• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحبو، خاموشی کے منطقے پر بات کرنا چاہی تھی۔ آواز خاموش کر دی گئی۔ کنگ لیئر نے سوال اٹھا یا تھا۔ Why should a dog, a horse, a rat have life and thou no breath at all? لیئر کے سوال کا جواب بھی چند مکالموں کے فاصلے پر دستیاب ہے۔ The weight of this sad time we must obey / Speak what we feel, not what we ought to say. ہماری ادبی روایت میں انتظار حسین کا ناول بستی وہی مقام رکھتا ہے جو ایک منافقت زدہ اور تقدس مآب معاشرے میں نتھینیئل ہاتھورن کے ناول Scarlet Letter کو حاصل ہے۔ انتظار حسین کے ناول کا آخری جملہ تو بہر صورت دہرایا جا سکتا ہے۔’بشارت ایسے ہی وقت میں ہوا کرتی ہے، جب چاروں طرف … کہتے کہتے رکا۔ پھر سرگوشی میں بولا: یہ بشارت کا وقت ہے‘۔ انتظار حسین اور ان کی بن لکھی رزمیہ کا المیہ تو ہماری نسل نے اپنی ہڈیوں پر بھوگا ہے۔ ہماری روایت تو میر انیس تک جاتی ہے۔ ایسے ہی کسی زمانے میں کہ جان عالم واجد علی شاہ وطن بدر ہو کر کلکتے کے مٹیا برج میں قید تھے، لکھنو میں میر انیس نے لکھا تھا،’کبوتر غرقِ خوں دیوارِ صغرا پہ جو آ بیٹھا/ پکاری ان دنوں لوگو، مرے بابا وطن میں تھے‘۔ صاحبان قلمی احتساب سے گزارش ہے کہ واللہ لمحہ موجود کے منظر نامے کے بیان سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ کسی بامِ بلند و کاخِ ارجمند کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ واللہ حضور! زنہار ایسا نہیں ہے۔ ایک واقعہ سنیے۔

1979 ءکے اواخر دن تھے۔ مرد مومن، مرد حق نے دوسری مرتبہ عام انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرکے تمام سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اخبارات پر پری سنسرشپ مسلط کر دی تھی اور اعلان کیا تھا کہ مارشل لا پوری قوت سے نافذ کیا جائے گا۔ نذیر ناجی مرحوم ملک غلام جیلانی کا انٹرویو کرنے ان کی گلبرگ رہائش گاہ پر پہنچے۔ نذیر ناجی اقتدار کی غلام گردشوں کے قدیمی محرم راز تھے۔ ایک Know all مسکان سے سوال کرتے تھے۔ ناجی صاحب نے پوچھا ۔ ملک صاحب سیاسی جماعتیں تو جنرل صاحب نے کالعدم قرار دے دیں۔ اب آپ کیا کریں گے۔ زی جنریشن کے ہمہ دان عبقریوں کی اطلاع کے لیے وضاحت کر دوں کہ ملک غلام جیلانی قائداعظم کے متحدہ پاکستان کے دم توڑتے آخری ایام میں مغربی پاکستان عوامی لیگ کے صدر رہے تھے نیز عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی کے والد محترم اور مولانا صلاح الدین احمد کے داماد تھے۔

ملک غلام جیلانی نے ناجی صاحب کا سوال سنا اور ایک عالم بے نیازی میں سفید کرتے کی آستین لہراتے ہوئے جواب دیا ۔’ناجی صاحب، ہم نئے کالعدم ہونے والوں میں سے نہیں۔ہمیں تو یحییٰ خان نے 26مارچ 1971 کو بین کیا تھا۔ ہم نے یحییٰ خان کو بھی بھگت لیا ۔ ان کے جانشین بھی دیکھ لیے۔ ہم موجودہ آزمائش سے بھی نمٹ لیں گے‘۔ملک غلام جیلانی ہی کے اتباع میں بے خبر صحافی عرض کرتا ہے کہ ہم نئے منحرف اور اختلافی نہیں ہیں۔ ہم نے بھٹو شہید کی جمہوریت بھی دیکھی ، جنرل ضیاالحق کے نفاذ اسلا م کا بار بھی اٹھایا۔ نوے کی دہائی میں اقتدار کی طوائف الملوکی ملاحظہ کی ۔ پرویز مشرف کی معتدل روشن خیالی کے منطقہ تاریک سے گزرے۔ نئے پاکستان کی نمود دیکھی اور اس خواب نیم روز کا انجام بھی دیکھا۔

