آج سے ہزاروں سال پہلے موجودہ پاکستان کے تاریخی شہر ٹیکسلا کے قدیم مہان فلسفی چانکیہ نے کہا تھا کہ تکبر انسان کو اندھا کر دیتا ہے، ہٹ دھرمی غلط فیصلے کرواتی ہے اورپھر غلط فیصلے تباہی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔آج اکیسویں صدی میں جب ہم اپنے ارد گرد نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ غرور، جارحانہ رویہ اور غیر دانشمندانہ فیصلے وقتی جوش وجذبہ تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن دیرپا کامیابی ہمیشہ تدبر، سفارت کاری اورافہام و تفہیم ہی سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان نے طاقتور پڑوسی کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا کر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کی کلیدی اہمیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کچھ عرصے بعد جب ہمارے دوسرے پڑوسی کو بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان نے عالمی امن کو فروغ دینے کی خاطر اپنے سفارتی روابط کو وسعت دی، علاقائی اور عالمی فورمز پر مؤثر کردار ادا کیا اور اپنی کامیاب ثالثی سے ثابت کردکھایا کہ عالمی امن اور علاقائی استحکام کیلئے پاکستان ایک ناگزیر حقیقت ہے۔پاکستان کو سفارتی تنہائی میں مبتلا کرنے کا خواب دیکھنے والے جب خود تنہائی کا شکار ہوگئے توپھر بھی ہٹ دھرمی کا رویہ ترک نہ کرسکے اور قدرت کے عظیم تحفے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرنے لگے، مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کےجارحانہ بیانات نےخطے کی سلامتی کیلئے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام مہذب قوموں کی پہچان ہوتا ہے، پانی کو سیاسی ہتھیار بنانا نہ صرف خطے کے امن بلکہ بین الاقوامی قوانین کی روح کے بھی منافی ہے۔اس حوالے سے پاکستان کے بہادر، دلیر اور دبنگ چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےحالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح پیغام دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے جرات مندانہ مؤقف اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سلامتی اور قانونی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ایک ایسے وقت پر جب ہمارے پڑوس میں مودی سرکار نفرتوں اور تلخیوں کو بڑھاوا دینے کی تاریک راہ پر گامزن ہے، دونوں ممالک کی سول سوسائٹی نے امید کا نیا دِیا روشن کرنے کی کوشش کی ہے، حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والے117 نمایاں دانشوروں،ادیبوں، سابق سفارت کاروں، سیاست دانوں، فنکاروں اور سماجی رہنماؤں کی جانب سے دونوں پڑوسی ممالک کے وزرائے اعظم کے نام ایک مشترکہ خط منظرعام پر آیا ہے، جس نے سرحد کے آرپار دونوں ممالک کے میڈیا
میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، خط میں اپیل کی گئی ہے کہ دوطرفہ مذاکرات بحال کیے جائیں، مکمل سفارتی تعلقات معمول پر لائے جائیں، ویزہ سروس بحال کی جائے، دوطرفہ تنازعات کے حل کیلئے ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جائے، فضائی روابط اور عوامی سفر پر سے پابندیاں ختم کی جائیں، دوطرفہ تجارت اوراقتصادی تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ماضی میں جب کبھی دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے، میں نےہمیشہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ، میرا ماننا ہے کہ سرحد کے دونوں پاربےشمارخاندان اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ترس رہےہیں، ہمارے پڑوس میں بسنے والا اگر پاکستان میں واقع ہندو، جین، سِکھ اور بدھ مت کے مقدس مقامات کی یاترا کرنا چاہتا ہے تو پاکستان سےبھی بھارت میں واقع مسلم مقدس مقامات کی زیارت کی خواہش رکھنے والوں کی کمی نہیں ۔ اگر فیملی ویزا میں آسانی پیدا کی جائے، مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جائے، سرحدی گزرگاہوں کو نرم بنایا جائے، تجارتی تعلقات کو بحال کیا جائے اور عوامی روابط میں اضافہ کیا جائے تو نفرت کی دیواریں آہستہ آہستہ کم ہو سکتی ہیں۔تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارا پڑوسی یہ حقیقت تسلیم کرے کہ پاکستان ایک خودمختار، ذمہ دار اور اہم علاقائی ریاست ہے۔ برابری، احترام اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ہی پائیدارامن کی بنیاد بن سکتی ہے، ایک اچھے ہمسائے کی طرح رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کو جائز مقام اور احترام دینا پورے جنوبی ایشیا کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ پاکستان کی عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر سفارتی پذیرائی اور مودی سرکار کی بوکھلاہٹ سے چانکیہ کی دانائی آج بھی سچ
ثابت ہوتی ہے کہ تکبر اورغلط فیصلے قوموں کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ دانشمندانہ اور ذمہ دارانہ رویہ عالمی برادری کی نظر میں اہمیت عطا کرتا ہے۔