• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جارجیا میلونی ایک اچھی شخصیت ہیں: ٹرمپ کا یوٹرن

—تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی سے حالیہ سفارتی تنازع نرم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دراصل ایک اچھی شخصیت ہیں۔

امریکی صدر نے ترک صدر اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اگرچہ میرے اور میلونی کے تعلقات میں کچھ تلخی پیدا ہوئی تھی، تاہم میں اب بھی انہیں ایک اچھی شخصیت سمجھتا ہوں۔

ٹرمپ نے کہا ہے  کہ ہمارے تعلقات خراب ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے ہماری مدد کرنے سے انکار کیا، وہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوئیں، مجھے اس بات پر مایوسی ہوئی، لیکن میں انہیں پسند کرتا ہوں، وہ واقعی ایک اچھی شخصیت ہیں، البتہ میرے خیال میں انہوں نے غلط فیصلہ کیا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت لفظی تنازع دیکھنے میں آیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جارجیا میلونی نے جی 7 اجلاس کے دوران میرے ساتھ تصویر بنوانے کی منت کی تھی اور میں نے صرف ہمدردی کی وجہ سے اس کی اجازت دی تھی۔

میلونی نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے مؤقف کا دوبارہ دفاع کیا۔

تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں میلونی کو ان کی طرف عقیدت سے دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ تصویر کے ساتھ Restraining Order Needed کا جملہ بھی درج تھا۔

منگل کو ٹرمپ کا لہجہ پہلے کے مقابلے میں نرم دکھائی دیا، انہوں نے ایک بار پھر یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات پر مایوسی ہے کہ یورپی اتحادیوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھرپور کردار ادا نہیں کیا۔

واضح رہے کہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس سے قبل ٹرمپ مسلسل یورپی رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں، جبکہ اتحادی ممالک بھی اجلاس میں دفاعی بجٹ میں اضافے کو نمایاں کر کے واشنگٹن کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید