• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد جموں و کشمیر ایک بار پھر انتخابی ماحول کی جانب بڑھ رہا ہے ایسے ہر انتخاب کے موقع پر یہ امید کی جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، ترقی، گڈ گورننس اور مسئلہ کشمیر کے سفارتی حل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گی۔ بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے ایسی فضا بھی دیکھنے میں آ رہی ہے جس میں سیاسی کشیدگی، احتجاج، اشتعال انگیز بیانات اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوششیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ اگر اس قسم کی سرگرمیوں کے پیچھے بیرونی مفادات یا ایسے عناصر کارفرما ہوں جو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہوں تو ان سے پوری سیاسی بصیرت اور قومی اتحاد کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔

کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور کروڑوں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی آزاد کشمیر میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ وہ قوتیں اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں جو مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے سے ہٹانا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی قوتوں پر لازم ہے کہ وہ اختلافات کو جمہوری حدود میں رکھیں اور کسی بھی ایسے بیانیے سے اجتناب کریں جو قومی مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ واضح اور دوٹوک رہی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عالمی فورمز پر جس جرات کے ساتھ کشمیری عوام کا مقدمہ پیش کیا، وہ آج بھی پاکستانی سفارت کاری کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے دونوں ادوار میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھی اور عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے مسلسل آگاہ کیا۔

آج صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اسی سیاسی اور سفارتی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے مختلف ادوار میں ہمیشہ کشمیر کو پاکستان کی قومی ترجیحات میں شامل رکھا اور اس مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل پر زور دیا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ اور بعد ازاں بھی بین الاقوامی فورمز، عالمی میڈیا اور سفارتی ملاقاتوں میں کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دینے سے ہو کر گزرتا ہے۔

پیپلز پارٹی کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو محض جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ مؤثر سفارت کاری، مضبوط معیشت اور سیاسی استحکام کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی ہمیشہ داخلی استحکام کو قومی سلامتی اور کشمیر کاز کی کامیابی کے لیے ناگزیر قرار دیتی رہی ہے۔

آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ یہاں کے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب صرف مقامی ترقی کے لیے نہیں بلکہ اس پیغام کے لیے بھی کریں گے کہ کشمیری عوام جمہوریت، آئین اور اپنے بنیادی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے وقت میں سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ نفرت، انتشار اور تصادم کی سیاست سے گریز کریں اور عوام کے سامنے اپنی کارکردگی اور مستقبل کا لائحہ عمل پیش کریں۔

اگر واقعی کوئی بیرونی طاقت یا اس کے حمایت یافتہ عناصر آزاد کشمیر میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق اس کا سدباب کریں اور حقائق کو شواہد کے ساتھ قوم کے سامنے رکھیں۔ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ طرز عمل ہی ملک اور کشمیر کاز دونوں کے مفاد میں ہے۔

پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ بندوق سے زیادہ مضبوط سفارت کاری، قومی اتفاق رائے اور عوامی طاقت سے جیتا جا سکتا ہے۔ اسی لیے پارٹی ہمیشہ پارلیمنٹ، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی نوجوان قیادت اور صدر آصف علی زرداری کا سیاسی تجربہ اس سفارتی جدوجہد کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ جمہوری شعور کا ثبوت دیا ہے۔ آنے والے انتخابات میں بھی امید کی جانی چاہئے کہ وہ ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں گے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کشمیر کاز، عوامی فلاح اور پاکستان کے قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ یہی راستہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔

تازہ ترین