• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان 17جون 2026ءکو اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط اور اس کے نفاذ کیلئے 21 اور 22جون کو سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت مقام برگن اسٹاک میں لوسرن جھیل پر دونوں ممالک کے مذاکرات ہوئے۔ وفود کی سربراہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف نےکی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے بطور ثالث اور قطر نے بطور گارنٹر شرکت کی۔ 21 جون کو دونوں وفود نے 100منٹ تک مذاکرات کیے۔ اگرچہ اسکے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی نما بڑھک کی وجہ سے ایرانی وفد نے بائیکاٹ کا اعلان کیا، تاہم ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری رہے۔ قائدین کی اپنے اپنے ممالک کو واپسی کے بعد دونوں اطراف کے ٹیکنیکل اسٹاف میں مذاکرات غالباً منگل کو دوبارہ شروع ہو جائینگے۔

اگرچہ جنگ بندی اور ان مذاکرات کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی فتح کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لے کر اس کا فیصلہ کیا جائے۔ اس وقت تک سب سے بڑی پیش رفت یہی ہے کہ دونوں ممالک ساٹھ دنوں میں حتمی معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں، اور اس دوران نئے بنائے گئے انتظامی سیل یا گروپ ٹیکنیکل تفصیلات طے کرتے رہیں گے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو ساٹھ دنوںکیلئے مناسب رعایتیں دینے کو تیار ہو گئے ہیں۔کھینچاتانی جاری رہنے کے باوجود جن میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز سے دونوں ممالک کی واپسی، ایرانی تیل سے پابندی اٹھنا اور ایرانی منجمد فنڈ کی واپسی کی طرف بڑھنا شامل ہے۔

تفصیل میں جائے بغیر، آج ہمارا تھِیسِس غیر جانبدار رہ کر یہ طے کرنا ہے کہ یہ کس کی فتح ہے، جو کہ آسان کام نہیں۔ اس کے لیے ہمیں جنگ سے قبل اور جنگ کے دوران صدر ٹرمپ کی بڑھکوں اور امریکی عمومی رویے پر غور کرنا ہو گا۔ بہت بڑی حقیقت یہی ہے کہ امریکہ ایران کو اپنی ناک کے ایک بال سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہا تھا۔ ٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھنے کا ادراک ہی نہیں رکھتے تھے کہ اسلامی انقلابی سوچ مکمل طور پر ایک الگ چیز ہے، جسے انگریزی کی کہاوت میں یوں کہا جائے گاSomething from another planetٹرمپ حکومت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنے ماضی کے تجربات اور مخصوص دائرے سے باہر نکل کر سوچ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اس دفعہ بہت نڈر طاقت سے پالا پڑا ہے۔ انہیں یہ ادراک ہی نہیں تھا کہ جو لوگ ایک دن میں کم از کم پانچ دفعہ اپنی موت (شہادت) کی دعا مانگتے ہوں، انہیں کسی دنیاوی چیز سے ڈرانا ایک لطیفے اور مسخرہ پن سے کم نہیں۔ یعنی وہ لڑتے لڑتے جان دے دیں گے، مگر اپنے اصولوں پر سمجھوتا اور ہار نہیں مانیں گے۔ اسی غلط فہمی کی بنیاد پر ٹرمپ اور یہودی نیتن یاہو ایران کو تہس نہس کرنے اور رجیم چینج کرنے کے شوق میں حملہ آور ہوئے۔ مگر انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ جب تک ایران میں ایک انقلابی بھی زندہ ہے، ایران سرنڈر نہیں کرے گا ۔ یہی بہت بڑی حقیقت ٹرمپ انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر گئی۔ نتیجتاً، اسلامی انقلاب کے 47 سال بعد پہلی دفعہ امریکی ہائی کمان کو برابری کی سطح پر ایرانی قیادت کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھنا پڑا۔ یہی ایران کی بہت بڑی فتح ہے۔ ایرانی قیادت نے امریکی ٹرمپ اور اس کے حواریوں کی انا کے پرخچے اڑا دیئے ہیں۔ اب وہ کچھ لو اور کچھ دو کی برابری والے لیول پر آ چکے ہیں، جبکہ ماضی میں ان کا رویہ سر پر لَت پھیرنے والا ہوتا تھا۔ پہلے ٹرمپ خدائی لب و لہجہ میں بات کرتا تھا، لیکن اب وہ جو بڑھکیں مارتا ہے، وہ اپنے ووٹرز کو اپنی طرف رکھنے کی کوشش ہوتی ہےجو اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ایران کی چوٹ نے ٹرمپ کو گہرا گھاؤ لگایا ہے۔ البتہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانا ایران اور پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

اب بات رہی پاکستان کے فائدے گھاٹے کی۔ پاکستان نے کامیاب ثالث کا کردار ادا کر کے فائدہ ہی فائدہ کمایا ہے۔ ہر حوالے سے یہ پاکستان کی بھی فتح ہے۔ ماضی میں پوری دنیا میں پاکستان کا امیج تھا ڈکٹیٹروں کا ملک، کیونکہ جب ڈکٹیٹر منتخب حکومتوں کو ہٹاتے تھے تو ساری دنیا کے میڈیا میں پاکستان کے بارے صرف یہ ایک خبر ہی لگتی تھی۔ جبکہ اب ساری دنیا میں خبر پر خبر جا رہی ہے کہ پاکستان نہ صرف جمہوری اور امن پسند ملک ہے، بلکہ پوری دنیا میں امن کے قیام کیلئے مذاکرات میں ثالثی کروانے والا معتبر ملک ہے۔ اسی طرح اس جنگ اور ان مذاکرات میں ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نے ایک نئی کروٹ لی ہے، پہلے سے کئی گنا بہتر۔ پہلے امیج تھا’ پیسے مانگنے والا ملک‘، اور اب’ مشکل وقت میں دوستوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والا، نہ ڈرنے والا ملک‘۔ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ایک روزہ دورے نے پاکستان کے معتبر ہونے پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اس کے علاوہ نتیجتاً کئی مالی اور دفاعی فوائد بھی منتظر ہیں۔ اب ایران کا پہلے کی طرح بھارت کی طرف جھکاؤ نہیں ہو گا، اسے سمجھ آ گئی ہے کہ مخلص دوست پاکستان ہی ہے۔ دیگر مالی فوائد کے علاوہ، پابندیاں اٹھنے کی صورت میں بذریعہ پائپ لائن ایران سے گیس تو آئے ہی گی۔

یہ سب کچھ صرف حکومت نہیں، بلکہ ہر سیاسی پارٹی اور ہر پاکستانی کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ مستقبل میں حکومت میں آنے والی سیاسی پارٹیوں کا کام بھی آسان ہو گیا ہے۔ اس لیے فرداً فرداً، ہر پاکستانی اور ہر سیاسی پارٹی کے سربراہ کو لاکھ لاکھ مبارکباد۔

تازہ ترین