عظیم انڈین گیت کار محمد رفیع نے معروف اردو رائٹر راجندر سنگھ بیدی کیلئے گایا تو انہوں نے رفیع صاحب کو معاوضہ دینا چاہا، جسے لینے سے انکار کرتے ہوئے رفیع صاحب نے کہا،’’بیدی جی آپ نے اردو ادب کی اتنی خدمت کی ہے کہ اگر میں آپ کیلئے تمام عمر بھی گاتا رہوں تو حق ادا نہیں ہوگا‘‘۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے محترم الطاف حسن قریشی صاحب کی ہے، جنہوں نے نہ صرف یہ کہ صحافتی عظمتیں سمیٹیں بلکہ اپنے اردو ڈائجسٹ کے ذریعے اردو زبان و ادب کی بھرپور خدمت سرانجام دی۔ کیسی کیسی زبردست تحریریں تھیں جنہیں اس ڈائجسٹ کی بدولت پذیرائی ملی۔ درویش الطاف صاحب کو اکثردادااستاد کہہ کر مخاطب کرتا جس پر وہ ہمیشہ مسکرا دیتے، ان کی وفات سے کوئی دس روز قبل تیمارداری کیلئے دولت کدے پر حاضر ہوا تو قریشی صاحب کے لاڈلے اکلوتے بیٹے کامران نے اپنے والد محترم کے روبرو لا بٹھایا، دل کو ایک چوٹ لگی کہ پہلے جب بھی آنا ہوتا، قریشی صاحب دل پذیر مسکراہٹ اور کھنکتی آواز کے ساتھ گویا ہوتے، مگر آج ان کی آواز کانوں تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ اگرچہ آنکھ اورہاتھ میں ایک نو ع کا تپاک اور گرمجوشی تھی۔ یوں وقت کا احساس ہی نہ ہوا،انکی بھرپور زندگی کے حوالے سے اپنی تمام یادداشتیں بیان کر ڈالیں، مودودی صاحب سے پہلی ملاقات کا تفصیلی واقعہ بھی سنایا جس میں انکا تذکرہ بھی آتا تھا۔ جب پوچھا کہ آپ کو یہ باتیں سنائی دے رہی ہیں اور سمجھ آ رہی ہیں تو انہوں نے چہرے کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا۔ الطاف حسن قریشی صاحب سے ذہنی و فکری وابستگی کا آغاز ستمبر 1977 ءمیں اس وقت ہوا جب انکے اردو ڈائجسٹ میں سابق صدر جنرل محمد ضیاءالحق کا تفصیلی انٹرویو چھپا۔’’ جاء الحق وزھق الباطل... ضیاءالحق آ گئے‘‘ کی سرخی بھی غالباً انہی کی زیرادارات یا پھر زندگی میں شائع ہوئی۔ قریشی صاحب کا انٹرویو پڑھتے ہوئے خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی بڑا ہو کر اسی نوع کے انٹرویوز کیا کروں گا ۔بحیثیت انٹرویور قریشی صاحب کی یہ تمناہوتی کہ وہ اپنے قارئین کو اپنے بالمقابل شخصیت کا رنگ روپ، سکون یا تیزی، بولنے کا اسلوب، خوشی بھرے یا غصیلے تاثرات، لفاظی کے ذریعے دکھلا دیں، ان کی یادداشت بھی کمال کی تھی، موقع پروہ نوٹس نہ بناتے مگر بعد ازاں ذمہ داری سے بھرپور گفتگو لکھ ڈالتے۔ جب ضیاءالحق نے ان کے فنکشن میں آ کر بھرپور تقریر کی اوراردو ڈائجسٹ کو ڈیپاٹمنٹل اسٹور قرار دیا جس سے ہر قاری کو اپنی مرضی کی چیز مل جاتی ہے، انہوںنے یہ بھی کہا کہ ہم نے اسلام کو بھی فرقہ پرستی کی کھونٹی پر لٹکا رکھا ہے اور انہی کی بنیاد پر پارٹیاں بنا رکھی ہیں تو درویش نے اس پر پہلا بھرپور طویل مضمون لکھا جو وفاق میں چھپا- اس فنکشن میں الطاف قریشی صاحب کی انٹرویو نگاری کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ الطاف قریشی صاحب سے پہلی ملاقات 78ء میں اس وقت ہوئی جب آپ سول لائنز کالج کی کسی تقریب میں تشریف لائے اور ناچیز اپنے کسی دوست سے ملنے سول لائنز کالج گیا تھا۔