ہم نئے انقلابی نہیں ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ روز سوشل میڈیا پر کچھ بے باک اور شوخ چشم صحافیوں کے وی لاگ ملاحظہ کیے ۔ کوئی فارغ البال امریکا میں بیٹھا ہماری ذلت کے محاذ کی نامہ نگاری کر رہا ہے ۔ کوئی باریش لندن کی خنک فضائوں سے نامہ و پیام کر رہا ہے۔ ایک صاحب کل تک ہماری زمین پر راج ہنس کی طرح سے قدم دھرتے، ہمارے سینوں پر مونگ دلتے تھے ۔ حال مقیم امریکا ہیں اور بزبان پنجابی ہماری تعلیم فرماتے ہیں۔ ادھر وطن عزیز میں ایک خودساختہ تقدس مآب جہلم کی رومان پرور دھرتی پر مقیم ہیں ۔ اپنے اسم گرامی کے ساتھ التزاماًانجینئر لکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں یاد نہیں رہا کہ ماہر طب کی طرح انجینئر کا سابقہ کس زمانے میں بام بلند سے موسوم ہوا۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں سے تلمذ پر غرہ کرنے والے کس دولت مدار کااثاثہ البیت تھے۔ درویش نے ان احباب کے باخبربیان سماعت کرنے میں کچھ راتیں صرف کی ہیں۔ ان صاحبان کے نکتہ ہائے دقیق سے بیسویں صدی کی سیاسی مفکر Hannah Arndt کی وضع کردہ ترکیب Banality of Evil یاد آگئی۔ Hannah Arndt نے 1961میں یروشلم میں معروف نازی لیڈر Adolf Eichman پر چلائے گئے مقدمے کی جریدہ نیویارکر میں روداد لکھی تھی اور یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ بدی کی بدترین شکل اس کے کرشمے اور تام جھام میں نہیں اس کی بدذوقی اور بے تہ ذہنیت میں رونمائی دیتی ہے۔ ہولوکاسٹ کا معمار ایڈولف آئخ مین کوئی اعجاز صفت فکری رہنما نہیں تھا اور نہ اس کی اپنی کوئی سوچ تھی۔ وہ ایک بڑے نظام کا خودکار پرزہ تھا جو اپنا تنقیدی شعور ، طاقت اور اختیار کی دہلیز پر رہن رکھنے کے لیے آمادہ تھا۔ اس بے ہودگی ہی سے تاریخ انسانی کے ایک المناک باب نے جنم لیا۔ آئی خمن بذات خود برائی کا منبع نہیں تھا ۔ وہ ایک برے بندوبست کی پیداوار تھا اور وقتی مفاد کے لیے بڑھ چڑھ کر برائی کا جھنڈا ٹھانے پر قادر تھا۔ صاحب ہم نے اس ملک میں اچھے اور برے ہر طرح کے زمانے دیکھے ۔ دو عذاب ہم پر ایسے اترے کہ ان کا زہر ہماری رگوں میں اتر گیا۔

گورا صاحب ہمیں معیاری اور قابل مسابقت تعلیم کا نظام دے گیا تھا۔ ہم نے اس پر 1959ء میں ’شریف تعلیمی کمیشن‘ کا خنجر چلایا۔ اس سے ہماری تمدنی رگوں میں دوڑتا جیتا جاگتا لہو رزق خاک ہو گیا۔ بیس برس بعد 1979ءمیں ہم پر جماعت اسلامی کی مہربانی سے محمود اعظم فاروقی نازل ہوئے ۔ سلیم احمد ان کے ہم رکاب تھے۔ فاروقی صاحب کی تعلیمی بصیرت کا منتہی درجہ ـمذہبی تعلیمات کا فروغـ تھا۔ ہمارے اساتذہ شریف کمیشن کی گزیدہ نسل تھے اور ہمیں محمود اعظم فاروقی کی قیمہ کرنے والی مشین سے نکلے اذہان کی غرابت اور سطحیت سے واسطہ ہے۔ ہم اجتماعی طور پر دلیل سے بے خبر اور عقل سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔ ہم Hannah Arndt کی Banality of Evilکے نقش اول میں ڈھل چکے ہیں۔ یہ بشارت کا وقت ہے...

تازہ ترین