پورچ کی بتیاں آن کرنی تھیں غلطی سے پنکھے کا بٹن دب گیا۔کوئی پرندہ پھڑ پھڑا کےا ڑا اور کچھ تنکے گاڑی کی بونٹ پرآن گرے۔یہ کیا؟ نیچے ٹوٹے ہوئے انڈے پر نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ بے دھیانی میں ایک پرندے کا آشیانہ اڑا دیاہے۔کسی کی امید، خواب، زندگی، سب ایک جھٹکے میں غارت ہوگئے۔دو دن دل پہ ہلکا سا ایک بوجھ رہا۔پنکھا بھی بوجھ لگنے لگا۔تین دن بعد اسی پنکھے پر پھر سے کچھ تنکے نظر آگئے۔اب یہ کیا ہے؟پچھلے والے گھر کا ملبہ ہے یا نئی تعمیرات شروع ہوگئی ہیں۔شام ہوئی تو گھونسلے میں پرندہ بھی نظرآگیا۔دل خوش ہوگیا۔ویرانے میں چپکے سے بہارآگئی اور بیمار کو بے وجہ قرارآگیا۔ ساتھ ہی مگر یہ خیال بھی آگیا کہ یار تجھے گھونسلا بنانے کیلئے یہ ناقابل بھروسہ پنکھا ہی ملا ہے؟
فاختہ گھونسلے کیلئے جگہ کا انتخاب اسٹرٹیجک بنیادوں پرکرتی ہے۔بظاہر اسے انسان سے دور رہنا چاہیے، مگر انسانی آبادی کے قریب گھونسلا بنانا اسکی رسک مینجمنٹ اور سیکورٹی اسٹرٹیجی کا حصہ ہوتا ہے۔اسے پتہ ہے کہ نیولے کے بعد انسان ہی جانتا ہے کہ سانپ کا سر کیسے کچلا جاسکتا ہے۔فاختہ کم وسائل میں سمجھداری کی زندگی گزارنے کی قائل ہے۔
گھونسلا تو اس نمانی نے بنالیا مگر ہمارے کام بڑھا دیے۔ذرا سی ہوا چلے تو پورچ کی طرف بھاگو۔ دیکھو کہ میڈم کا آشیانہ سلامت ہے یا اڑگیا۔ایک صبح ہلچل کے بعد پورچ میں دیکھا تو نڈھال سی ایک نرفاختہ نظرآگئی۔پنکھے کی طرف دیکھا تو میڈم دل وجاں سلامت تھی۔پہلے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں۔کسی فیملی میٹر پہ ان کے بیچ سر پھٹول ہوگیا۔ہم نے نرفاختہ کوجج کرنا شروع کردیا۔یہ ایک نکما نکھٹو شوہر ہوگا۔جب بیوی کی طبیعت خراب ہوئی، ایک مس کیریج ہوا،آشیانہ اڑا،دوبارہ آشیانہ بنا، اس سارے مرحلے میں یہ کہیں نظرنہیں آیا۔یہ نکھٹو سارے رابطے منقطع کرکے کاغان ناران کی طرف نکل گیا ہوگا۔یا نشوں تماشوں اور پارٹیوں میں مصروف ہوگا۔نوابوں کی طرح جب لوٹا ہوگا تو فاختہ نے لتر پولا کرکے گھر سے نکال دیا ہوگا۔
تحقیق کی تومعلوم ہوا کہ فاختہ کے مزاج میں تو تشدد سرے ہے ہی نہیں۔طبیعت میں یہ وردھمان مہاویرکی امتی ہے۔الجھنا اسکے مزاج میں نہیں ہے۔درگزر کرتی ہے آگے بڑھتی ہے۔دل کی جتنی حساس ہے طبیعت کی اتنی ہی نرم ہے۔اسکی اڑان اورآواز میں بھی ایک طرح کی نرمی ہے۔یہ گالی اوربد دعا بھی نہیں دیتی۔شاعری اور لوک کہانیوں میں بھی یہ امن کا استعارہ ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ فاختہ کو غصہ نہیں آتا۔بہت بھی غصہ آجائے تو تھوڑی بہت دھکم پھیل کرلیتی ہے۔انقلابی کارکن کی طرح کسی کا ناریل نہیں پھوڑتی۔یہ سارے حقائق سامنے آئے تو بدگمانی پر پشیمانی ہونے لگی۔ہم نے نرمادہ کے متعلق اپنی ساری ججمنٹس واپس لے لیں۔اسکو بیوی نے نہیں مارا ہوگا۔یہ بیچارا رات کی تاریکی میں حملہ آور ہونیوالے کسی بزدل دشمن سے لڑتے ہوئے زخمی ہوا ہوگا۔