سانحہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردارتک پہنچانے کا تقاضا کیا جانے لگا۔ صدر، وزیر اعظم سمیت کئی سیاسی رہنمائوں نے اس سانحہ میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کی جبکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ حکام سے اس سانحہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے جامع انکوائری اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

تازہ ترین