بعض سپلیمنٹس سائنسی تحقیق میں صحت کے لیے مؤثر ثابت ہوئے ہیں تاہم انہیں صرف ضرورت اور طبی مشورے کے تحت استعمال کرنا چاہیے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلیمنٹس متوازن غذا کا متبادل نہیں بلکہ غذائی کمی پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
طبی ماہرین کی جانب سے 6 ایسے سپلیمنٹس تجویز کیے گئے ہیں جو درست استعمال کی صورت میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 2.4 ارب افراد میں میگنیشیئم کی کمی پائی جاتی ہے، یہ بہتر نیند، قبض، سر کے درد اور بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے، میگنیشیئم گلائسینیٹ اور سائٹریٹ کو آکسائیڈ کے مقابلے میں بہتر جذب ہونے والی اقسام قرار دیا گیا ہے۔
یہ خاص طور پر سبزی خور افراد، معمر افراد اور میٹفارمن یا معدے کی تیزابیت کم کرنے والی ادویات طویل عرصے تک استعمال کرنے والوں کے لیے اہم ہے، تحقیق کے مطابق میٹفارمن استعمال کرنے والے تقریباً ایک تہائی افراد میں وٹامن بی 12 کی کمی ہو سکتی ہے، اس لیے باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔
یہ ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے اہم ہے، دنیا بھر میں تقریباً 1 ارب افراد اس کی کمی کا شکار ہیں۔
اگر خوراک میں چکنائی والی مچھلی شامل نہیں تو اس سپلیمنٹ کو لینا مفید ہو سکتا ہے، تحقیق کے مطابق یہ بعض افراد میں خون میں چکنائی کی ایک خاص قسم کو 22 سے 30 فیصد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ ایتھلیٹس کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند سپلیمنٹس میں شمار کیا جاتا ہے، ورزش کے ساتھ استعمال کرنے پر 50 سال سے کم عمر افراد میں کریئیٹین مونوہائیڈریٹ نچلے جسم کی طاقت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔
اسپغول کا چھلکا
زیلیئم ہسک روزانہ تقریباً 10 گرام استعمال کرنے سے مضر کولیسٹرول میں تقریباً 7 فیصد کمی، قبض سے نجات اور آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ سپلیمنٹس کو کبھی بھی متوازن غذا، باقاعدہ ورزش کرنے کے فوائد اور صحت مند طرزِ زندگی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ انہیں صرف حقیقی غذائی کمی پوری کرنے کے لیے ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