• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدیوں کی گردش میں تاریخ نے بے شمار سلطنتوں کو عروج و زوال کے درمیان گم ہوتے دیکھا ۔ کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو زمانے کے حافظے سے کبھی محو نہیں ہوتے۔ یہ کسی فاتح کی تلوار سے وابستہ ہوتے ہیں نہ کسی شکست خوردہ قوم کے نوحے سے۔یہ براہِ راست انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ آنے والی نسلیں جب ماضی کے اوراق پلٹتی ہیں تو انہیں ان واقعات میںفقط سیاست یا جنگ دکھائی نہیں دیتی بلکہ وہ اپنے عہد کے انسان کی اخلاقی قامت بھی ناپتی ہیں۔اکیسویں صدی کو انسانی ترقی کی صدی کہا گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب انسان نے ستاروں تک رسائی حاصل کی، مصنوعی ذہانت کو جنم دیا، سمندروں کی تہوں میں اتر گیا اور کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے لگا۔ حیرت اس بات پرہےکہ اسی عہد میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ایسا بھی ہے جہاں انسان اب بھی زندگی کی سب سے بنیادی نعمت یعنی محفوظ رہنے کے حق کیلئے ترس رہا ہے۔ یہ خطہ غزہ ہے۔جو اب صرف جغرافیہ نہیں،عالمی ضمیر کی آزمائش بن چکا ہے۔کسی مورخ کو آنے والے زمانوں کیلئے اس عہد کی ایک علامتی تصویر منتخب کرنا ہو تو شاید وہ کسی خلائی جہاز، کسی جدید شہر یا کسی سائنسی کارنامے کی تصویر نہ چنےگا ۔وہ ایک ایسی ماں کی تصویر محفوظ کرے گا جو ملبے کے ڈھیر پر بیٹھی اپنے بچے کے بے جان جسم کو سینے سے لگائے آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور ہیں لیکن ان آنسوؤں سے کہیں زیادہ ایک ایسا سوال ہے جسکا جواب ابھی تک پوری دنیا نہیں دے سکی۔انسانی المیے کی سب سے بڑی علامت خون نہیں وہ خاموشی ہوتی ہے جو خون بہنے کے بعد دنیا پر طاری ہو جاتی ہے۔ جب چیخیں معمول بن جائیں، لاشیں اعداد و شمار میں تبدیل ہو جائیں اور المیے روزمرہ خبروں کا حصہ بن جائیں تو سمجھ لیجیے کہ خطرہ صرف ایک شہر کو نہیں پوری انسانیت کے اخلاقی شعور کو لاحق ہو چکا ہے۔ہالی وڈ کی معروف اداکارہ اور انسان دوست کارکن انجلینا جولی نے جب ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (میڈیسنز سانس فرنٹیئرز) کی وہ رپورٹ دنیا کے سامنے رکھی، جس میں غزہ کو "اجتماعی قبرستان" قرار دیا گیاتو دراصل یہ ایک رپورٹ کی تشہیر نہیں تھی۔ انسانی ضمیر کو آئینہ دکھانے کی کوشش تھی۔ اس آئینے میں صرف غزہ نظر نہیں آتا اس میں پوری دنیا کا چہرہ بھی دکھائی دیتا ہے۔رپورٹیں اعداد بیان کرتی ہیں۔ اعداد کبھی درد کی مکمل کہانی نہیں سناتے۔ ہر ہندسہ یوں تصور کریں ایک انسان ہے، ہر انسان ایک خاندان ہے، ہر خاندان ایک دنیا ہےاور ہر دنیا اپنے ساتھ بے شمار خواب، امیدیں، محبتیں اور دعائیں لے کر بکھر جاتی ہے۔ غزہ کے بچےدنیا کے وہ بچے ہیں جنہوں نے کتابوں سے پہلے خوف پڑھا، کھلونوں سے پہلے ملبہ دیکھااور لوریوں سے پہلے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ انکی آنکھوں میں اب بھی خواب ہیں مگر ان خوابوں پر راکھ کی ایک دبیز تہہ جم چکی ہے۔اقوامِ متحدہ کے حالیہ اندازوں کے مطابق غزہ میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ بڑی تعداد عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہی ہے جہاں صاف پانی، خوراک، ادویات اور بنیادی طبی سہولتوں کی شدید کمی ہے۔ گنجان آبادی، ناکافی صفائی اور محدود وسائل کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک انسانی بحران نہیں انسانی وقار کا بھی امتحان ہے۔دنیا کے مختلف حصوں سے انسانی ہمدردی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ امدادی ادارے شہریوں، طبی عملے اور امدادی کارکنوں کے تحفظ اور متاثرہ آبادی تک بلا رکاوٹ امداد کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مطالبات کی بنیاد کسی سیاسی وابستگی پر نہیں اس اصول پر ہے کہ ہر بے گناہ انسان کی جان یکساں حرمت رکھتی ہے۔بلا شبہ تہذیب کی اصل عظمت طاقت کے اظہار میں نہیں کمزور کی حفاظت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا واقعی انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو ان اصولوں کا اطلاق ہر انسان پر یکساںہوناچاہیے۔ انسانی جان کی قدر سرحدوں، زبانوں اور قومیتوں کے ساتھ تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔بہرحال تاریخ کی عدالت بہت خاموش ہوتی ہے۔اس کے فیصلے بہت دیرپا ہوتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ کس کے پاس زیادہ ہتھیار تھے یا کس کے پاس زیادہ طاقت۔وہ صرف یہ لکھتی ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں کس نے انسانیت کا ہاتھ تھاما اور کس نے خاموشی اختیار کی۔آج غزہ خطہ نہیں ایک سوال ہے۔ ایسا سوال جو ایوانوں، عدالتوں، اداروں، دانش گاہوں اور ہر صاحبِ ضمیر انسان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔وقت گزر جائیگا، ملبہ کبھی نہ کبھی ہٹ جائیگا، نئی عمارتیں بھی تعمیر ہو جائینگی لیکن جن گھروں کے چراغ بجھ گئے، جن ماؤں کی گودیں خالی ہو گئیں، جن بچوں نے اپنے خواب کھو دیےان کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

تازہ ترین