چٹے گورے چہرے اور سرخ بالوں کے ساتھ انکی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ نگاہیں ان پر ٹک جاتیں۔ دوسری ملاقات مولانا مودودی کی وفات پر انکی رہائش گاہ ذیلدار پارک میں ہوئی۔ آپ وہاں ایسے چل پھر رہے تھے جیسے کوئی سائیں لوک اپنی متاع گراں مایہ کو کھو بیٹھا ہو اور اب پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر سرگرداں ہو۔ قریب پہنچ کر سلام کے بعد پوچھا قریشی صاحب آج آپ کے کیا احساسات ہیں؟ بجھے دل سے بولے’’بہت بڑا سانحہ ہے، بہت صدمہ ہے، ہمارے پیارے مولانا چلے گئے، کتنے بڑے انسان تھے‘‘۔ الطاف صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کے ان گنت مواقع میسر آئے، کئی بار حیرت ہوتی کہ اس پیرانہ سالی میں بھی وہ کتنے حاضر دماغ اور باخبرہیں۔ اسلام اور پاکستان سے محبت ان میںاس قدر تھی کہ کوئی ڈکٹیٹر بھی اسلام کی بات کرتا تو وہ ان کا پسندیدہ ہو جاتا اور بظاہر کوئی سویلین بھی اگر غیر اسلامی حرکات کرتاتو وہ اسکے خلاف قلم اٹھانا اپنا فرض سمجھتے ۔آپ سے وابستگی کی بڑی وجہ تو شامی صاحب سے قربت تھی لیکن اولین وجہ سویلین ڈکٹیٹر ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت یا دشمنی تھی۔قریشی برادران اور استاد محترم شامی صاحب کو اس شخص نے جس طرح بلاجواز جیل میں ڈالا اس وقت کی جعلی فوجی عدالت میں ہر سہ معزز شخصیات نے اپنا جو تحریری بیان ریکارڈ کروایا وہ اس قابل ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ یہاں تحریر کیا جائے، مگر کالم میں اس کی گنجائش نہیں۔شامی صاحب اور قریشی صاحب کی بذلہ سنجی کا ایک ایک واقعہ بیان کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ ہمارے جنگ کے سابق ادارتی ایڈیٹر جناب ارشاد احمد حقانی مرحوم اپنے کالموں میں ڈیموکریسی اور ماڈریٹ اسلام کی جو بحثیں چھیڑتے وہ درویش کو اتنی دلچسپ لگتیں کہ ایک مرتبہ شامی صاحب نے ارشاد حقانی صاحب کو ناچیز کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ حقانی صاحب افضال ریحان صاحب اصل میں تو آپ سے متاثر ہیں، ہمارے سے تو یہ ایسے ہی متاثر ہیں جیسے سیلاب متاثرین سیلاب سے ہوتے ہیں۔نظریاتی طور پر اس درویش کو قریشی صاحب سے ایک سو ایک اختلافات ہو سکتے ہیں،انہیں بھی ہم جیسے لبرل سیکولر لوگوں سے تھے لیکن بڑاپن یہ ہوتا ہے کہ اختلاف رائے رکھتے ہوئے آپ کسی شخصیت کے انسانی احترام کا پورا خیال رکھیں۔ ایک مرتبہ تو ناچیز کو بڑی حیرت ہوئی کہ قریشی صاحب میری سیکولر تحریریں پوری طرح پڑھتے ہیں اور اس کے باوجود انہوں نے کبھی اظہار نفریں کیا نہ غصہ، بلکہ ہمیشہ بزرگوں والا پیار دیا۔الطاف قریشی صاحب نے بہت اچھی اور بھرپور زندگی پائی ہے بالآخر جانا تو سبھی نے ہے آج وہ گئے ہیں تو یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اپنا کوئی عزیز بزرگ چلا گیا ہے۔