• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ میں بعض اوقات ڈھائی سال بھی کئی دہائیوں پر بھاری پڑ جاتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت کے ڈھائی سال کچھ ایسے ہی گزرے ہیں۔ یہ وہ عرصہ تھا جب ملک ایک طرف معاشی بحران، سیاسی بے یقینی اور سفارتی دباؤ کا شکار تھا اور دوسری طرف پورا خطہ جنگوں، کشیدگی اور غیر یقینی حالات کی لپیٹ میں تھا۔جب وزیراعظم میاں شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے، صنعتوںکے پہیے سست پڑ چکے تھے اور عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے تھے۔ ایسے میں شاید ہی کسی کے وہم و گمان میں یہ بات ہو کہ چند برس بعد یہی پاکستان عالمِ اسلام کی قیادت کرتا دکھائی دے گا۔ان ڈھائی برسوں میں پاکستان کو صرف معاشی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اسے بیک وقت کئی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنا پڑا۔ پاکستان نے افغانستان سے درپیش دہشت گردی کے خطرے کا بھرپور مقابلہ کیااور وہاں دہشت گردی کے انفر اسٹرکچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، بھارت کے ساتھ کشیدگی اور جنگی صورتحال میں اپنی قوت اور صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اسے شکست فاش دی، اور پھر مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی جنگ میں بھی ایک قائدانہ اور ذمہ دار کردار ادا کیا۔ یہ وہ ڈھائی سال تھے جن میں پاکستان نے صرف اپنے مسائل کا سامنا نہیں کیا بلکہ خطے کی سیاست اور سفارت کاری میں بھی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان حملوں میں ایران کو اندازاً دو سو ستر ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا اور اسکی عسکری اور سیاسی قیادت کے کئی اہم چہرے شہید کر دیے گئے۔ ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر آگے بڑھے، باقی ماندہ ایرانی سیاسی قیادت کے تحفظ کیلئے سفارتی کوششیں کیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمِ اسلام میں ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر سامنے آیا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان ڈھائی برسوں میں پاکستان صرف اپنے مسائل سے نہیں لڑا بلکہ پورے خطے میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہم آہنگی نے پاکستان کے وقار اور سفارتی ساکھ میں اضافہ کیا اور پاکستان کو ایک نئے مقام پر لا کھڑا کیا۔معاشی محاذ پر بھی صورتحال آسان نہیں تھی۔ ایک موقع پر متحدہ عرب امارات نے اپنے تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا تقاضا کر دیا۔ ایسے نازک وقت میں سعودی عرب ایک ایسے دوست کی طرح سامنے آیا جس نے نہ صرف پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا بلکہ پانچ ارب ڈالر کی معاونت فراہم کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ پاکستان تنہا نہیںبلکہ اس کے دوست اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج پاکستان کے سعودی عرب، قطر، ترکی اور ایران کے ساتھ تعلقات ایک نئی جہت اختیار کر رہے ہیں۔ عالمِ اسلام میں تعاون، معاشی شراکت داری اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک نئے علاقائی بلاک کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ اس سفارتی ماحول کے قیام کا سارا کریڈٹ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کو محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک متحرک، بااعتماد اور قابلِ اعتبار شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔اب حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے ڈھائی سال بنیادیں رکھنے، بحرانوں سے نمٹنے اور ریاستی استحکام کو بحال کرنے میں گزرے ہیں، جبکہ آنے والے ڈھائی سال ان کوششوں کے ثمرات سمیٹنے کے ہو سکتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے پاکستان کو سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری نئی سرمایہ کاری، تجارتی مواقع اور عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کیلئے مزید آسانیاں پیدا کر سکتی ہے۔

اسی طرح ایران کیساتھ تعلقات میں بہتری پاکستان کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر خطے میں استحکام قائم رہتا ہے اور ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کو سستا تیل، سستی گیس اور توانائی کے نئے ذرائع میسر آ سکتے ہیں۔سعودی عرب، قطر اور دیگر دوست ممالک کی سرمایہ کاری، علاقائی روابط میں بہتری اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت آئندہ برسوں میں روزگار، تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ یہ وہ ثمرات ہیں جن کے بیج گزشتہ ڈھائی برسوں میں بوئے گئے ہیں اور اب انکی فصل کاٹنے کا وقت قریب آ رہا ہے۔

قوموں کی زندگی میں کچھ فیصلے صرف حکومتوں کے نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان آج ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر سیاسی عدم استحکام، محاذ آرائی اور اقتدار کی رسہ کشی ایک بار پھر اس سفر کو روک دیتی ہے تو نقصان صرف ایک حکومت کا نہیں، پورے ملک کا ہوگا۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے ڈھائی سال آگ بجھانے میں گزرے ہیں، اگلے ڈھائی سال فصل کاٹنے کے ہیں۔ پہلے ڈھائی سال بنیادیں رکھنے میں گزرے ہیں، اگلے ڈھائی سال عمارت کھڑی کرنے کے ہیں۔

اسلئے سوال یہ نہیں کہ حکومت کس کی ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان کا فائدہ کس میں ہے۔ اگر استحکام میں ملک کا فائدہ ہے، اگر تسلسل میں معیشت کی بہتری ہے، اگر یہی راستہ پاکستان کو خطے کی معاشی اور سفارتی قوت بنا سکتا ہے، تو پھر اس سفر کو ادھورا کیوں چھوڑا جائے؟اس کمپنی کو چلنے دیا جائے، تاکہ اگلے ڈھائی سال میں معاشی ثمرات ملک اور عوام کو منتقل ہوسکیں۔

تازہ ترین