• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی برآمدات گزشتہ کئی سال سے انجماد کا شکار ہیں اور گزشتہ مالی سال کے دوران بھی برآمدات کا مجموعی حجم 30 ارب ڈالر رہا جو حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے بھی پانچ ارب ڈالر کم ہے۔ برآمدات میں اس کمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سال 26-2025 کا سالانہ تجارتی خسارہ سات ارب ڈالر کے اضافے سے 39.5 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر جو برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے وہ پیداواری لاگت میں اضافے کے سبب سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اس حوالے سے بجلی کی قیمت اور فراہمی کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ یہ مسئلہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب مزید سنگین ہو گیا تھا اور ایران و امریکہ میں جنگ بندی کے معاہدےکے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واپس اس سطح پر نہیں آئیں جہاں جنگ سے پہلے تھیں۔ ان حالات میںبرآمدی صنعتوں کی پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جبکہ دوسری طرف بجلی کی فراہمی میں تعطل اور غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری بھی انڈسٹری کی مجبوری بن چکی ہے۔ دریں حالات یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مجموعی برآمدی استعداد کسی طرح بھی 25 ارب ڈالر سے کم نہیں جسے با آسانی 30 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ وقتی اقدامات کی بجائے بنیادی اصلاحات کرکے طویل المدت پالیسی تشکیل دی جائے۔ حالیہ وفاقی بجٹ میں اگرچہ حکومت نے اس حوالے سے کچھ مثبت اقدامات کئے ہیں لیکن ضرورت ان اقدامات کا تسلسل برقرار رکھنے کی ہے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ برآمدی شعبے کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے توانائی کے نرخوں کو خدمات کی لاگت کی بنیاد پر خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگ کیا جائے اورصنعتوں پر نافذ ہر قسم کی کراس سبسڈیز ختم کی جائیں۔ علاوہ ازیں صنعتی صارفین کیلئے بجلی اور گیس کے استعمال پر ’’پیک آورز‘‘ کی پابندیاں بھی نہیں ہونی چاہیے بلکہ انڈسٹری کو سولر انرجی یا دیگر ماحول دوست توانائی کے ذرائع پر منتقل ہونے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں تاکہ انڈسٹری کو عالمی منڈیوں بالخصوص یورپی ممالک کی طرف سے برآمدات پر نافذ کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے مقررکردہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح گیس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی کو ختم کرنے بھی ضروری ہے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے "کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور" بنیادی ضرورت ہے۔اسی طرح صنعتوں کو فراہم کی جانیوالی بجلی کے نرخوں میں شامل کراس سبسڈیز کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت صنعتی صارفین کا ٹیرف اصل قیمت کے مقابلے میں تقریباً چار روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ زیادہ ہے جسکی وجہ سے انڈسٹری کو سالانہ تقریباً 55 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ صنعتوں کو فراہم کی جانے والی بجلی کی اصل قیمت وصول کرنے کی بجائے اضافی ریٹ کا نفاذ اس لئے بھی درست نہیں کہ زیادہ وولٹیج والے صارفین کو کم ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی افسوسناک ہے کہ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک استعمال نہ کرنیوالے صنعتی صارفین سے بھی بجلی کی تقسیم پر آنیوالی لاگت وصول کی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ زیادہ کھپت والے شعبوں کو کم نرخوں پر یوٹیلٹی سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے الٹا اصول اختیار کیا ہوا ہے اور انڈسٹری کیلئے مختص بجلی کا 62 فیصد سے زائد استعمال کرنے والے1 .2فیصد صارفین کو امتیازی طور پر زیادہ ٹیرف چارج کیا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی ناصرف صنعتوں کی مسابقت اور برآمدی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے بلکہ اسکی وجہ سے صنعتی پیداوار میں اضافے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت سروس ٹیرف کی حقیقی لاگت کے فریم ورک کو لاگو کرکے اس دیرینہ بے ضابطگی کو ختم کرے۔ ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ حکومت کی برآمدات بڑھانے کی پالیسی کو کامیاب بنا سکیں لیکن اس کیلئے منصفانہ انرجی ٹیرف ضروری ہے۔ اس طرح ناصرف ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی مسابقت میں اضافے سے برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ ملک میں نئی سرمایہ کاری سے روزگار کی فراہمی میں اضافے سے معیشت کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کیلئے ملک میں فوری طور پر ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ طویل المدت بنیادوں پر معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے حالیہ بجٹ اور گزشتہ کچھ عرصے میں اس حوالے سے جو سنجیدہ اقدامات کئے ہیں ان سے ناصرف انڈسٹری کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ برآمدی منڈیوں میں پاکستانی برآمدکنندگان کی مسابقت میں بھی کسی حد تک بہتری آئی ہے۔ تاہم انڈسٹری کیلئے پیداواری لاگت میں اضافے کا چیلنج اب بھی برآمدات بڑھانے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر سیاسی حالات بھی غیر یقینی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے برآمدی آرڈرز کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں برآمدی صنعتوں کو درپیش مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور روزگار کی فراہمی بڑھانے کیلئے لوکل انڈسٹری کو بھی سہولت ملنی چاہیے۔ اس سے ناصرف لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہو گا بلکہ مجموعی قومی پیداوار بڑھنے سے ترقی کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔

تازہ ترین