• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھ سالہ عروج پولیس افسر بننا چاہتی تھی، آٹھ سالہ ایمان ڈاکٹر بن بننا چاہتی تھی۔ خستہ حال مکانوں میں بسنے والےوہ بچے ایک روشن اور محفوظ مستقبل کے خواب دیکھتے تھے مگرہائے ری قسمت کہ ان کا حال ہی غیر محفوظ تھاوہ مستقبل کے روشن راستےتک کیسے پہنچتے۔تاہم وہ معصوم بے خبر بڑا آدمی بننے کی خواہش میں کتابیں کھول کر رٹے لگاتے، کاپیوں پر جھک کر لکھائی کی مشقیں کرتے شاید آپس میں کچھ خوش گپیاں بھی کرتے ہوں کیونکہ جہاں بچے ہوتے ہیں وہاں اٹکھیلیاںاور شرارتیں بھی ہوتی ہیں۔ اسی طرح پڑھتے اور ہنستے مسکراتے زندگی سے بھرے بچوں کے اوپر ٹیوشن سینٹر کی چھت آگری یہ سانحہ کسی بھی طرح میرے تصور میں نہیں آرہا ،کیسے ہوسکتا ہے کہ نہ بارش نہ زلزلہ نہ کوئی اور آسمانی آفت آئی اور تعلیم حاصل کرتے بچوں پر چھت گرگئی ۔ یہ اچھے بچے کتنے محنتی تھےسخت گرمی میں بھی پڑھنے جاتےکیونکہ وہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننے کےخواب دیکھتے تھے کبھی کبھی چھٹی کا دل کرتا تو امی ہمیشہ انہیں اچھا بچہ بننے کا سبق دیتی تھیں، ہمیشہ کہتیں اچھے بچے چھٹی نہیں کرتے اچھے بچے ٹیوشن پر جاتے ہیں پڑھائی کرتے ہیں گندے بچے پڑھائی نہیں کرتے تو پیچھے رہ جاتے ہیں۔ان کو کیا خبر تھی کہ وطن عزیز میں الٹی ہوا چل پڑی ہے، اچھا بننے کی سزا ملتی ہے سو وہ اچھے بچے بن کر اپنے بستے اٹھا کر قیامت خیز گرمی میں ٹیوشن سینٹر پڑھنے چلے گئے اور وہاں کے حبس زدہ ماحول میں بیٹھ کر انہوں نے اپنے بستے کھولے ،کاپیاںنکالیں اپنا سبق یاد کرنے لگے پھر اس قیامت خیز گرمی میں سچ مچ کی قیامت آگئی ان کے اوپر چھت گری اور ان کے کومل بدن اور محفوظ اور روشن مستقبل کے خواب سب اس چھت کے نیچےدم توڑ گئے۔خبر ہے ایک ہی گھر کے تین بچے ہیں اور ایک گھر کے دو بچے اکٹھےایک دوسرے کا ہاتھ پکڑےموت کی وادی میں اتر گئے ۔ستیہ پال آنند کی ایک نظم جو یاد تو نہیں مگر اس کی ایک سطریاد آرہی ۔دیکھئے کیسی معنی سے بھری ہوئی ہے لکھا کہ’’کسی بچے کی موت اس گھر کا آخری سانحہ نہیں ہوتا‘‘ پیچھے رہ جانے والے بڑے ہر وقت اس قیامت سے گزرتے ہیں ،جب آنگن میں بچے کی سائیکل خالی ہوتی ہے جب ایک گڑیا کونے میں پڑی ہوتی ہے، جب پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی کاریں ان ہاتھوں کو انتظار کرتی ہیں جو ان سے کھیلا کرتے تھے، یہ منظر پیچھے رہ جانے والے بڑوں کو ہر روز اذیت کے ایک صحرا سے گزارتے ہیں ۔