موٹر وے کے لرزہ خیز واقعہ کے زخم ابھی بھرے نہ تھے کہ قصور کی زینب نے معاشرے سے اپنا قصور پوچھ لیا؟بات یہیں تک نہ رکی کہ سرگودھا میں سات سالہ نازیہ کے قتل نے فضا سوگوار کردی ، وہ ننھی پری جسے ابھی زندگی کے معنی بھی معلوم نہ تھے ایک ظالم درندے کی ہوس کا شکار بن گئی۔
یہ محض واقعات نہیں ہمارے معاشرے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے جسکےمطابق مدرسہ میں بچہ ، گلی میں بچی اور یہاں تک کہ اپنے ہی گھر میں عورت تک محفوظ نہیں، ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور پھر چوتھا واقعہ واضح کرتا ہے کہ بیماری پورے معاشرے میں سرایت کرچکی ہے، ہر واقعے کے بعد سر عام پھانسی کے نعرے لگتے ہیں، سوشل میڈیا پر غصہ نکالا جاتا ہے، پھر چند دن بعد سب معمول کی زندگی میں واپس لوٹ جاتے ہیں لیکن اگلے روز کسی اور گائوں یا شہر میں ایک اور معصوم کی چیخ خاموش ہو جاتی ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ مجرم کون بنا رہا ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ صنف نازک کیخلاف جرائم کی جڑیں بہت گہری ہیں، عورت کی تذلیل، بچوں کے سامنے تشدد، منشیات، فحش مواد تک بے لگام رسائی، اخلاقی تربیت کا فقدان، قانون کے خوف کا ختم ہوجانا اور سب سے بڑھ کر معاشرے کی بے حسی ... یہ سب مل کر ایک مجرم تیار کر رہے ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی ہے کہ کیا مجرموں کو صرف سخت سزا دیناکافی ہے؟ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین کے تحفظ، ویمن سیفٹی، ڈیجیٹل نگرانی، پولیس اصلاحات اور متاثرہ خواتین کیلئے مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے لیکن اس جنگ کا اصل امتحان ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں ہے،پولیس، پراسیکیوشن، فرانزک سائنس، سماجی بہبود کے ادارے اور عدلیہ اگر ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تو جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہر قاتل کسی گھر کا بچہ تھا تو گھر نے اسے کیا سکھایا؟ محض اچھی تعلیم اس کیلئے کافی تھی ؟اسکی تربیت کس نے کرنی تھی؟ بیٹے کو کس نے سکھانا تھا کہ عورت کمزور نہیں، محترم ہے، طاقت کا مطلب ظلم کرنا نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، غصہ کرنا مردانگی نہیں، ضبط کرنااصل مردانگی ہے،اگر گھروں میں بیٹوں کی تربیت بدل جائے تو عدالتوں پر بوجھ خود بخود کم ہو جائیگا۔
میں سمجھتی ہوں کہ تعلیمی نصاب میں خواتین کے احترام، بچوں کے تحفظ، ذاتی حدود، آن لائن استحصال، اخلاقی ذمہ داریوں اور شہری شعور پر باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں تاکہ مردوں کو انسان بننا سکھا یا جاسکے،اس جنگ میں حکومت اکیلی کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔گھر، مسجد، اسکول، میڈیا، عدالت، پولیس، علما، اساتذہ، والدین، سیاستدان اور ہر شہری کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ کیونکہ جب معاشرہ خاموش ہو جاتا ہے تو درندے بولنے لگتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی واضح ہدایات پر پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی ٹیم خواتین کو تشدد، ہراسانی اور استحصال سے بچانے، قانونی معاونت فراہم کرنے، تحفظ کے مراکز کو فعال بنانے اور آگاہی پیدا کرنےکیلئے مسلسل خدمات سرانجام دے رہی ہے،لیکن ہم اس وقت اصل کامیابی تک پہنچیں گے جب کسی ماں کو اپنی سات سالہ ننھی پری کی قبر پر بیٹھ کر یہ نہ کہنا پڑےبیٹی! تمہارے بعد شاید یہ معاشرہ جاگ جائے۔