• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی معاشرے کی پہچان محض بلند و بالا عمارتیں، شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں بچوں کو کس حد تک تحفظ، محبت اور باوقار زندگی میسر ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آئے روز ایسے المناک واقعات سامنے آتے ہیں جو نہ صرف دل دہلا دیتے ہیں بلکہ ریاست، معاشرے اور والدین سب کے کردار پر سوالیہ نشان بھی چھوڑ جاتے ہیں۔حال ہی میں سرگودھا میں ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور سفاکانہ قتل کا اندوہناک واقعہ پوری قوم کو سوگوار کر گیا۔ اسی طرح لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانیںچلی گئیں، اس سانحے نے عمارتوں کی حفاظت، تعلیمی اداروں کی نگرانی اور سرکاری ذمہ داریوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ یہ دونوں واقعات اپنی نوعیت میں مختلف ضرور ہیں، مگر ان کا مشترکہ پہلو یہ ہے کہ دونوں میں سب سے زیادہ نقصان ان بچوں کو اٹھانا پڑا جو خود اپنے تحفظ کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد، جنسی استحصال، جبری مشقت اور غفلت جیسے مسائل مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہیں جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ہزاروں بچے تعلیم چھوڑ کر دکانوں ، ورکشاپس، ہوٹلوں، گھروں اور دیگر مقامات پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کم عمر ملازمین کو اکثر جسمانی تشدد، ذہنی اذیت، کم اجرت، غیر انسانی اوقاتِ کار اور بعض اوقات جنسی استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ متاثرہ بچے یا خاندان خوف، غربت یا سماجی دباؤ کے باعث خاموش رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کسی بھی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، بےراہ روی ، ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات، بے روزگاری اور عدم برداشت کا سب سے زیادہ اثر بچوںپرپڑتا ہے۔ جب ایک معاشرہ مسلسل نفسیاتی گھٹن اور فرسٹریشن کا شکار ہو تو اسکے نتائج گھریلو تشدد، بچوں سے بدسلوکی، جرائم اور سماجی بے حسی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔بچوں کے تحفظ کا مسئلہ صرف جرائم تک محدود نہیں بلکہ یہ ریاستی ترجیحات کا بھی امتحان ہے۔ ایک طرف ہر سال اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ، تعلیمی اصلاحات، معیارِ تعلیم اور غربت کے خاتمے کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کی بہتات ہے۔ غیر محفوظ عمارتیں، ناقص نگرانی اور متعلقہ اداروں کی غفلت معصوم جانوں کو نگل رہی ہے۔ ہر حادثے کے بعد صرف تحقیقات اور وعدوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی دباؤ نے گھریلو ماحول کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ والدین کے درمیان مسلسل جھگڑے، ذہنی تناؤ اور عدم استحکام کا براہِ راست اثر بچوں کی نفسیات، تعلیم اور شخصیت پر پڑتا ہے۔ ایسے بچے نہ صرف جذباتی عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں بلکہ انکی جسمانی دیکھ بھال بھی متاثر ہوتی ہے۔ وسائل کی کمی ، غفلت اور عدم تحفظ کا شکار بچے کبھی آوارہ کتوں کے حملوں کا شکار بنتے ہیں، کبھی کھلے مین ہولز اور گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کبھی دیگر حادثات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامات ہیں جہاں بچے، انکی صحت ، تعلیم و تربیت اور تحفظ ہماری ترجیحات میں سب سے آخر میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔اس صورتحال کا ایک اہم پہلو صحت مند تفریحی سرگرمیوں کا فقدان بھی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں بچوں اور نوجوانوںکیلئے کھیلوں کے میدان، کمیونٹی سینٹرز، لائبریریاں، آرٹ ایکٹیوٹی ، سمر کیمپ اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں عام ہیں، جہاں وہ اپنی توانائیاں مثبت انداز میں صرف کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں شہروں میں کھیل کے میدان تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، پارک محدود ہیں ، بچوں اور نوجوانوں کیلئے تعمیری و تفریحی سرگرمیوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سوشل میڈیا کے بے تحاشا، بِلا روک ٹوک استعمال سے ذہنی دباؤ، ناامیدی ، صحت مند سرگرمیوں سے علیحدگی اور منفی رویے پروان چڑھتے ہیں، جن کا خمیازہ اکثر کمزور اور بے بس طبقہ، خصوصاً بچے، بھگتتے ہیں۔دوسری جانب مغربی ممالک میں بچوں کے تحفظ کو ریاستی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی بچے پر والدین یا سرپرست کے تشدد، غفلت یا بدسلوکی کا شبہ بھی ہو تو متعلقہ ادارے فوری تحقیقات شروع کرتے ہیں۔ اسکولوں کے اساتذہ، ڈاکٹرز اور سماجی کارکن قانوناً اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ اگر کسی بچے کے جسم پر مشکوک زخم، نیل یا تشدد کے آثار نظر آئیں تو وہ متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اگر تحقیقات میں والدین کی غفلت یا تشدد ثابت ہو جائے تو سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے، اور انتہائی سنگین حالات میں بچے کو حفاظتی تحویل میں لے کر سوشل سروسز کی نگرانی میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ اسکی جان، صحت اور مستقبل محفوظ رہ سکے۔ تعلیمی میدان میں کمزور بچوں پر پبلک اسکولوں میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ادارے اور مختلف قوانین موجود ہیں، مگر اصل مسئلہ ان پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔ قوانین اس وقت تک بے معنی رہتے ہیں جب تک ان پر سختی سے عمل نہ ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کو اولین ترجیح بنائے۔ سرکاری اسکولوں میں انرولمنٹ بڑھانے اور معیار بہتر بنانے کے ساتھ اسکولوں، مدارس، ٹیوشن سینٹرز، فیکٹریوں اور دیگر مقامات پر حفاظتی معیارات کی باقاعدہ نگرانی ناگزیر ہے تاکہ کسی غفلت کے نتیجے میں معصوم جانیں ضائع نہ ہوں۔والدین کی ذمہ داری بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی ذہنی کیفیت، جذبات، خوف اور روزمرہ معمولات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو لوگوں کے اچھے برے رویے بارے انکی عمر کے مطابق آگاہ کریں، ان میں اعتماد پیدا کریں کہ اگر کوئی شخص انہیں ہراساں کرے تو وہ بلا خوف اپنے والدین یا اساتذہ کو بتا سکیں۔ اسی طرح اساتذہ اور مذہبی و سماجی رہنماؤں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں بچوں کے احترام، تحفظ اور حقوق کے بارے میں مسلسل آگاہی پیدا کریں۔بچوں پر ظلم اور انکے خلاف جرائم پورے معاشرے کی اجتماعی آزمائش ہیں ، ایسے سانحات سے بچنے کیلئے ریاست، عدلیہ، پولیس، تعلیمی اداروں ، میڈیا، مذہبی قیادت اور شہری معاشرے کو مل کر ایسا ماحول تشکیل دینا ہو گا جہاں ہر بچہ خود کو محفوظ محسوس کرے ۔

( صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

تازہ ترین