ٹیوشن سنٹر میں مر جانے والے بچے محض ایک خبر کے اعدادوشمارنہیں نہ ہی یہ کسی بوگس کالم کا عنوان اور موضوع ہیں جو اخبار میں چھپ کر بھی بے وقعت ہی رہتا ہے اس پر نہ کسی اہل اختیار کی نظر پڑتی ہے نہ ہی کسی کا دل پسیجتا ہے شاید وہ دور بھی پچھلے زمانوں کی طرح لد گیاجب اہل اقتدارمیں سے بھی کوئی انسانوں جیسا دھڑکتا دل رکھتا تھا،اب ان کرسیوں پر روبوٹس بیٹھے ہیں جن کے اندرخوشامد اور بے حسی کی پروگرامنگ کی گئی ہے ان کے اندر سے برآمد ہونے والی آوازیں ہمدردی سے خالی ہیںاگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر کیسے کہہ سکتا ہے ہاں خریدا ہے جہاز ، پنجاب کے پانچ کروڑ عوام کے مسائل جنکی نظر سے اوجھل ہوں جن کے دل میں عوامی درد نہ ہو اور اللّٰہ کے سامنے اپنے اختیار کی جواب دہی کا خوف نہ ہو ان کے اندر کے خالی پن سے ایسی ہی بےحس آوازیں برآمدہوتی ہیں ۔سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس موضوع پر لکھنا ہی نہیں چاہتی تھی ،دو ہزار سات میں اسی جنگ اخبار سے کالم کا آغاز کیا تھا شاید بیچ میں ڈیڑھ دو برس کا وقفہ آیا ہوکالم جاری رہا تاریخ کی راہ گزر پر بیٹھ کر حالات کا رونا روتے کم و بیش 16 برس تو گزر گئے ہیںبے وقعت لفظوں کے انبار لگاتے،کیسے کیسے سانحے اس ملک میں نہ ہوئے بہت سانحے ایسے تھے جو خود ہم پر بیت گئے ایسےکہ دل کی ڈھیتی دیواروں کو سہارا دیتے ہم نےان کالموں میں لفظ نہیں آنسو رقم کیے تھے مگر سچ یہ ہے کہ وہ لفظ بھی بے وقعت چلے گئے... جیسے پتھر کے شہر میں دیوار سے باتیں کرنیوالے لوگوں کی قسمت میں ان سنی اور ان کہی کے دکھ لکھے جاتے ہیں، اب ان موضوعات پر لکھنے سے اس لیے گریز کرتی ہوں کہ ان سنی ،ان کہی اور اقتدار کی بے حسی کا دکھ پہلے خود پر بیتتا ہے اور میں بانو آپا سے الفاظ مستعار لوں تو کہوں گی کہ اب شاید اتنی ہمت نہیں رہی ۔بانو قدسیہ سے کسی نے پوچھا کہ راجہ گدھ جیسا ایک اور ناول آپ دوبارہ کب لکھیں گی تو بانو آپا نے جواب دیا ناول لکھنے کیلئےجو تخلیقی اورروحانی مشقت اٹھانا پڑتی ہے اب مجھ میں اس کی ہمت نہیں رہی۔حالاتِ حاضرہ اور مسائل حل ہونےکی بجائے مزید بگڑتے چلے جا رہے ہیں ،پاکستان کےبچوں پر مشکل وقت لگتا ہے اس سے پہلے ڈی جی خان میں بھی ایک اسکول کی چھت گری اور بچے جاں بحق ہوئے۔ ایک اکلوتی بچی کے والد فیس بک پر روزانہ کُرلاتی ہوئی پوسٹیں کرتے ہیں وہ اپنی بچی کیلئے انصاف کے طلبگار ہیں ،چکوال میں ریاستی اہلکار نو سالہ بچی کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، بلوچستان میں دو ننھی بچیوں کے سامنے ان کے باپ کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بچے اس ملک میں بہت غیر محفوظ ہیں میں پاکستان کے بچوں سے معافی مانگتی ہوں کہ ہم بڑوں نے اور ہم سے پہلے ہمارے بڑوں نے جس کرپٹ نظام کا بیج بویا تھا یہ اسی کے بد اثرات ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ احمد مشتاق نے بچوں کیلئے امن انصاف چاندی جیسے اجلے دودھ اور صاف پانی کی دعا کی تھی مگر اب اسکولوں اور ٹیوشن سینٹروں کی چھتیں گرنے سے معصوم بچوں کے مرنے کی خبریں بتا رہی ہیںکہ حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔

تازہ ترین