ہم نے دانہ پانی تو کرلیا، مگراندازہ ہوگیا کہ یہ ایمرجنسی کیس ہے، اسکی دوا دارو ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔اپنا علم تو سردرد بخارکی گولی پہ ختم ہے۔اب کیا کریں؟ہنگامی طبی امداد کیلئے وائلڈ لائف کو اس یقین کیساتھ رابطہ کیا گیا کہ رابطہ نہیں ہو پائے گا۔مگر پہلی ہی گھنٹی پر فون اٹھاکر ہمیں شک میں ڈال دیا کہ کہیں غلط نمبر تو نہیں ملا دیا؟ شک حیرت میں بدل گیا جب وائلڈ لائف کے اہلکار نے زخم کی نوعیت پوچھی، کیس کا اندراج کیا، ایڈریس مانگا اور کہا کہ ہم کچھ دیر میں کال کرتے ہیں۔کیا میں نے اعتبار کرلیا ہوگا؟ نہیں۔لیکن آپ یقین مانیں کچھ دیربعد انکی کال آگئی۔کہا، ہماری ٹیم یہاں وہاں مصروف ہے، کچھ ٹائم لگے گا مگر ہم اپنا بندہ آپکی طرف روانہ کردیں گے۔یہ کال اچھی لگی، وعدہ بھی اچھا لگا، مگر اللہ معاف کرے اعتبار اب بھی نہیں کیا۔کچھ دیر میں یہ سوچ کرہم نے نرفاختہ کو چھوڑ دیا کہ اسے فطری علاج کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ہم انسانی ہمدردی کے تحت اسکو لے تو آئے ہیں،مگریہ ہمدردی اسکی جان بھی لے سکتی ہے۔جس چیز کو ہم اپنے دماغی سانچے کے مطابق ہمدردی خیال کر رہے ہوتے ہیں وہ دوسرے کیلئے اذیت ہوسکتی ہے۔یہاں ہم نے فاختہ کو فطرت کے حوالے کیا وہاں وائلڈ لائف سے کال آگئی۔ماجرا سن کر انہوں نے کہا،ارے نہیں چھوڑنا تھا اسے۔ ٹریٹمنٹ ضروری تھی۔اس بات نے مجھے گھر میں ولن بنا دیا۔ہرآنکھ مجھے مجرم کی نظر سے دیکھنے لگی۔ اسے چھوڑنے کا افلاطونی مشورہ جو میرا تھا۔
شام کچھ ٹھنڈی ہوئی تو نرفاختہ واپس دروازے پرآگئی۔اس کا آنا بھی میرے لیے طنز بن گیا۔ہاں بھئی، ہوگیا فطری علاج؟ لوآگئی واپس۔اب بولو۔ارے مجھ پہ بعد میں ایف آئی آر کاٹ لینا، ابھی وائلڈ لائف والوں کو فون لگائو۔شام ہوچکی تھی مگر وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جواب آگیا۔صبح پہلی فرصت میں بندہ آپکی طرف آجائے گا۔ صبح ہوئی تو نرفاختہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی تھی۔گھر میں سوگواری کا ماحول بن گیا۔اب ایک پرندے کے مرنے پہ کیا ہی سوگواری مگر پھر بھی۔اتنا تعلق تو بن ہی گیا تھا کہ سمیہ ہاتھ آگے کرتی توہمت کرکے ہتھیلی پرچڑھ جاتی۔پھر گھوم پھر کر وہ ہمارے ہی دروازے پرآئی تھی۔کچھ تو تعلق تھا۔ابھی سوگ کا ہی ماحول تھا کہ وائلڈ لائف سے کال آگئی۔فاختہ کی موت کا سن کر اہلکار باقاعدہ دکھ میں شامل ہوگیا۔ سو سوری میڈم، بہت دکھ ہوا، معذرت کہ ہم وقت پر ریسکیو نہیں کرسکے،آپ نے دل بھاری نہیں کرنا،آپ سے جو ہوسکا آپ نے کیا۔
تھوڑے سے دکھ کو بڑی سی خوشی اور تسلی ہی کم کرسکتی ہے۔اس بات سے خوشی ہوئی کہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کا عملہ جنگلی حیات کو وقت پرریسپانڈ کررہا ہے۔اس بات سے تسلی ہوئی کہ عملہ جانتا ہے کہ کس طرح ریسپانڈ کرنا ہے۔یہ اتنی مزے کی بات ہے کہ دل کرتاہے پنکھے والے آشیانے میں اکیلی رہ جانے والی فاختہ کو بھی یہ بات کسی طرح بتائی جائے۔