تہران (اے ایف پی/نیوزڈیسک )28 فروری کوامریکی اوراسرائیلی حملے میںشہید ہونے والے ایران کے سابق رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغازجمعہ کو تہران سے ہوگیا ‘ پاکستان سمیت اہم عالمی رہنماؤں کی شرکت ‘ دو کروڑ سے زائدافرادکی شرکت متوقع ‘ وزیراعظم شہباز شریف ‘فیلڈمارشل عاصم منیر‘نائب وزیراعظم اسحاق ڈار‘وزیرداخلہ محسن نقوی ‘پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ‘ایاز صادق اور یوسف گیلانی سمیت پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد نے شہیدخامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی جبکہ سعودی نائب وزیرخارجہ کے علاوہ قطر‘روس ‘چین اور دیگرممالک کے مندوبین بھی تعزیتی تقریب میں شریک ہوئے‘ بھارت کی نمائندگی نچلی سطح کے وفد نے کی جبکہ دیگر غیرملکی وفود کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 ممالک کے وفود علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔تہران کے بعد خامنہ ای کی میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گاجبکہ ان کی تدفین جمعرات 9جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائے گی ۔ آخری رسومات کے موقع پر تہران بھرمیں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور شہر قلعے میں تبدیل ہوگیا ہے ‘ تفصیل کے مطابق ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیزو تدفین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے ہو گیا ہےجہاں ان کا تابوت عوامی دیدار کیلئے رکھا گیا ہےاوروہاں ہزاروں سوگواران جمع ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں ایرانی شہری جنازے کے جلوس میں شرکت کے لیے امام حسین اسکوائر سے آزادی اسکوائر تک پیدل مارچ کر رہے ہیں‘حکام کے مطابق آخری رسومات کے ذریعے دنیا کو قومی یکجہتی، استقامت اور مزاحمت کا پیغام دیا جائے گا‘صدر پزشکیان‘ اعلیٰ پاسداران کمانڈرز‘ عراق‘ آرمینیا، تاجکستان اور عرب ممالک کے نمائندوں نے تعزیتی تقریب میں شرکت کی جبکہ مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ایرانی قیادت نے اس موقع پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ حکام کے مطابق پیر کو تہران میں تقریباً دس کلومیٹر طویل جنازے کا جلوس نکالا جائے گا ‘تہران کے ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے دروازے کھولے جائیں گے اور 5جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔خامنہ ای کے علاوہ ان کی صاحبزادی ‘بہو ‘داماداور نواسی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے گئے ہیں ‘ سات جولائی کو قم شہر میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا‘میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