• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر کہیں لوگ ہجوم میں پھنس جائیں تو عام طور سے انسانی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جیسے بھی ہو جلد از جلدیہاں سے نکلاجائے اور ہجوم کی آوازیں اور پکار اسی دشواری کے خاتمے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن مصلیٰ امام خمینی سے واپسی پر لوگ شہید بہشتی کی ایستگاہ (یعنی میٹرو ریلوے اسٹیشن) پر پھنس گئے اور گھنٹہ بھر گزر جانے کے باوجود میٹرو اسٹیشن میں داخلے کی راہ نہ ملی تو ہجوم میں بے طرح پھنسے ہوئے خواتین وحضرات اس صورتحال پر غم وغصے کا اظہار کرنے کے بجائے ’’اللہ اکبر‘‘ اور’’ مرگ بر…‘‘ کے نعرے لگانے لگے۔ اللہ اکبر کی تکرار کے بعد’’ اللہ اکبر: خامنہ ای رہبر‘‘ کہا جاتا ’’مرگ بر‘‘ کے الفاظ ادا کئے جاتے تو ہجوم جواباً ’’امریکا‘‘ یا ’’اسرائیل‘‘ کانام لیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہجوم میں شامل نوجوان لڑکیاں اور خواتین زیادہ تر پرجوش نعرے لگوا رہی تھیں۔ صرف یہی نہیں ان میں سے بیشتر نے اپنی کمر کے گرد اور کلائیوں پر فرینڈشپ بینڈز کی طرز پر ایران کا جھنڈا لپیٹ رکھا تھا، سینوں پر شہید رہبر کی تصاویر آویزاں تھیں اور انکا جوش وخروش دیدنی تھا ان کیساتھ بڑی عمر کی خواتین بھی پورے جوش و جذبے کیساتھ نعرے لگوا رہی تھیں۔ مصلیٰ کے اندر بھی ایسی ہی کیفیت تھی۔ ہر جانب سیاہ ملبوس دکھائی دے رہے تھے۔ ویسے بھی ایرانی عورت نہایت باشعور اور اپنے قومی مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور زندگی کی دوڑمیں کسی طرح مردوں سے پیچھے نہیں۔ یہی کیفیت ہم نے اس وقت دیکھی جب مصلیٰ جانے کیلئے ہم میٹرو اسٹیشن پر اترے تو بیک وقت دو تین ٹرینوں کی آمد سے اسٹیشن پر ایک جلوس کا سماں پیدا ہوگیا، میٹرو اسٹیشن کی راہداریاں لبالب ہجوم سے بھر گئیں اس ہجوم میں سیاہ برقعوں میں ملبوس خواتین جو اکثریت میں تھیں ،مسلسل نعرے لگوانے لگیں۔ لمحہ بہ لمحہ جوش وخروش میں اضافہ ہوتارہا یہاں تک کہ ہم مصلیٰ امام خمینی پہنچ گئے۔ یہ 63ہیکٹر (ایک ہیکٹربیس کنال کے برابر) پر پھیلا ہوا ایک عظیم الشان کمپلیکس ہے جو تہران میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے 1982ء میں تعمیر کیا گیا۔

یہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع تھے ،ان سب کے اوضاع سے اپنے راہ نما کیساتھ محبت وعقیدت ظاہر ہو رہی تھی۔ مصلیٰ کے مرکزی احاطے میں مرکزی گنبد کے سامنے شہید رہبر اور انکے خانوادے کے تابوت رکھے گئے تھے، ان تابوتوں میں چودہ ماہ کی بچی کا تابوت بھی تھا، منہ میں چوسنی لیے جسکی نہایت معصومانہ تصویر بھی دکھائی گئی تھی۔ اس احاطے کے اطراف میں شہیدرہبرکی نہایت بزرگ تصاویر آویزاں تھیں، تابوتوں کے سامنے ایک بڑے پردے پر سورئہ سباکی آیت 46لکھی ہوئی تھی جسکا مطلب ہے ’’کہہ دیجیے کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو ملکر یا تنہا تنہا کھڑے ہو جائو‘‘۔ یہاں جو لوگ کھڑے تھے ان میں سے اکثریت کے ہاتھوں میں خامنہ ای صاحب کی تصویریا ایران کا جھنڈا تھا۔ پرچم اور تصاویر اٹھانے میں بھی خواتین نمایاں تھیں۔ تابوتوں کے زیرسایہ اسٹیج سجایا گیا تھا جس پر کوئی میزبان اور اسکے ساتھی مسلسل سخن رانی اور دعاخوانی میں مصروف تھے اور اطراف میں بڑی بڑی اسکرینوں پر اسٹیج کی سرگرمیاں دکھائی جارہی تھیں۔ زائرین ہی سے نہیں ترانوں، دعائوں اور نعروں سے بھی مصلیٰ کا صحن بھرا ہوا تھا۔ ہر جانب ایک جذباتی فضا تھی، اگرچہ غم کی اس گھڑی میں بھی کسی بیرونی حملے کا امکان موجود تھا اور اس سلسلے میں دھمکیاں بھی مل چکی تھیں لیکن ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عوام نے ان دھمکیوں کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دی۔ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لائے ہوئے تھے۔ کچھ بچوں کی عمر ایسی تھی کہ انہیں ماں باپ نے اپنے کندھوں پر بٹھا رکھا تھا لیکن کچھ بچے اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں بچہ گاڑیوں (پرام) میں لایا گیا تھا۔ چونکہ موسم بہت گرم تھا اسلئے انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ پانی برسانے والے فوارے لگے ہوئے تھے جو مسلسل ٹھنڈا پانی برسا کر موسم کی شدت میں کمی کررہے تھے۔مصلیٰ کے برآمدوں کے ایرکنڈیشنڈ بھی اپنی پوری قوت کیساتھ سرد ہوائیں بکھیر رہے تھے، غالباً مجمع کی حفاظت اور جائزے کے نقطہ نظرسے آسمان پر ایک ہیلی کاپٹر مسلسل گردش کر رہا تھا۔ جگہ جگہ ٹھنڈے پانی وغیرہ کی بوتلوں کے اسٹال تھے جہاں سے بلاقیمت سامان خورونوش حاصل کیاجا سکتا تھا۔ مجمع کے بیچ میں بھی کچھ لوگ گھوم پھرکر پانی کی بوتلیں تقسیم کررہے تھے۔ میں نے دیکھا تو ان بوتلوں پر لگے کاغذ پر بڑے حروف میں’’یامظلوم‘‘ لکھا تھا اور ساتھ اس پانی کو ’’ستاداجرای فرمان حضرت امام‘‘ کی جانب سے ایک تحفہ قرار دیا گیا تھا۔ یہی نہیں جیسے جیسے دن ڈھلتا گیا زائرین کو پانی کیساتھ چائے اور کھانے پینے کی دیگر اشیا بھی تقسیم کی جانے لگیں۔ گویہ مجمع ایک جنازے کے گرد جمع ہونیوالے لوگوں کا تھا لیکن مجمع کی کیفیت کسی محاذ جنگ پرجمع ہونیوالوں کی سی تھی۔ غم واندوہ کااظہارتو لوگوں کی آہ وبکاسے ہورہاتھا لیکن اس کیساتھ جوش وجذبہ بھی دیدنی تھا۔ نعروں کی شدت اور ہجوم میں لمحہ لمحہ ہوتے اضافے سے شرکا کے جذبات کا اندازہ دشوار نہیں تھا۔ پورے شہرکی طرح یہاں بھی طرح طرح کے بینر لگے ہوئے تھے، راستے میں ہم نے ایک بینر اردو میں بھی دیکھا جس لکھا تھا ’’تہران میں خوش آمدید‘‘ اسے دیکھ کر ہم خوش ہوگئے۔ ایسی ہی خوشی اس وقت ہوئی جب میٹرو کے شہید بہشتی اسٹیشن پر جلوس باہر کی سمت مڑا تو وہاں ایک جانب راستے کی نشاندہی کرنیوالی تختی پر ’’خیابان پاکستان‘‘ لکھا ہوا تھا۔

بینرزکی عبارتیں ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتی ہیں یہاں ایک بینرکی عبارت قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ یہ بینر کئی جگہوں پر آویزاں تھا، اسکی عبارت تھی ’’انتقام ِخون ِامام ِشہیدِ مان چہ شد؟‘‘ ہمارے شہید امام کے خون کا انتقام کیا ہوا؟ یہ ایک سوال تھا جو معلوم نہیں حاضرین سے کیا گیا تھا یا حاضرین کی جانب سے کیا جا رہا تھا؟۔ اگلے دن جب صبح کو اخبارات آئے تو تہران ٹائمز نے جنازے پر جمع ہونیوالے لاکھوں افراد کی تصویرسے اخبار کا پہلا صفحہ مکمل بھرا ہوا دکھا کر اس تصویر پر لکھاMourners avengers یعنی انتقام لینے والے سوگوار، اسی طرح ایران کے قدیم اور اہم ترین اخبار کیہان انٹرنیشنل نے یہ شہ سرخی لگائی کہ Revenge. Revenge, Millions Chant for Retributionیعنی ’’انتقام انتقام: لاکھوں افراد کی جانب سے انتقام کا مطالبہ‘‘

تازہ ترین