• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کو ’’غریبی ہٹاؤ‘‘اور ذوالفقار علی بھٹو ’’ کو روٹی کپڑا اور مکان‘‘ کے بیانیوں نے سیاسی تقویت بخشی۔ برصغیر کی سیاست کل بھی روٹی ، اور آج بھی روٹی کے گرد گھومتی ہے، یعنی اشرافیہ کی غریب کی غربت پر سیاست۔

بھٹو صاحب کی تاریخ اور تحریک کی طرف دیکھتے ہیں تو جہاں منہ بولتی سحر انگیزی ہے وہاں تنازعات کے انبار بھی ہیں۔ تنازعے لوگوں کی جانب سے بھی کھڑے کئے گئے، کچھ تنازعات بھٹو صاحب کے اپنے بھی تراشتے رہے اور کچھ ان کی اپنی ذات میں بھی اٹھتے بیٹھتے تنازعات تھے مگر ان سب چیزوں اور معاملات کے باوجود بھٹو ایک گھر ، ایک شہر ، ایک صوبے یا ایک ملک تک محدود نہیں تھے۔ ان کی پرچھائیاں، دہائیاں، سچائیاں اور اکائیاں آفاقیت رکھتی تھیں۔ وہ کسی ایک امریکی در پر ماتھا ٹیکنے والے تھے نہ روس تک محدود رہنے کے تمنائی تھے۔ ان کا ’’ تیسری دنیا‘‘ تراشنے کا سیاسی جغرافیہ اور خارجی فلسفہ انہیں پورے عالم میں جہاں ممتاز کر گیا وہاں ان کا جانی دشمن بھی ٹھہرا۔ آج کا پاکستان بڑی دیر بعد پھر سے خارجی سربلندی پر آیا ہے جس میں ایران، امریکہ، چائنہ اور عرب ممالک نے وزن سمجھا اور اعتبار بھی کیا۔ بیک وقت آج کی حکمت عملی اور کل کی بھٹو کاوش و قربانی کام آئے۔

بھٹو کے حوالے سے سیاست میں سخت گیری اور مخالفت میں انتہا بھی ان کی زندگی کا خاصا رہا ،بہرکیف قومی و بین الاقوامی سطح کے سیاسی و نظریاتی مخالفین بھی ان کے سحر اور سیاسی و خارجی اور انتظامی و آئینی صلاحیتوں کے تسلیم کرنے والے تھے۔کچھ چرب زبان اور بےجا مخالفین تو ذوالفقار علی بھٹو اور سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے درمیان خاندانی اور’’ سیاسی مراسم‘‘ بھی ثابت کرتے کرتے مر گئے حالانکہ ان میں سخت سیاسی و نظریاتی اور سرحدی اختلافات تھے۔ بہرحال محققین کے مطابق اندرا گاندھی ذوالفقار علی بھٹو کی حکمت و دانش اور کرشماتی شخصیت سے بہت متاثر ہوئیں، اور اندرا نے اعتراف کیا کہ زیڈ اے بھٹو کے ساتھ مذاکرات کرنا آسان معاملہ و تجربہ نہیں ! حالانکہ بھٹو 1971میں پاکستان ٹوٹنے کے تناظر میں ایک ہارے ہوئے لیڈر تھے لیکن شملہ معاہدہ 1972 ءمیں نوے ہزار قیدی بھی واپس لئے اور کشمیر کی پوزیشن بھی منوائی۔ ساتھ ساتھ ہر لمحہ اقوام متحدہ میں بھارتی پالیسیوں پر شدید مخالفت بھری تقاریر کرتے، یہاں تک کہ ’’ ہزار سال تک جنگ لڑنے‘‘کا نعرہ بلند کرتے۔ جب 1974 میں بھارت نے اسمائلنگ بدھا نامی پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو صاحب نے بھی عزم کیا کہ ’’ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے‘‘ جہاں تک وضعداری کا تعلق ہے ، باوجود نظریاتی و سرحدی اختلافات اندرا اور بھٹو میں سفارتی آداب کا باہمی احترام بہرحال تھا۔ دلچسپ جملہ یہ بھی عالمی سیاست میں عام رہا کہ ’’ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور وزیراعظم بھٹو کے مابین تعلقات احترام زدہ بھی ہیں اور تناؤ زدہ بھی‘‘۔ یہ وہی کسنجر ہیں جنہوں نے اگست 1976 میں بھٹو صاحب کو’’عبرت ناک مثال بنا دیا جائیگا‘‘ کی دھمکی دی کیونکہ بھٹو فرانس سے پلانٹ لے کر ایٹمی قوت بننا چاہتے تھے، تھرڈ ورلڈ کی بات کرتے تھے اور مسلم اُمہ کا پلیٹ فارم بنانا چاہتے تھے۔ اس دھمکی کی تصدیق امریکی پروٹوکول آفیسر جیرالڈ فیورسٹین نے 2010 کے ایک انٹرویو میں بھی کی تھی،ان دونوں میں ذہانت کا ٹکراؤ بھی تھا کہ کسنجر سفارتکاری کے استاد مانے جاتے اوربھٹو انٹرنیشنل لا اور سیاست کے ماہر تھے۔ یہاں بھی رکھ رکھاؤ کا یہ عالم کہ وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو مانتے۔ذہن نشین رہے بھٹو جھکے نہیں تھے۔ یہ بھی کہ فرانس نے امریکی دباؤ کے سبب پلانٹ نہ دیا، اور بھٹو صاحب نے کہوٹہ پلانٹ کے ذریعے ایٹمی پاکستان کی خشتِ اوّل رکھ دی۔ ایک پہلو یہ بھی کہ، سیاسی ماہرین بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے (1977)اور تخت سے تختہ دار پر چڑھانے (1979) کو ہنری کسنجر کی دھمکی کی پاداش میں دیکھتے ہیں ؛ جب بھٹو حکمران تھے تو امریکہ میں رچرڈ نکسن، جیرالڈ فورڈ اور جمی کارٹر ( صدور) کے ادوار گزرے، سوویت یونین میں لیونڈ بریژنیف کا دور تھا اور چینی وزیراعظم ماؤزے تنگ تھے۔ گویا ایک بھاری بھرکم لیڈر شپ کا عالم تھا۔ سیاسی لچک کا یہ انداز بھی کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے کہ بھٹو چل کر سید مودودی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اعلیٰ پائے کا اسکالر مانتے ہوئے 1973 کے آئین میں علمی و سیاسی مدد کیلئے قائل کیا اوربالواسطہ اور بلاواسطہ باہمی مشاورت کے دریچے کھولے۔ جماعت اسلامی جہاندیدہ رہنما پروفیسر غفور کا تبصرہ تھا کہ ’’بھٹو صاحب انتہائی ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان میں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کا ملکہ موجود تھا۔ تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود، یہ بھٹو ہی کی سحر انگیز شخصیت تھی جس نے 1973ء میں پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا، ورنہ اس بکھرے ہوئے ملک کو ایک نکتے پر جمع کرنا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا‘‘لیکن پروفیسر غفور کا یہ بھی کہنا تھا ان میں آمریت کا مادہ بھی تھا جسے وجہ زوال کہا جا سکتا ہے۔

فارن پالیسی آف پاکستان (1964ء)، ری شیلنگ آف فارن پالیسی (1948۔1966)، آزادی کا مغالطہ (1969ء) ،عظیم المیہ( سقوطِ ڈھاکہ پر) نیو ڈائریکشنز (1973ء)، اگر میرا قتل کیا گیا (1979، جیل میں لکھی گئی) قابلِ مطالعہ انگریزی کتب ہیں... دی مِتھ آف انڈیپنڈنس کا محض ایک اقتباس حاضر ہے: ’’چھوٹے ممالک کیلئے آزادی ایک مغالطہ (مِتھ) بن جایا کرتی ہے اگر وہ اپنی فارن پالیسی کو بڑے ممالک کے مفادات کے تابع کر دیں۔ حقیقی آزادی وہی ہے کہ قوم اپنے فیصلے آپ کرے۔‘‘ اپنے پرائے بھٹو کو جمہوری، عالمی، حکومتی، سیاسی اور آئینی جیسے پانچ کمالات کا مجموعہ سمجھتے ہیں جن کے اثرات آج بھی ہیں۔ غور یہ کہتا ہے کہ ان پانچ چیزوں میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے باہر لانا، تھرڈ ورلڈ تھیوری، مسلم اُمہ اور امریکی بلاک سے چین جانب سفر، اصلاحات، بیوروکریسی پر گرفت اورمتحرک سرگرمیاں، کرشماتی و عوامی کلچر اور قوم پرستی و مصلحت پسندی کا مرکب،1973ءکا متفقہ جمہوری و اسلامی آئین سازی۔اُس رواج ، اُس انداز اور اُن خواہشات و ترجیحات کا سپنا آج کی سیاسی قیادت کی آنکھوں میں ایک ’بھٹو سبجیکٹ‘ بن کر ہے، سو کوئی وجہ تو ہوگی نا!

تازہ ترین